مقربِ خاص ۔ مکمل ناول

مقربِ خاص

سمیہ فیروز

آج پھر صبح میری آنکھ ممانی کے بڑبڑانے سے کھلی۔ تنخواہ ملنے میں تو ابھی دس دن باقی ہیں یعنی ابھی دس دن مزید ان کی باتیں سننی پڑیں گی۔ کتنا مزہ آتا اگر تنخواہ مہینے میں دو بار ملتی اور یہ سوچ کر میں خود ہی ہنس پڑی۔ میرے خیال سے اب بستر چھوڑ دیا جائے۔ اس سے پہلے کہ مزید گولا باری ہو۔

 ”السلام علیکم صبح بخیر ممانی۔لائبہ کے سلام کے جواب میں نصرت بیگم کے ماتھے کے بلوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔

لائیں یہ میں کرلوں گی۔آٹا تو میں نے گوندھ دیا تم پراٹھے اور انڈے بنالو اور ساتھ میں اماں کے لیے رات کا سالن گرم کرلینا۔ممانی کچن سے نکلتے ہوئے بولیں۔ ناشتا بناکے کچن صاف کرکے میں اپنا ناشتہ لیے کچن سے برآمدے میں آکر بیٹھ گئی جہاں نانی اپنے تخت پر بیٹھی تھیں۔ مجھے دیکھ کر نانی بولیں۔خیریت آج گھر میں کیسے دکھ رہی ہو؟

 ”نانی آج یونیورسٹی میں فنکشن کی وجہ سے کوئی کلاس نہیں تھی تو آج میں نے چھٹی کرلی۔جواباً نانی نے ایک طنزیہ ہنکارا بھرا۔

 ”مصروفیت تو صرف ایک بہانہ ہے تمہارے پاس بس اپنی بوڑھی نانی کے لیے ٹائم نہیں، تمہاری ماں تو تمہیں چھوڑ کر چلی گئی میں ہی تھی جس نے تجھے پالا۔“…. ”نانی اب بس بھی کردیں یہ سالوں پرانا قصہ حد ہوتی ہے کسی بات کی بھی اور امی کی شادی میں تو سب سے زیادہ آپ آگے آگے تھیں اور رہ گئی بات پالنے کی تو اس معاملے میں آپ سے زیادہ میں ماموں کی احسان مند ہوں ورنہ آپ تو مجھے واپس ابا کے پاس بھجوانا چاہتی تھیں۔لائبہ نے حساب برابر کیا۔نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں۔نانی بڑبڑانے لگیں اور میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی یہ سوچتے ہوئے کہ مجھ سی ناکارہ شے کو اس دنیا میں بھیجنے کا مقصد کیا ہے؟

٭….٭….٭

میں لائبہ فرقان اپنے ماں باپ کی دوسری اولاد جو شادی کے دوسرے سال پیدا ہوئی جب تک میرے ماں باپ کے اختلافات بہت زیادہ بڑھ چکے تھے۔ مجھ سے بڑا میرا ایک بھائی تھا میرے ماں باپ کی شادی طوفانی محبت کا نتیجہ تھی۔ امی کا تعلق مڈل کلاس، مگر آزاد خیال گھرانے سے تھا جب کہ ابو ایک قدامت پسند کھاتی پیتی فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابو نے امی کو پہلی دفعہ ان کی کسی سہیلی کی شادی میں دیکھا جہاں وہ دُلہا والوں کی طرف سے شریک تھے۔ امی کی سہیلیاں کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ تمام فنکشنز میں امی سب سے آگے آگے رہیں۔ شکل و صورت بھی اچھی تھیں اور کچھ اپنے آپ کو سنوار کر رکھنے کا بھی ہنر آتا تھا۔

ابتدائی تعارف کے بعد اکثر ملاقاتیں ہونے لگیں۔ پھر ایک دن ابو کی بہن نے دونوں کو ساتھ دیکھ لیا یوں یہ بات کھل گئی لیکن ابو نے اکلوتا بیٹا ہونے کا فائدہ اٹھا کر اپنی اس کزن سے شادی سے انکار کردیا جس سے ان کی بچپن سے بات طے تھی اور یوں امی اس گھرانے کی بہو بن گئیں۔ 

امی کے گھر والوں نے کسی پس و پیش سے کام نہ لیا کیوں کہ لڑکے میں کوئی برائی نہیں تھی اور نانی بھی امی کے تیور بھانپ گئیں تھیں۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں تو سب ٹھیک تھا، مگر بھائی کی پیدائش کے بعد ابو چاہتے تھے کہ اب امی گھر پر رہ کر اچھی عورتوں والی ذمے داریاں نبھائیں مگر یہ سب امی کے بس کی بات نا تھی وہ تو زندگی کو انجوائے کرنا چاہتی تھیں۔ گھر اور بچوں کی ذمے داریوں سے انہیں کوئی سروکار نا تھا اور میرے دو سال کے ہونے تک امی ابو ایک دوسرے سے ناک تک عاجز آچکے تھے۔

امی ابو کو دقیانوسی اور تنگ نظر کہتی تھیں اور ابو امی سے شادی کو اپنی سب سے بڑی غلطی۔ اس سب میں محبت تو کہیں رہی ہی نہیں تھی۔ اب ابو کو رہ رہ کر پچھتاوا ہوتا اور خاص طور پر جب وہ دادی کے گھر جاتے اور وہاں ان کی کزن موجود ہوتیں اپنے ہمراہ لائے ہوئے مزیدار پکوانوں کے ساتھ۔ اس سے پہلے ابو کوئی انتہائی قدم اٹھاتے امی نے خود سے طلاق کا مطالبہ کردیا۔ طلاق کے بعد امی ہم دونوں کو لے کر نانی کے ہاں آگئیں۔ عدت پوری ہونے کے بعد امی نے نوکری کرلی۔ ہم دونوں بہن بھائی محلے کے ہی چھوٹے سے اسکول میں جانے لگے۔ اسکول سے آنے کے بعد ہم سارا وقت ممانی کے رحم و کرم پر ہوتے۔ ممانی کچھ فطرتاً بھی بدمزاج تھیں اور کچھ سر پر پڑی ان چاہی ذمے داریوں نے مزید بدمزاج بنادیا۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہماری ماں نے ہمیں پیدا کرنے کے علاوہ کوئی ذمے داری نا اٹھائی۔ نوکری کا مقصد بھی کچھ وقت گھر سے باہر گزارنا تھا۔ گزرتے وقت نے ان کے اوپر کوئی اثر نا ڈالا وہ کہیں سے بھی دو بچوں کی ماں نہ لگتی تھیں۔

٭….٭….٭

admin

Read Previous

منیر نیازی ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

Read Next

اپنے تعلقات کو چوٹ پہنچائے بغیر لکھیں ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!