کوزہ گر ۔ افسانہ

کوزہ گر
محمد عثمان ریحان

”کیا کہا ؟ کوزے نے کوزہ گر سے بغاوت کر دی ؟ تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ ارے اگر چاند، سورج سے بغا وت کر دے گا، تو روشنی کہاں سے پائے گا؟“
”لیکن وہ کوزہ تو کچھ ایسا ہی کہہ رہا تھا کہ بس آج کے بعد میں تم سے بغاوت کر رہا ہوں۔“
”بے وقوف! اوّل تو یہ کہ کوزے کا ایسا کہنا سمجھ میں نہیں پڑتا اور دوسرے یہ کہہ دینے سے کہ میں بغاوت کر رہا ہوں، بغا وت نہیں ہو جاتی ۔ اس کے لیے بہت بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے اور اکثر تو یہ قیمت جان سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور کوزہ اس قیمت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی کوزہ گر کو کیا فرق پڑے گا؟ وہ ایک چھوڑ کئی اور بنا لے گا۔“



”حضور! یہ تو مجھے معلوم نہیں، لیکن خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر آرہا ہوں۔“
”ارے نادان! بعض اوقات آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا غلط بھی ہو سکتا ہے۔ یہ دنیا تو ہے ہی دھوکے کا گھر۔ یہ دایاں ہاتھ دکھا کر بائیں ہاتھ سے وار کرتی ہے، اس کی کسی بات پر کبھی اعتبار مت کرنا۔ ہاں! اگر کوزہ گر نے کوئی بات کہی ہو تو وہ بتا۔“
٭….٭….٭


تجمل نماز سے فارغ ہوا، صوفے پر لیٹ کر کمبل اوڑھا اور اخبار دیکھنے لگ گیا۔ اسی اثنا میں پھپھو کمرے سے باہر آئیں اور تجمل کی طرف غصے اور حیرت سے دیکھا، لیکن تجمل نے کوئی دھیان نہیں دیا تو پھپھو غصے سے گویا ہوئیں۔
”توبہ توبہ! کیا زمانہ آگیا ہے۔ نا تو کسی کو نماز کی فکر ہے ناقرآن کی۔ صبح سویرے اٹھتے ہی نہار منہ اس کم بخت کو لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ تمہیں ذرا بھی خوفِ خدا نہیں ہے۔“
تجمل نے چڑتے ہوئے چہرے سے اخبار ہٹایا اور منہ بسورتے ہوئے کہا:
”پھپھو! ابھی تو نماز پڑھ کربیٹھا ہوں۔“ پھپھوبھی ہارنے والی کہاں تھیں جھٹ سے گویا ہوئیں:
”گھر پر ہی پڑھ لی؟ اتنا بڑ ا ہو گیا ہے پتا نہیں کب عقل آئے گی کہ مسجد میں نماز پڑھنا کتنا افضل ہے۔“
تجمل اخبار لپیٹ کر رکھتے ہوئے بولا:”تو آپ کیوں نہیں جاتیں مسجد ؟ہر وقت مجھے کوستی رہتی ہیں۔“
پھپھو اس بد تمیزی کو جو کہ متوقع تھی، برداشت نہ کر پائیں اور غصے سے تجمل کے سر پر ایک ہلکی سی چپت رسید کرتے ہوئے بولیں۔
”بہت زبان چلتی ہے۔ ذرا بڑے چھوٹے کا لحاظ نہیں ہے۔ قرآن شریف تمہارے ابا نے آکر پڑھنا ہے کیا؟ کتنے دن ہو گئے، مجال ہے کھول کر بھی دیکھا ہو۔“ تجمل نے پھپھو کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ ابھی کل، ان کی موجودگی میں ہی تو آخری دو پارے پڑھ کر قرآن ختم کیا ہے۔
پھپھو تھو ڑی کھسیانی ہوئیں اور کہنے لگیں۔
”اچھا اچھا ٹھیک ہے، زیادہ بننے کی کوشش مت کرواور اٹھ کردکان سے چینی لے کر آﺅ، چائے بنانی ہے۔“ تجمل جو کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی سو کر اٹھا تھا اور کمبل چھوڑ کر کہیں جانا نہیں چاہتا تھا، اکتاہٹ سے بولا:
”پھپھو آپ سرمد کو بھیج دیں، مجھے اخبار دیکھنا ہے پلیز۔“
”اس کے اسکول کا وقت ہو گیا ہے اور تمہیں کتنی بار کہا ہے اس نامراد انگریزی کو گھر میں کم از کم مت بولا کرو، بے برکتی زبان ہے۔ ویسے ہی سننے میں کتنی بری لگتی ہے۔ توبہ!“ پھپھو نے کانوں کو ایسے ہاتھ لگائے گویا تجمل کو کوئی ناقابلِ معافی جرم کرتے دیکھ لیا ہو ۔ اس پر تجمل بھی چڑ گیا۔
”اب کہاں بول دی میں نے انگریزی؟“ وہ اکتائے ہو ے لہجے میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”یہ جو ابھی تم نے کہا، پی لیز…. یہ کیا تھا؟ چلو چھوڑو، اٹھو جا کر چینی خرید کر لاﺅ۔“ پھپھو نے جھڑکنے والے انداز میں اُسے حکم دیا اور خود صوفے پر براجمان ہو گئیں۔
تجمل ناک چڑھاتے ہوے اٹھا۔ ”اچھا جا رہا ہوں۔“اتنے میں سائرہ بھابی بر آمدے میں داخل ہوئیں۔
”تجمل ناشتے میں کیا لو گے؟“



تجمل جو پھپو کی نظروں سے اوجھل ہونا چاہتا تھا، بغیر تردد کے بولا۔
”بس جو بنا ہے، وہ ہی کھالوں گا۔“ اتنے میں پھپھوکا ایک اور حکم صادر ہوا۔
”اور ہاں دکان سے انڈے بھی لیتے آنا۔ “
تجمل جو پہلے ہی اکتایا ہوا تھا، ویسے ہی بدلحاظی سے منہ بناتے ہوے بولا:
”جی اچھا! اور کچھ؟“
پھپھو سے بھی جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو پھر جھڑکتے ہوے بولیں۔
”بس بس! اب جلدی سے جااور سامان لے کر واپس آ۔ خود تو تم نے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانا، لیکن باقی لوگوں کے پاس تو بہت سارے کام ہیں کرنے کو۔“ تجمل تیوری چڑھاتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا، سائرہ بھابی، باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں اور پھپھو تسبیح کرنے لگیں۔
سرمد، جو مسجد سے قرآن شریف پڑھ کر ابھی لوٹا تھا۔ پھپھو کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر یونہی بیٹھے ہوئے گزری تو ایک دم بےزاری سے بولا۔
”امی جان، آج مجھے اسکول نہیں جانا، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“
پھپھو کو لگا کہ شاید یہ پٹی اسے تجمل نے ہی پڑھائی ہو گی۔ وہ جو پہلے ہی تجمل کو لتاڑنے کے بہانے ڈھونڈتی تھیں، اُنہیں اس کی خبر لینے کا ایک اور موقع مل گیا۔
”اے لو!“ پڑ گئی جناب کو بھی چچا والی عادتیں۔ میں تو کہتی ہوں،صاحبزادے کو اگر سیدھا رکھنا ہےتو اس کے سائے سے بھی دور رکھو۔“ وہ منہ چڑھاتے ہوے سائرہ بھابی سے مخاطب ہوئیں جنہوں نے کوئی جواب نہ دیا، لیکن اتنے میں تجمل جو سامان کے لیے پیسے لینا بھول گیا تھا، واپس آیا اور یہ ساری باتیں سن لیں۔
”جی ہاں، بالکل! اور اگر میں نے پیدا نا ہونا ہوتا، تو مغلوں پر زوال نا آتا ، انگریز ہندوستان پر قبضہ نا کرتے اور جنگِ عظیم دوم تو خود میں نے بھڑکائی تھی۔ بھابی پیسے لینا بھول گیا تھا، وہ دے دیجیے اور بھی کوئی الزام دینا ہے تو بتا دیجیے، سن رہا ہوں۔ پیٹھ پیچھے باتیں کر کے خوامخواہ گناہ لیں گی آپ۔“ تجمل نے بھی حسبِ روایت اپنا حساب چکاتے ہوئے کہا۔



افضل، جو اپنے دفتر جانے کو تیار ہو رہا تھا۔ اس ساری گفت گو سے لطف اندوز ہو رہا تھا وہ۔ کمرے سے نکلا اور اپنی قمیص کے بٹن بند کرتے ہوئے پھپھو کے پاس ”ارے پھپھو جان! کیوں ہر وقت اپنا سر کھپاتی رہتی ہیں؟ سننی تو اس نے ہوتی نہیں آپ کی بات۔“ اس نے پھپھو کو سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔
”ارے بیٹا! یہی تو دکھ ہے کہ بات نہیں سنتا، اگر سن لیتا تو آج تمھاری طرح، کہیں اچھی جگہ پر ملازمت کر رہا ہوتا۔“
پھپھو نے بھی اپنا وہی دکھڑا ہمیشہ کی طرح دہرایا۔ افضل نے اپنی طرف سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی اور کہا۔
”پھپھو جی، ویسے ایک بات تو اس کی بھی ٹھیک ہے کہ ملازمت مت کرو، بندہ غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی کام کرنا ہے تو اس طرح کا کرو کہ نا تو کسی کی سنو اور نا سناﺅ۔ دیکھ لیا ہے میں نے ملازمت کا انجام بھی، لیکن کم بخت ہوا کا رخ مخالف سمت میں تھا۔“
”ارے! تو میں کیا اس کی دشمن ہوں ؟اس کے لیے برا سوچتی ہوں ؟ ہائے! اتنے تھے تم دونوں تمہارے ماں باپ گزر گئے، ماں باپ بن کر پالا تم دونوں کو۔ کیا کیا نہیں کیا میں نے تم دونوں کے لیے؟ یہی سننا باقی تھا۔ ہائے۔“ پھپھو منہ بسور کر بیٹھ گئیں کہ بات ان کے مزاج کے خلاف تھی۔
افضل اس اچانک حملے سے بوکھلاگیا۔ ”ارے نہیں نہیں پھپھو! میرا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا، آپ غلط سمجھ گئیں۔ میں تو بس یونہی کہہ رہا تھا۔“ پھپھو اب کہا ں کوئی دلیل سنتیں؟
”ہاں تم جو بھی کہو، وہ صحیح، جو میں نے کہہ دیا وہ سب غلط۔“ پھپھو نے یہ کہہ کر رونا شروع کر دیا۔
افضل کو پہلے ہی دفتر سے دیر ہو رہی تھی۔ وہ اپنا دامن بچاتے ہوئے کہنے لگا۔ ”ارے نہیں پھپھو۔ میر ا مطلب تھا کہ ….“ پھر وہ سائرہ سے مخاطب ہوا۔

admin

Read Previous

خواہشوں کے پھیر ۔ افسانہ

Read Next

اعتبار، وفا اور تم ۔ ناولٹ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!