حضرت شعیب علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

حضرت شعیب علیہ السلام
عمیرہ علیم

اللہ تعالیٰ نے اہلِ مَدْیَن کی ہدایت کے لیے اپنے بندے شعیب علیہ السلام کو منتخب کیا۔ مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحرِ احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا۔ اس کا کچھ سلسلہ جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی جو تجارتی راستہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ پھر شام کی طرف جاتا تھا اور ایک دوسرا راستہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتا تھا، اس کے عین چورا ہے پر اہلِ مدین کی بستیاں آباد تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک بیوی قطورا تھیں جن کے بطن سے آپ علیہ السلام کے بیٹے مدیان پیدا ہوئے اور مدین کی ساری آبادی مدیان بن ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے مدین یا مدیان کے نام سے مشہور ہوئی۔ بنی اسرائیل کی طرح یہ لوگ ابتدا میں مسلمان ہی تھے لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت کے وقت ان کی حالت ایک بگڑی ہوئی مسلمان قوم کی سی تھی۔ مشرک اور بداخلاق قوموں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے یہ لوگ بھی شرک سیکھ چکے تھے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کو زبان و بیان میں ملکہ حاصل تھا۔ آپ نہایت فصیح و بلیغ گفت گو فرماتے۔ آپ کی تبلیغ کی عبارت نہایت بلند اور معنی خیز ہوتی تھی۔ ابنِ اسحاق، حضرت ابنِ عباس سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضور نبی کریمۖ جب حضرت شعیب علیہ السلام کا تذکرہ فرماتے تو کہتے:
 ”آپ علیہ السلام خطیب الانبیا تھے۔”
آپ علیہ السلام کا تعلق عرب قوم سے تھا۔ جیسا کہ حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمۖ کا فرمان ہے:
”چار انبیا کا تعلق عرب قوم سے ہے، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام اور تیرے نبی اے ابو ذر۔”
سورئہ اعراف میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔” (آیت: ٨٥)
جب اللہ کے نبی نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور اپنی قوم کو بھلائی کی طرف بلایا تو قومِ شعیب نے آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ درحقیقت ان کے اندر ایک نام نہاد مسلمانی قائم تھی لیکن برائیاں ان کے اندر اس طرح سرایت کر چکی تھیں کہ اچھائی اور برائی کا فرق ناپید ہوچکا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو جو ذمہ داری سونپی گئی تھی، آپ علیہ السلام اس کی تکمیل کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور وعظ و تبلیغ کا سلسلہ شروع کردیا۔ آپ علیہ السلام اپنی بگڑی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
 ”اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو۔ لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو اور (زندگی کے) ہر راستے پر راہ زن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ۔” (آیات: ٨٦، ٨٥)
اہلِ مدین میں جو دو بڑی خامیاں موجود تھیں اِن میں سے ایک شرک تھی اور دوسری تجارت کے معاملات میں بدیانتی کرنا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو سب سے پہلے غیر اللہ کی عبادت یعنی شرک سے منع فرمایا۔ یہ ایک بہت بڑی روحانی بیماری ہے اور ہر نبی نے سب سے پہلے اپنی قوم کو اس سے منع فرمایا کیوں کہ شرک کی وجہ سے نہ کوئی عبادت مقبول ہوتی ہے اور نہ ہی انسان کی بخشش ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”بلا شبہ اللہ تعالیٰ یہ بات کبھی نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔” ایک مومن کی خیرو بھلائی اسی میں ہے کہ اس کا معیار دنیا پرستوں سے مختلف ہو۔
اہلِ مدین کو توحیدِ حق کا سبق ناگوار گزرتا ہے لہٰذا حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت کے جواب میں فوراً کہتے ہیں:
”اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔”
نماز دین داری کا نمایاں مظہر ہے۔ خدا سے غافل معاشرے میں یہ علامتِ مرض کا ظہور لگتی ہے اور جب یہ علامت کسی میں ظاہر ہونے لگے تو وہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنے کی کوشش کرتا ہے تو جس کو وعظ کیا جائے اس کو سخت ناگوار لگتا ہے اور وہ سارا قصور نماز کا گردانتا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی رب کے حضور حاضری کو بھی ان کی قوم پسند نہیں کرتی تھی۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی بندگی، تمدّن، معاشرت، معیشت، سیاست غرض زندگی کے ہر شعبے میں اصلاح کا وعظ کرتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی ایک مذہبی دائرے میں رہ کر اپنی عبادت کا حکم نہیں دیتا جب کہ اہلِ مدین قدیم جاہلیت کا نظریہ اپنائے ہوئے تھے کہ باپ دادا حق پر ہیں۔
پھر آپ علیہ السلام اپنی قوم کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیرے گا اور اے برادرانِ قوم! ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورانا پو اور تو لو اور لوگوں کو ان چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں۔” (سورئہ ہود، آیات ٨٦، ٨٤)
حلال مال تھوڑا بھی ہو وہ حرام کی زیادتی سے بہتر ہے۔ حلال باقی رہ جانے والا جب کہ حرام تباہ کرنے والا ہے۔ سورة المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمدۖ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
”آپۖ فرما دیجئے! نہیں برابر ہو سکتا ناپاک اور پاک اگرچہ حیرت میں ڈال دے تجھے ناپاک کی کثرت۔”
اللہ کے نبی حضرت محمدۖ نے فرمایا ہے:
”جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قحط اور گرانی اور حکام کے ظلم میں مبتلا کر دیتا ہے۔”
اللہ رب العزت کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تجارت میں ہیرپھیر کیا جائے تب ہی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
”اور جب ناپ کرو تو پیمانہ بھرا کرو اور تولو تو سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ پورا ناپنا اور تولنا اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے۔”
اللہ کے نبیۖ کا فرمان ہے:
”قیامت کے دن سچا اور امانت دار تاجر انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔”
انسان کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے ہم جنسوں کو دھوکہ دے۔ اس سے دنیا میں بھی خرابی اور آخرت میں بھی رسوائی اور بدنامی ہے۔
ناسمجھ قوم اپنے پیغمبر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتی ہے:
”نہ تصرف کریں اپنے مالوں میں جیسے ہم چاہیں (ازراہِ تمسخر بولنے) بس تم ہی ایک دانا (اور) نیک چلن رہ گئے ہو؟” (سورئہ ہود)
حضرت شعیب حق کی راہ پر تھے تب ہی فرماتے:
”اے میری قوم! بھلا یہ تو بتائو اگر میں روشن دلیل پہ ہوں اپنے رب کی طرف سے اور اس نے عطا بھی کی ہو مجھے اپنی جناب سے عمدہ روزی اور میں نہیں چاہتا مگر ہماری اصلاح (اور دوستی) جہاں تک میرا بس ہے اور نہیں ہے میرا راہ پانا مگر اللہ تعالیٰ کی امداد سے اور اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔” (سورئہ ہود)
آپ نہایت مدلل انداز اختیار کرتے ہوئے نرمی اور پیار سے اپنی قوم کی اصلاح چاہتے تھے۔ آپ نہایت عبادت گزار اور بااخلاق شخص تھے۔ آپ جانتے تھے کہ وعظ و نصیحت تب ہی کارگر ثابت ہو سکتی ہیں جب کرنے والا خود بھی اس پر عمل پیرا ہو۔ آپ کے قول و فعل میں تضاد نہ تھا لیکن آپ کی قوم مکمل طور پر بگڑ چکی تھی۔ وہ آپ کی عبادت کا مذاق اڑاتی اور اپنی برائیوں پر اتراتی تھی۔
حضرت شعیب کی خوش بیانی کا چرچا ہونے لگا۔ آپ کی اپنی قوم راہِ ہدایت سے فیض یاب نہ ہو پا رہی تھی لیکن اردگرد کے لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ انہیں آپ کو سننا اچھا لگتا تھا۔ اہلِ مدین کو یہ معاملہ ناگوار گزرا۔ انہوں نے لوگوں کے راستے روکنے اور لوٹ مار شروع کر دی۔ حضرت شعیب نے ان کو عدل و انصاف کی تلقین فرمائی اور ظلم و زیادتی سے روکا اور فرمایا:
”یہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان لانے والے ہو اور مت بیٹھا کرو راستوں پر۔” (سورئہ اعراف)
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں:
”مدین کے لوگ بہت ظالم تھے۔ راہ پر بیٹھ کر لوگوں کو لوٹا کرتے تھے یعنی ان سے ٹیکس اور چنگی لیتے تھے۔ چنگی کی ابتدا انہی سے ہوئی۔” 
حضرت شعیب ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو اللہ کے احسانات یاد دلاتے ہیں کہ جب تمہارے آبائو اجداد ان ہی حرکتوںکی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے تو ان کی تعداد مٹھی بھر تھی۔ یہ اللہ  تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ اس نے تمہیں ایک بڑی جماعت بنا دیا۔ تمہیں اولاد سے نوازا اور مال کی فراوانی عطا فرمائی اور تمہیں سیدھے راستے پر چلایا۔ اب نا تو تم خود راہِ خدا کی پیروی اختیار کرتے ہو بلکہ دوسروں کو بھی اس کے راستے پر چلنے سے روکتے ہو، یہ ایک گناہِ عظیم ہے۔ آپ ان کو عذابِ خداوندی سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اور اے میری قوم! ہرگز نہ اکسائے تمہیں میری عداوت (اللہ کی نافرمانی پر) مبادا پہنچے تمہیں بھی ایسا عذاب جو پہنچا تھا قومِ نوح یا قومِ ہود یا قوم صالح کو اور قومِ لوط تو تم سے کچھ دور نہیں۔” (سورئہ ہود) اللہ سے اس کی رحمت کے طلب گار بن جائو۔ ان برے کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرو اور توبہ کرو۔ بے شک یہ عمل رب تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام نے اللہ کے رسولۖ سے فرمایا:
”اے اللہ کے رسولۖ! جب ہم آپۖ کی صحبت میں ہوتے ہیں تو ہماری کیفیت اس کیفیت سے مختلف ہوتی ہے جب ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں۔” اللہ کے رسولۖ فرماتے ہیں:
”اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں سب فرشتے ہوتے بلکہ فرشتے نیک لوگوں کے دیدار کو آتے۔ اللہ تم کو ختم کر کے تمہاری جگہ ایک دوسری قوم پیدا کرتا جو گناہ کرتی اور پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کرتی۔ بے شک اللہ توبہ کو پسند فرماتا ہے۔”
قومِ شعیب سے جب اپنے رسول کی باتوں کا جواب نہ بن پڑا تو انہوں نے آپ کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور کہنے لگے:
”اے شعیب! ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں سب کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم واپس لوٹ آئو ہمارے دین میں۔” اور کہنے لگے:
”اور اگر تمہارے کُنبے کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم نے تمہیں سنگ سار کر دیا ہوتا اور نہیں ہو تم ہم پر غالب۔” حضرت شعیب کو ان کی بے راہ روی دکھی کرتی۔ جب اہل مدین والے ان کو دھمکی دیتے ہیں تو آپ کو اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ کیا میرا قبیلہ اور میرا گھرانا ان کے نزدیک اللہ رب العزت سے زیادہ معزز ہے اور بجائے اللہ کے میرے کنبے کی وجہ سے میرے ساتھ رعایت برت رہے ہیں۔ تو آپ ان پر واضح کر دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی جگہ پر عمل کرو اور میں وہ کام کرتا رہوں گا جو مجھے سونپا گیا ہے اور اللہ عزت والے کو رسوا نہیں کرتا۔ جلد ہی اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ حقیقت میں سچائی کے راستے پر کون ہے۔ آپ نے فیصلہ خدا کے سپرد کر دیا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی:
”اے ہمارے رب فیصلہ فرما دے اور ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔”

admin

Read Previous

حضرت سلیمان علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

Read Next

حضرت موسیٰ علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!