ساغر صدیقی ۔ شاہکار سے پہلے


ساغر صدیقی
صوفیہ کاشف

بہار سے پہلے بہار اور وقت سے پہلے پذیرائی کا مزا چکھنے والا ساغر صدیقی عروج پر پہنچتے پہنچتے شہر کی گلیوں میں گمشدہ ہو چکا تھا۔سہانے دلنشیں خوابوں کو مشعل راہ بناکر چلنے والے کے سامنے جب دنیا کی حقیقت عیاں ہوئی تو وہ ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں بکھر گیا۔قطرہ قطرہ خون کی بوند بن کر بہ جانے کے بعد بھی اس کے ہنر کی خوشبو آج تک اہل ذوق کے ہاں پہچانی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ساغر کی داستانِ حیات کے باب میں عبرت کی کچھ نشانیاں تو ملتی ہیں مگر زندگی کے سیاق و سباق اور حقیقت کی کہانیاں نہیں ملتیں۔ اس کے باوجود اس کے لیے الفاظ آج بڑی عزت اور محبت سے بھی گائے اور محفلوں میں سنائے جاتے ہیں۔
اب جنازہ ہے چار تنکوں کا
آشیاں تھا بہار سے پہلے
محمد اختر شاہ کے اصلی نام سے ہندوستاں کے شہر انبالہ کے ایک غریب محلے میں پیدا ہونے والاشاعر ساغر صدیقی ،اوائل عمری سے یتیمی کا شکارتھا مگر اس کے ابتدائی حالات کا تذکرہ و تفصیل اس کے قصہ حیات کا اک گمشدہ باب ہے۔
”میری زندگی زنداں کی ایک کڑی ہے ۔ میں نہ جانے کہاں پیدا ہوا تھا۔ماں کی مامتا، باپ کی شفقت، بھائی کی محبت اور بہن کا پیار ،یہ سب میرے لیے علی بابا چالیس چور کے پراسرار غار کی کہانی جیسا ہے۔“
 محمد اختر کا دماغ یقینا زرخیز اور شوق ضرور گہرے تھے۔تبھی غربت کی گود میں جنم لینے والا بچہ سکول یامدرسہ کی اوقات نہ رکھنے کے باوجود، گلیوں محلوں میں آوارہ پھرنے کی بجائے محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن سے سبق لے کر تعلیم سے جڑا رہا۔ تاریخ کی لاعلمی ایسی کہ ہمیں اس محسن بزرگ کے نام کے علاوہ کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ لفظوں پر اس کا عبور اور مہارت بتاتے ہیں کہ ان کے پیچھے کسی کم علم کا قلم نہیں۔ یہ احسان یقینا اسی بزرگ حبیب حسن کاہو گا۔اپنے حالاتِ زندگی کا ذکر نہ کرنے والے ساغر صدیقی کی زندہ شاعری، ساغر کے شوقِ مطالعہ، عمدہ ذوق اور تخیلاتی اڑان کی وسعت کی گواہی ہے۔
یہ حیات کی کہانی ہے فنا کا ایک ساغر
تو لبوں کو مسکرا کے اس جام سے لگا لے
غیررسمی تعلیم کے باوجود ساغر کی زبان دانی اور مہارت، الفاظ کی جادوگری کے لیے ایسی بارآور ثابت ہوئی کہ سولہ سال کی عمر سے ہی شاعری کی فتوحات ساغر صدیقی کا پیچھا کرنے لگی تھیں….امرتسر میں ایک بڑا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں لاہور کے نامی گرامی شعرا کی موجودگی میں ساغر نے اپنے مخصوص ترنم سے غزل پڑھی۔ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور ترنم پڑھنے میں وہ اپنا ثانی آپ تھا سو اس کے الفاظ، سوز اور ترنم نے مشاعرہ لوٹ لیا۔
مشاعروں میں حاضری سے شاعرانہ صحبتوں کا آغاز ہوا۔ نفیس خلیلی، ظہیر کاشمیری ،احمد راہی اور مرزا جانباز سے راہ و رسم بڑھے۔ ان سب دوستوں کی صحبت اور رہنمائی کی وجہ سے شاعری میں مزید نکھار آیا۔ انیس سال کا سِن تھا جب تقسیم ہند کا واقعہ آن ٹکرایا۔جوان خون ، جذباتی خواب دیکھنے والے ایک شاعر کے دل اور اک نئی سرزمین کے سہانے دل نشیں خوابوں نے کیا کیا طلسم نہ آشکار کیے ہوں گے۔ اپنے تخیلات کو سینے سے لگائے ساغر اپنا تنہا وجود لیے پاک سرزمین کی طرف روانہ ہوا اور عظیم بہاروں اور گلزاروں کے خواب لیے لاہور پہنچ کر دم لیا۔
ہم یہاں ساغر بنائیں گے نئی تصویر شوق
ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام
تیکھے خدوخال، سنہری سانولی رنگت اور گنگھریالے بالوں والے ساغر صدیقی کو آغاز میں ہجرت خوب راس آئی۔ ان دنوں اس کی شاعری عروج پر تھی ، پھلنے پھولنے کے مواقع میسر بھی تھے اور خوب ہاتھوں ہاتھ مل بھی لیا جارہا تھا۔ رسالوں میں نظمیں اور غزلیں چھپنے لگیں، فلموں کے لیے گیت لکھنے کے خوب مواقع ملے جن سے ساغر نے انصاف بھی خوب کیا۔ یہ وقت ساغر صدیقی کے عروج کا تھا۔اس دور کی متعدد فلموں کے مقبول گیت ساغر صدیقی کے قلم سے ہی نکلے تھے۔
خود ساغر نے اس بارے میں کہا ہے:
”تقسیم کے بعد سے صرف شعر لکھتا ہوں،شعر پڑھتا ہوں، شعر کھاتا ہوں اور شعر پیتاہوں۔“
لکھنے لکھانے کے شوق کی مزید تکمیل کے لیے ایک رسالہ شروع کیا جو ایک بہترین کاوش تھا۔ مگر اک نئی مملکت، جہاں کم پڑھے لکھے اور اَن پڑھ دماغوں کی بہتات ہو ، زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کی بھاگم ڈور، ایک نفسا نفسی اور افراتفری کی صورت ہو وہاں معیاری چیزوں کو پذیرائی نہ ملنا کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ چناچہ خرچہ پورا نہ کر پانے کی وجہ سے اس رسالہ کا بستر بھی گول ہوا۔
جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکروفراست بھی
وہاں ہر جستجو جھوٹی وہاں ہر عزم ناکارہ
 اگر ساغر صدیقی کا ساغر بھرا ہوتا تو سلگتے جذبوں ، ناآسودگیوں ،چکنا چور خوابوں اور گمشدہ منزلوں کا گداز اظہار اتنی روانی اور تلخی کے ساتھ بیان نہ ہو پاتا جتنا کہ ساغر کے ہاں ملتا ہے۔ زندگی میں آسائشوں ، محبتوں، خوابوں اور ان کی خوبصورت تعبیروں کی فراوانی ہوتی تو شاید یہ مٹھاس میں لتھڑی جلن اور چبھن اس کے الفاظ سے ندارد ہوتی۔ساغر صدیقی کے لیے مضمون لکھتے ہوئے یہ خیال آتا ہے کہ اس کا عنوان شاہکار سے پہلے نہیں شاہکار کے بعد ہونا چاہیے۔کیوںکہ زندگی کی مشکلات بابا ساغر نے گمنامی میں نہیں بلکہ شہرت کے ظہور کے بعد دیکھی ہیں۔ جتنا عروج ساغر کے نصیب میں تھا وہ یہیں تک تھا۔ اس سے آگے اس عظیم شاعر کی ہستی کے زوال اور حساس دل کی شکست کی کہانیاں ہیں۔ اس پستی میں بھی اس کا شعر اپنے عروج کی طرف سفر کرتا رہا۔جو اس کی قلندرانہ طبیعت بھی بہ ظاہر مٹی کا ڈھیر ہوتی دکھائی دیتی تھی درحقیقت تخلیقی طور پر بلندیوں کی طرف سفر پر گامزن رہی۔اسی لیے اس کے چاہنے والوں نے اسے قلندر اور بابا ساغر کے نام سے یاد رکھنا شروع کر دیا۔
احساس کے میخانے میں کہاں اب فکرو نظر کی قندیلیں
آلام کی شدت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
دنیا کی حقیقت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
نئی ریاست کی نئی زندگی سے وابستہ عظیم خواب جو ساغر اپنی پلکوں پر سجائے لاہور پہنچا تھا آہستہ آہستہ بکھرنے لگے! خوابوں کی سرزمین پر اقربا پروری، منافقت اور جھوٹ کا دور دورہ دیکھا تو ساغر صدیقی کے تخیل کے روشن اور خوبصورت رنگ پھیکے پڑنے لگے۔امرتسر میں کنگھیاں بناتے جو حوصلے نہ ٹوٹے تھے وہ نئی ریاست کے سینے پر پنپتے لالچ، طمع ،کمینگی اور منافقت سے بھرے رویوں نے توڑ دیے…. زندگی کے اعلی مقاصد اپنا رنگ کھو بیٹھیں تو رشتوں اور محبتوں کی بیڑیاں انساں کو اپنے رستے پر چلائے رکھتی ہیں۔ بہت سے پہاڑ نظریہ ضرورت کے تحت کھودے جاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی اپنے سیاہ لباس کو لباسِ غم کے نام سے پکارنے والے ساغر کی تہی دامنی قصوروار نکلی۔خود اس کا اپنا تنہا وجود ہی سفر بھی تھا اور منزل بھی۔ زندگی کا زادِ راہ ماں باپ کی دعائیں ، نہ چوکھٹ سے جڑی بیوی کی نگاہیں اور بچوں کا تو ذکر ہی کیا کہ جن کی قلقاریاں آنکھوں میں روشنی اور جستجوجگائے رکھتیں۔ خودرو جھاڑی کی طرح اُگا اپنا تنہا وجود اس کے لیے معنی کھونے لگا۔کیا ہوں؟ کیوں ہوں؟ اور کس کے لیے ہوں؟جیسے سوال اس کے آس پاس سرسرانے لگے۔
”میری زندگی بھی ایک تماشا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیوں پیدا ہوا؟ میری تقدیر کیاہے؟ ابھی تک میں کائنات سے اپنے گمشدہ رشتے کو نہیں پا سکااور اگر شعر میرے دوست نہ ہوتے تو میں صفحہ ¿ ہستی پر موجود نہ ہوتا۔“
تنہائی کا احساس ساغر کو اپنے ساتھ لیے دلدل میں بہت تیزی سے دھنسائے چلا جا رہا تھا۔ وہ اپنی خودساختہ خودفراموشی کی خاردار تاروں میں الجھ کر ریشہ ریشہ ادھڑنے لگا…. دنیا سے جی اچاٹ ہوا تو یاروں نے خوب یاری نبھائی۔ کسی نے بوجھل اور اُداس طبیعت کو پرسکون کرنے کو نشہ آور ٹیکا لگا دیا تو کوئی کسی اور نشے میں دھت کر دینے کا باعث بنا۔ جن کو زیادہ پیار تھا وہ بھی گرتی دیوار کو دھکا دینے کے عمل میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ آتے اورتھوڑے سے نشے اور پیسے کے بدلے اس کی غزلیں اٹھا لے جاتے اور خود اپنی شاعری کی دکانوں پر سجاتے رہے۔
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق وشرر سے ملے ہوئے
ساغر یہ واردات سخن بھی عجیب ہیں
نغمہ طراز شوق ہوں لب ہیں سلے ہوئے
ساغر کی بے خودی لوگوں کو مضبوط اور خود ساغر کو کمزور تر کرکے مزید نشے میں دھکیلتی گئی۔بوسکی کی شان دار اچکن پہننے والا ساغر کھدر کی قمیص سے ہوتا ہوا چیتھڑے اوڑھ کر سڑکوں، مزاروں ،تاریک گلیوں اور بدبودار کوٹھریوں کی زینت بننے لگا۔ سگریٹ اور نشے کی عوض وہ غزلیں بیچتا رہا، لوگ خرید کر نام بناتے رہے۔ایک ناشر نے تو روزانہ ایک چائے اور سگریٹ کی ڈبی کے عوض ساغر سے پورے دیوان کا کلام لکھوا کر کتاب چھاپ دی اور ساغر کو جس کا معاوضہ صرف ایک نام کی صورت ملا۔ ”یہی کیا کم ہے کہ ہم نے نام بنا دیا۔“ اور ساغرطنزیہ ہنسی ہنستا رہا ۔
”وہ تو میرا خدا بن گیا ہے اور مجھے عزتیں دے رہا ہے!“
ساغر سڑکیں ناپتا رہا اور اس کے ہنر کی کمائی لوگ کھاتے رہے…. اک واحد ساتھ جو بے وفا اور مطلب پرست نہ نکلا وہ شعر کا تھا۔ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھی شاعری اپنے عروج پر رہی اور نشے کا دھواں بھی اس کی بصیرت کے رنگ دھندلا نہ سکا۔
”وہ بدترین حالات، رسواکن غربت اور آنسو رُلا دینے والے دکھوں کے جنگل میں صرف اپنے ذہن کے ساتھ موجود تھا۔“ (یونس ادیب )
ساغر کے نصیب کے ساتھ مفلسی اور فقیری لکھی تھی ورنہ روح تو خدا نے راج کرنے کے لیے بنائی تھی۔ اسی لیے مزاروں کا مقدر ہو کربھی اتنا پرتاثیر رہا کہ دہائیوں سے اس کی خوشبو میں کمی نہ ہوئی۔ غرور اتنا تھا کہ قصر سلطانی ٹھکرا دیئے اور عاجزی اتنی کہ حلقہ احباب سے چونی کا طلبگار رہا۔ لوگ مشاعرہ پڑھنے کے لیے خود اٹھا لے جاتے اور ساغر بابا سے ان کا دیا معاوضہ سنبھالا نہ جاتا۔ یا تو پیسے چھوڑ کر بھاگ جاتا یا پھر سڑک پر پڑے کسی فقیر غریب کی جھولی میں ڈال آتا۔ انا اتنی تھی کہ اپنی داستانِ حیات نہیں کہتا تھا اورعاجزی اتنی کہ ہنر جھولی بھر بھر بانٹ دیتا۔لوگوں کے رویے آنکھوں سے دیکھتا اور دل میں ان کا زہر اتار کر پلکیں جھکا لیتا۔لوگ سمجھتے کہ ان کی ذہانت نے اسے لوٹ لیا۔ مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ساغر بابا خود کو لٹا گیا۔ اس کی قلندرانہ مستی کے پیچھے اس کی تنہایاں ، حساسیت کے علاوہ دنیائے ہستی کے ستم اور ارباب اختیار کی ناانصافیاں بھی شامل تھیں۔مگر شکایت کرنا اس کے شایان شان نہ تھا سو خامشی سے زہر پیتا اور دنیا کے چوراہے پر رائج الوقت انسانیت کے خلاف احتجاج کی تصویر بن کے رہ گیا۔
اب اور گردشِ تقدیر کیا ستائے گی
لٹا کے عشق میں نام و نشاں بیٹھے ہیں
مٹی اور راکھ سے اٹے چہرے اور سوکھ کرتڑخی زمین کی طرح کے کھردرے اور میلے ننگے پیر لیے کالی چادر لپیٹے ،آنکھوں میں روشن روشن افسردگی کے ساتھ گلیوں کی خاک چھانتے چھانتے لازوال غزلیں جنم لیتی رہیں۔کبھی راہ چلتے کسی دکان سے کاغذ قلم مانگ کر اور کبھی سگریٹ کی خالی ڈبیاں سمیٹ کر ان پر شعرلکھے جاتے اور را ت کو اسی شاعری کو جلا کر آگ سینکی جاتی۔ کچھ اپنے برے وقت کے اچھے ساتھیوں کو چلتے پھرتے سنائے جاتے۔ ذلت آمیز غربت اور خودفراموشی کی کیفیت میں بات دوستوں سے چونی مانگنے تک آ پہنچی جو صرف دن کے اختتام پرسامانِ نشہ ہی پورا کر پاتی۔
دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیت
دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
کچھ سنگی ساتھی اور چاہنے والے ساغر کو گھیر کے یا اٹھا کر مشاعروں میں لے جاتے، کچھ نے اس کے علاج کے لیے بھی حیلے بہانے کیے مگر ساغر کی خودفراموشی ان کی کوششوں کو باآور نہ کر سکی۔ظاہری جاہ وجلال ،عزت، رتبہ اور پیسہ اس کے لیے اپنے معانی کھو چکے تھے۔جو لوازمات عام انسانوں کی چاہتوں کی فہرست میں سب سے اوپر جگہ پاتے ہیں بابا ساغر ان سے دور بھاگتا تھا۔ چاہنے والے اسے نئے کپڑے دان کرتے اور بابا ساغر و ہ خوبصورت کپڑے غریبوں میں بانٹ کر اپنے چیتھڑوں میں واپس آ جاتا۔ ایک بار ساغر کے ہاتھ پانچ پانچ سو کے کچھ نوٹ آئے اور وہ یہ سوچ کر نکلا کہ اس سے ریشم کا بستر خریدے گا۔ باہر نکلا تو نکڑ پر ایک ننگ دھڑنگ فقیر نظر آیا۔ ایک فقیر اپنی کمائی دوسرے فقیر کی جھولی میں ڈال کر واپس اپنے پھٹے کمبل میں آ گیا۔ اس بارے میں یونس ادیب نے لکھا ہے۔
 ”ساغر کی یہ عظیم عبادتیں اس کی ابدی زندگی کی ضمانت بن گئیں۔ ننگے زخمی پیروں کو دیکھ کر خود تپتی ہوئی سڑکوں پر ننگے پاﺅں چلتا رہا۔ برہنہ جسموں کی بے حرمتی پر سیاہ پوشی کرنے والے کے حوصلے کا  مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ بھوکے معدوں کے غم میں فاقوں کے دوزخ میں جلنا اسی کا کمال تھا۔“
 ایسی قلندری میں قسمت نے یاوری کی کوشش کی اور اچھے وقتوں میں ماشل لا کے حق میں لکھا ایک نغمہ گورنر جنرل ایوب خان کی نظر سے گزرا جو اسے بہت پسند آیا۔ قصر سلطانی سے ہرکارے خوب صورت مستقبل کے خواب ہاتھوں میں تھامے ساغر کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں۔ ساغر خزاں کے پتوں کی طرح سڑکوں پر بکھرا ہوا ملا…. ہزار منت سماجت کے باوجود حکمراں کے در پر حاضری پر تیار نہ ہوا۔ جب سرکاری عہدے دار کسی طرح نہ ٹلے تو جھک کر زمین سے سگریٹ کی ایک خالی ڈبی اٹھائی ، اُسے پھاڑ کر سیدھا کیا اور اندر کے صاف گتے پر ایک شعر لکھ دیا.
ہم سمجھتے ہیں ذوق سلطانی
یہ کھلونوں سے بہل جاتا ہے
(ساغر صدیقی بقلم خود)
ایک شاعر کا ہدیہ شعر سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے۔ ایوب خان تک وہ ہدیہ پہنچا یا نہیں کوئی نہیں جانتا مگر ساغر میں اگر زندگی کے لیے کوئی خواہش کوئی اُمید باقی ہوتی تو وہ اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا کیوں کہ یہ زند گی بدل دینے والا لمحہ تھا…. خوش نصیبی خود در پر پہنچی تھی جسے اس درویش نے اک زوردار ٹھوکر سے اُڑا دیا۔

میں التفات یار کا قائل نہیں ہوں دوست
سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست
مجھ کو خزاں کی ایک لٹی رات سے ہے پیار
میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہوں دوست
سڑکوں پر خود کو خاک بناتے ایک آوارہ کتے سے دوستی ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کے والی وارث مقرر ہوئے۔چیتھڑوں کی گدڑی لپیٹے پھرتے سڑکوں پر سوتے جاگتے ساغر پر فالج کا اٹیک ہوا اور صرف ساغر کی قوت ارادہ نے شکست دی لیکن یہ حملہ اس کا دایاں ہاتھ لے گیا۔ یہ ہاتھ ہی ساغر کا کل اثاثہ تھا جس کے بے کار ہونے کے بعد اُس کے لئے شعر لکھنا محال ہو گیا۔
”بے کار ہونا ہی تھا تو بایاں ہاتھ ہو جاتا“
ساغر سے یہ نقصان سہا نہ جاتا…. کوئی بھی زہر ساری عمر نہیں پیا جا سکتا، ایک حد کے بعدانجام تو ہونا ہی تھا۔
”میں نے زاد راہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔“
ساغر کا یہ فقرہ اس کے دوستوں کے کانوں میں گونجنے لگا- جس وقت ملک میں سب سے بڑی ادبی تنظیم رائٹرز گلڈ کے انتخابات پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا اور بہت سے تعلقات اور وسائل والے ادیب اور شاعر حضرات گھر بیٹھے معذوروں کا وظیفہ وصول کر رہے تھے،شہر کی گلیوں میں فالج زدہ ساغر صدیقی نام کا یہ بڑا شاعر ایڑیاں رگڑتا خون تھوک رہا تھا۔ یونس ادیب سے ملاقات ہوئی تو اس وقت تو ساغر نے سیاہ چادر کی جگہ سفید کرتہ پہن رکھا تھا۔
”مقتل کی طرف جانے کی گھڑیاں آ گئی ہیں اور میں نے کفن پہن لیا ہے۔“
دنیا کے کاروبار میں مگن آس پاس چلتے راہگیر اس صدی کے خوب صورت شاعر کے پاس سے کپڑے بچا کے گزرنے لگے۔ساغر کی آخری سانسیں چوراہوں پر بکھر رہی تھیں اور آس پاس سے لوگ شان بے نیازی سے گزرتے رہے، دکاندار گاہکوں کے ساتھ الجھتے رہے۔ وہ کوئی لکڑی ،پتھر ،یا بے جان شے نہ تھا، یہ ساغر صدیقی کا وجود تھا جو بے وفا اور بے مروت لوگوں کے بیچ نادیدہ ہوا جاتا تھا۔ خون تھوکتا اس کاجسم ایک رات سڑک کنارے اکڑ گیا اور اس کی روح جسم کی ذلت اور غلاظت سے آزاد ہو گئی…. اس کا جنازہ کس نے پڑھا، کفن دفن کس نے کیا، کون اس کے جنازے میں شریک ہوا یہ بھی اس کی زندگی کی گمشدہ کہانی ہی کی ایک کڑی رہی جس کا کوئی سرا کسی تاریخ داں کے ہاتھ نہ لگا۔
لفظوں کی جادوگری کا سورج ڈوبا اورریڈی میڈ شاعری کی مفت سبیل کا قصہ بھی تمام ہوا۔ شہرت کے مقدر کے ساتھ پیدا ہوئی روح اپنا وعدہ وفا کرکے رہی اور جسم کے ساتھ مفلسی وفاشعار بیوی کی طرح وفا نبھاتی رہی۔گلیوں کی پیداوار گلیوں میں پروان چڑھنے والا آخر اپنے شاہ کار راستوں میں چھوڑ کر گلیوں کی نظر ہو گیا۔ وراثت میں مرحوم نے وہی آوارہ کتا چھوڑا جس کی موت بھی اِسی گلی کے اسی کنارے واقع ہوئی۔جانور کی یہی خوبی ہے، انسانوں کی طرح ابھی بے وفائی اور بے مروتی ان کی گھٹی میں نہیں پڑی….
موت اک انگبیں کا ساغر ہے
زندگی زہر کی پیالی ہے
چونی دینے والوں ، مفت کی شاعری اڑانے والوں اور پیسے دبا کر بیٹھنے والوں نے مر جانے کے بعد ساغر بابا کی موت پر خوب وفا نبھائی کہ جس کے سر پر چھت نہ تھی اس کا سنگ مرمر سے مزین مزار بن گیا۔ جو جسم سڑکوں پر تنہا ننگے سر دھوپ اور بارش سہتا رہا اس کے مزار پر سالانہ میلے لگنے لگے۔زندگی ظالم نہیں زندگی کے ساتھ ملنے والی دنیا ظالم ہوتی ہے جس پر ان کے رب نے صحیفوں پر صحیفے اتارے، پر انسان انسان کا دشمن ہی رہا ، دوست اور درماں نہ بن سکا۔ اگر تاریخ کے اوراق میں ساغر کے لیے زوال کے بعد عروج ہوتا تو آج ہمارے پاس اس کے اپنے ہاتھ سے لکھی سوانح حیات بھی ہوتی اور اس کے بارے میں لکھے گئے مضامین اور مدح سرائی سے بھرے مقالوں اور کتابوں کا انبار ہوتا۔ مگر چونکہ ساغر ایک ٹوٹا تارا تھا، اس لیے اس سڑک چھاپ افیمی شاعر کے لیے نہ کسی پبلشر کو سوانح عمری میں کچھ منافع دکھائی دیا اور نہ ہی حکومتی اور غیر حکومتی اداروں نے لفظوں کے جادوگر سے کوئی تعلق واسطہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ چناچہ آج اس کی زندگی کی کہانیوں کی تلاش کے دوران ہمارے ہاتھوںمیں ایک آدھ کتاب، چند چھوٹے چھوٹے مضامین اور دھندلی تصویروں کے سوا کچھ نہیں آتا۔
گم سم کھڑی ہیں دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں ان سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

صوفیہ کاشف

صوفیہ کاشف:۔ صوفیہ نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ وہ کچھ عرصہ درس و تدریس سے بھی منسلک رہیں۔ وہ جریدوں سمیت کئی ویب سائٹس کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ الف کتاب میں ان کی وجہ شہرت سلسلہ ”شاہکار سے پہلے“ ہے۔ قارئین میں ان کی معاشرتی کہانیاں بھی کافی مقبول ہیں۔

Read Previous

سٹیفن کنگ ۔ شاہکار سے پہلے

Read Next

ولیم شیکسپیئر ۔ شاہکار سے پہلے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!