سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ

احتیاطی اقدامات

پروڈیوسر ڈائریکٹر ٹونی بل نے دنیائے تحریر یا صحافت سے کچھ ایسے نئے لکھاری دریافت کیے ہیں جو ہالی ووڈ کے بڑے بڑے ناموں پر حاوی ہیں۔ ان میں ٹیرنس (Terrenc Malick)ہے جس نے The Thin Red Lineلکھی، پال (Paul Schoader) جس نے Taxi Driverلکھی، کرٹس (Curtis Hanson) ہے جس نے La Confidential   اور جان پیٹرک  (John Patrick) نے Moonstruck جیسی شہرہ آفاق کہانیاں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس فہرست میں کئی بہت سے نام شامل ہیں کہ جن کا تذکرہ اس بحث کو بہت طویل کر دے گا۔

بل نے ان نئے لیکن بے حد اچھے لکھاریوں کو جن خصوصیات کی بنا پر منتخب کیا، انہیں سمیٹتے ہوئے انہوں نے بارہ نکات پر مشتمل ایک رہنمائی گائیڈ لائن مرتب کی ہے جو نئے لکھاریوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اپنا سکرپٹ مناسب ہاتھوں میں دینے سے پہلے ان نکات پر عمل ضروری ہے۔

بل کا کہنا ہے کہ جو لکھاری ان سادہ لیکن بے حد قیمتی آرا کو مدِّنظر نہیں رکھے گا وہ نقصان اُٹھائے گا۔ یہ بے حد بنیادی اصول ہیں جو معمولی ہوتے ہوئے بھی بے حد اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ کسی بھی پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کی نظر پہلے انہی خامیوں پر جاتی ہے۔ آپ میں سے اکثر لکھاری ان باتوں میں سے کچھ سے اگرچہ آشنا ہوں گے مگر پھر بھی آپ کی رہنمائی کے لیے 12 اصول دینے جا رہے ہیں کہ سکرپٹ جمع کرانے سے پہلے دیکھ لیں کہ آپ درست سمت میںجا رہے ہیں۔ آپ کا سکرپٹ پسندیدگی کی نظر پائے گا کہ ردی کی ٹوکری کا منہ دیکھے گا۔

(1)  فینسی فائل کور مت استعمال کریں

مسودہ فائنل کرنے کے بعد اس کے لیے کوئی سادہ سا فائل کور منتخب کیجیے نہ کہ مرصع و مرقع یا پھول بوٹوں والا اور نہ ہی اس پہ کو ئی عبارت یا دیگر سجاوٹ ہو۔

یہ بھی خیال رکھیں کہ فائل کور نرم ہو، تاکہ آسانی سے موڑا اور گول کیا جا سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ پروڈیوسر اس مسوّدے کو کسی بھی وقت (کام کے دوران بھی مثلاً چلتے پھرتے یا گاڑی میں یا چائے پیتے ہوئے بھی) آسانی سے ساتھ رکھ سکتا ہے اور گاہ بہ گاہ تحریر پر بھی نظر ڈالتا رہتا ہے۔ اگر فائل کور سخت پلاسٹک کا ہو گا تو مسودہ پڑھنے کے لیے پروڈیوسر کو الگ سے وقت درکار ہو گا۔ جو ممکن نہیں اور اس طرح آپ کا مسودہ نظر انداز ہوتے ہوتے ردی میں شامل ہو جائے گا۔ 

سفید صفحات پر لکھے کئے مسودے کو تین متوازن جگہوں سے اس طرح پنچ کیجیے کہ صفحات عمدہ طریقے سے قابو میں رہیں۔ پنچ شدہ سوراخوں میں ڈالی گئی ڈوری کو تھوڑا ڈھیلا رکھیں تاکہ ورق آرام سے پلٹا جا سکے۔ مسودے کے شروع میں ایک سادہ صفحے پر آپ خوش خطی سے مسودے کا عنوان اور اپنا نام لکھ سکتے ہیں۔ اس لکھائی کے لیے آپ کالا پن استعمال کیجیے۔

(2)  کردار اُجاگر نہ کریں

کبھی بھی یہ کوشش نہ کریں کہ مسودے میں موجود کرداروں سے متعلق تفصیل دیں۔ آپ کا مسودہ پڑھنے پر کردار خود ہی اپنا تعارف کروائیں گے اور بہتر انداز میں کروائیں گے۔ آپ کا یہ عمل آپ کی کوشش پر منفی اثر ڈالے گا۔

(3)  ٹائٹل پیج سادہ بنایئے

اپنے مسودے کے ٹائٹل پیج کو زیادہ سے زیادہ سادہ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ صفحے کے درمیان میں مسودے کا عنوان لکھئے، صفحے کے نیچے دائیں جانب اپنا نام،رابطہ نمبر اور پتا تحریر کیجیے۔ رابطہ نمبر یا فون نمبر ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر تو آپ کا مسودہ بک چکا ہے تو اسے پروڈویوسر کے حوالے کرنے سے پہلے اس پر تاریخ ڈالئے وگرنہ تاریخ کہیں درج نہ کیجیے۔ کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ مسودے کس رفتار سے ”پرانے” ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صفحات پر نمبر بھی نہ ڈالیے۔

ایک اور اہم بات کہ کبھی بھی پہلی بار کا لکھا ہوا مسودہ آگے نہ بھیجیں۔ ہمیشہ تیسری یا چوتھی بار تحریری دہرائی کے بعد ہی مسودہ بھیجیں تاکہ وہ خوش خط اور اغلاط سے پاک ہو۔ املا یا الفاظ کی غلطیاں بھی تحریر کا تاثرغلط کر ڈالتی ہیں۔

(4) اداکاروں کا چنائو

اپنی کہانی یا مسودے کی مناسبت سے اداکاروں کا چنائو آپ کی ذمے داری نہیں۔ ایسا کرنے پر پروڈیوسر یا ڈائریکٹر اسے اپنے کام میں دخل اندازی تصور کریں گے۔ آپ کی کہانی کے کردار، خود اپنے لئے بہتر چنائو کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

(5)  کہانی کا خاکہ

کبھی بھی اپنی کہانی کا خاکہ یا مختصر تعارف اس کے ساتھ نتھی نہ کیجیے۔ اس طرح آپ کی کہانی کا تعارف پہلے ہی چند سطروں میں ہو جائے گا اور پروڈیوسر آپ کی کہانی پڑھنا گوارا نہ کرے گا۔ پوری کہانی پڑھنے پر ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی بات اُس کے دل کو لگ جائے جو آپ خاکے میں واضح نہ کر سکے ہوں۔ لہٰذا پروڈیوسر کو گائیڈ لائن نہ دیجئے۔

(6)  کور لیٹر کو درخواست نہ بنائیں

کور لیٹر، موٹی ویشن لیٹر یا موٹی ویشنل لیٹر دراصل تعارف ہوتا ہے جو مطلوبہ مقصد کے اظہار کے لئے لکھا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ ملازمت کی درخواست کے ساتھ بھی ایک کور لیٹر درکار ہوتا ہے۔ ویسا ہی یہ کور لیٹر ہے جو مصنف اپنی تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے تو بعض مصنف کور لیٹر میں اپنی تحریر کی سفارش کرتے نظر آتے ہیں۔ درخواست گزار ہوتے ہیں کہ ان کہانی میں اگر کوئی غلطی ہو تو صرفِ نظر کر دی جائے اور پلیز اس تحریر کو دھیان سے پڑھا جائے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ اپنی تحریر کو منظور نہیں بلکہ نامنظور کروانے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ کور لیٹر کو ہمیشہ باوقار  انداز میں لکھیں۔

(7)  تکنیکی اور کیمرے سے متعلق ہدایت سے بھی نہیں

یہ ڈائریکٹر کا کام ہے جس میں دخل اندازی آپ کا تاثر خراب کر سکتی ہے۔ مسودہ لکھنے کے دوران مختلف مناظر کے ساتھ اس طرح کی ہدایات کہ ”قریب سے دکھائیں”، ”اس زاویئے سے دکھائیں”، ”اس منظر کے دو سین بنائیں” یا اس طرح کی دیگر ہدایات ڈائریکٹر کو بارِ خاطر گزریں گی اور وہ چڑ جائے گا ۔ یوں نادانستگی میں آپ اپنا نقصان خود ہی کر بیٹھیں گے۔ کیوںکہ ہدایت کار کیوں چاہے گا کہ وہ کسی اور سے ہدایات لے؟ لہٰذا آپ سیدھے سادے طریقے سے اپنا مسوّدہ مکمل کیجئے۔ 

(8)  کرداروں کے لہجے نہ متعین کیجئے

اپنے مسودے میں ناراضی، حیرانی یا خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کے ساتھ یہ مت لکھئے کہ کردار نے اسے کیسے بولنا ہے۔ آواز بلند رکھنی ہے کہ پست یا اگر آپ نے اوہ، افوہ یا وائو جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں تو کردار کو بھی وہی بولنا لازم ہے۔ ایسی شرط باندھنا بالکل غلط ہے۔ ایکٹر کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے جس میں وہ بہتر طورپر الفاظ کی ادائی کر سکتا ہے۔

(9)  مسودے کی مناسب طوالت

اپنے مسودے کی طوالت 100 صفحات سے کم اور 140 صفحات سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ اس میں آپ کوئی چالاکی نہ برتیں کہ ہاتھ کی لکھائی یا فونٹ سائز بڑا کر دیں یا صفحے کا حاشیہ زیادہ چھوڑ کر یا سطروں کے درمیان فاصلہ بڑھاتے یا گھٹاتے ہوئے آپ مطلوبہ صفحات تک اپنی تحریر کو پھیلا دیں، یہ غلط ہے۔ عمومی طور پر ایک فیچر فلم کا مسوّدہ 110 سے 120 صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مسوّدے کے ہر صفحے کو سکرین پر ایک منٹ کے برابر تصور کیا  جاتا ہے۔

(10) اغلاط سے پاک مسودہ

مسوّدے کو غلطیوں سے مبرا رکھنے کی کوشش کریں۔ انگریزی لکھنے کے دوران تو کمپیوٹرز میں موجود Spell-check پروگرام آپ کے بے حد کام آتا اور غلطیوں کی درستی کرتا چلا جاتا ہے مگر ہاتھ سے لکھنے کی صورت میں آپ کو اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، خاص طور سے گرائمر کا۔ آپ کے جملے سبک اور جامع ہونے چاہیں۔ طویل اور غلط سلط جملے پڑھنے والے کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرتے ہیں۔

اپنے مسودے کو بار بار پڑھئے یہاں تک کہ اس کی اغلاط سے پاک بہترین شکل نکل آئے۔ کچھ ایسے پروڈیوسرز بھی ہیں جو سکرپٹ کے پڑھنے کے دوران پہلے صفحات میں چھے سے سات غلطیاں ملنے پر سکرپٹ کو ایک طرف کر دیتے ہیں۔ اس لیے اپنی تحریر کا بار بار جائزہ لیتے ہوئے اسے مکمل طور پر اغلاط سے پاک تحریر بنائیں۔

(11) مناظر پر نمبر نہ لگائیے

سکرپٹ میں منظر بندی یا گنتی اس وقت لگائی جاتی ہے جب وہ شوٹنگ کے مراحل میں داخل ہوتا ہے۔ رائٹر کا مسوّدے کے مناظر پر نمبر لگانا مناسب نہیں۔ سین کو نمبر وار ترتیب دینا شوٹنگ کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس کی روشنی میں مقامات، شوٹنگ کے مراحل یا بجٹ جیسے معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کمپیوٹر کا فینسی سافٹ ویئر استعمال کر بھی رہے ہیں تو اس کا نمبرنگ والا آپشن بند کر دیجئے۔

(12)  عمدہ کاپی کیجئے

اگر آپ ہاتھ سے لکھے مسوّدے کی کاپی یا نقل بھیجنا چاہیں تو اس کے لیے بے حد عمدہ کارکردگی کے حامل پرنٹر یا فوٹو کاپیئر کا انتخاب کیجئے تاکہ آپ کی نقل صاف اور واضح ہو۔ اس کی سکیننگ بہت واضح اور عمدہ ہو تاکہ مسوّدہ پڑھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ آئے۔

اشاعتی دنیا کے برعکس’ فلمی دنیا میں مسودے کئی مختلف طریقوں سے جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسودہ بہ ذریعہ ڈاک ارسال کرنے سے کہیں آسان طریقہ ای میل کرنے کا ہے۔

admin

Read Previous

کہانی کی چھے منازل ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

سکرپٹ کو غیر رسمی بنانا ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!