تحریری سفر میں کام آنے والے چند گُر ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

تحریری سفر میں کام آنے والے چند گُر

ایک لکھاری کے طور پر سفر کا آغا ز کرنا ایک مشکل عمل ہو سکتا ہے۔ یہ چوں کہ ایک مکمل طور پر تخلیقی کام ہے اس لیے اس میں پیش آنے والے کئی چیلنجز آپ کو پریشان کر سکتے ہیں، اور اگر آپ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ، تو یہ سفر اور مشکل ہو سکتا ہے۔

اس سفر کو ہر ممکن طور پر آسان بنانے کے لیے ہم آپ کے ساتھ چند گر بانٹ رہے ہیں۔ انہیں اپنا کر آپ اپنے سفر کی اونچ نیچ کا سامنا ایک پر سکون ذہن کے ساتھ کر سکیں گے۔ 

1۔ مشوروں کا کوئی فائدہ نہیں:

جب بات لکھنے کی آتی ہے تو اس میں مشوروں کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشورے بیکار ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں دوسروں کے لیے کارآمد ثابت ہوئیں ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں۔

2۔ پہلے ”ہاں” کہنا سیکھو پھر ”نا” بولو:

پڑھنے میں آسان لگتا ہے مگر عمل کرنے میں یہ بہت مشکل ہے۔ تحریری سفر کی شروعات میں مواقع بہت مشکل سے پیدا ہوتے ہیں مگر پھر ان کی ایک لمبی سی قطار لگ جاتی ہے اور یہی وقت آپ کے امتحان کا ہوتا ہے۔ آپ نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس پروجیکٹ کو ہاں بولنا ہے اور کس کو نا مگر شروعات میں نا بولنے کی کوئی گنجائش نہیں، ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

3۔ صحیح وقت خود بنانا ہوتا ہے:

آج کل لوگوں کے ساتھ یہ بہت مسئلہ ہے کہ وہ صحیح وقت کے انتظار میں لگے رہتے ہیں حالاں کہ سچ بات یہ ہے کہ کوئی صحیح وقت نہیں ہوتا، ہم نے خود وقت کو صحیح بنانا ہوتا ہے۔

4۔ باقاعدہ ایک لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے:

ہر چیز کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تشکیل کرنا ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی چیز کو مکمل طور پر اختتام پذیر کرنے کے لیے یہ چیز ضروری ہے کہ اسے ایک لائحہ عمل کے مطابق طے کیا جائے۔

تو ایک نئے لکھاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ لکھنے سے پہلے ایک لائحہ عمل تشکیل دے اور اس کے مطابق اپنی کتاب مکمل کرے۔

5۔ ہر کتاب دوسری کتاب سے مختلف ہوتی ہے:

ہر کتاب دوسری کتاب سے مختلف ہوتی ہے، یہ تو واضح ہے مگر مراد یہاں پر لکھنے کے عمل سے ہے۔ مطلب جس طرح آپ نے ایک کتاب لکھی ہوتی ہے اس سے اگلی کتاب لکھنے کا عمل اس سے کافی مختلف ہو سکتا ہے۔اس لیے اگر ایک روٹین کام نہیں کر رہی تو روٹین یا پورا عمل بد ل دیجیے۔

6۔ پیسوں کے پیچھے مت بھاگیں:

 پیسوں کے پیچھے بھاگنا کئی مرتبہ بہت مہنگا پڑجاتا ہے۔ ہاں! زندہ رہنے کے لیے پیسوں کا ہونا بہت ضروری ہے اور اچھی زندگی کے لیے اور زیادہ پیسوں کا ہونا ضروری ہے مگر زندگی میں کئی ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب انسان کو پیسوں کا پیچھا چھوڑ کر صحیح راستہ چننا چاہیے۔کیوں کہ پیسے ختم ہو جائیں گے لیکن آپ کی لکھی ہوئی چیز باقی رہے گی۔

7۔ سب کچھ آپ اکیلے نہیں کرسکتے:

”لکھاری” کہنے کو تو صرف ایک لفظ ہے اور صرف ایک انسان کا نام ہی مصنف کے طور پر دیا جاتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ کئی نام مل کر اس ایک کتاب کو مکمل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ اتنا آسان عمل نہیں جتنا لگتا ہے۔ ایک کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کئی لوگ جان لگاتے ہیں۔پروف ریڈر، ایڈیٹر، گرافک ڈیزائنر اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگ۔ تو ایک کامیاب لکھاری بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلیں۔

8۔ تحریر کے رائٹس اپنے پاس رکھیں:

کبھی بھی اپنی کہانی یا سکرپٹ کے رائٹس غیر محدود مدت کے لیے کسی کو ٹرانسفر نہ کریں۔ تخلیقی تبدیلیاں ہمیشہ آپ سے مشورے کے بعد ہونی چاہییے ورنہ آپ کی تحریر کئی طرح کی تبدیلیوں سے گزر سکتی ہے اور آپ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر پائیں گے۔ رائٹس اپنے پاس رکھنے سے مالی فائدے بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنے اختیارات اپنے پاس رکھیں۔ 

9۔کم سوچیں زیادہ کریں:

 جتنا کم سوچا جائے اتنا بہتر ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان یہ نہیں سوچتا کہ  دوسرے لوگ کیا کررہے ہیں بلکہ انسان اپنا ایک نیا راستہ چنتا ہے جو اسے دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔  اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ آپ اس پر عمل کرکے زیادہ مقدار میں لکھ سکتے ہیں۔ جتنا سوچیں گے، اتنا ہی چن چن کر الفاظ لکھیں گے اور جتنا کم سوچیں گے اتنا ہی نڈر ہوکر اور بے باک ہوکر لکھیں گے۔

10۔چار دیواری سے باہر نکلنا سیکھو:

اصل میں ہوتا یہ ہے کہ ہر لکھاری کی ایک حد ہوتی ہے جسے ہم "Comfort Zone” بھی کہتے ہیں۔ ہر لکھاری اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کو ترجیح دیتا ہے اور ان حدود سے باہر نکلنے سے پرہیز کرتا ہے مگر ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے آپ کو چیلنج کریں اور اپنی حدود سے باہر نکلنے کی عادت ڈالیں۔

11۔ ضروری نہیں کہ ہر چیز منفرد ہو:

 چیزوں کا منفرد ہونا ایک بہت عمدہ بات ہے ، اور کئی مرتبہ یہی انفرادیت تحریر کو یادگار بنا دیتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ آپ کا تحریری سفر انفرادیت اور روایت کا ایک امتزاج ہونا چاہیے۔ کیوں کہ کئی مرتبہ پڑھنے والے اوردیکھنے والے وہی چیز چاہ رہے ہوتے ہیں جو ان کے دل کو لبھاتی ہو بے شک وہ منفرد نہ ہو۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

تحریر کے چند گُر سٹیفن کنگ سے ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

سکرین پلے میں voice-overکا استعمال ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!