خواہشوں کے پھیر ۔ افسانہ

خواہشوں کے پھیر
حمیرا فضا

”رات میرے سپنے میں پری آئی تھی ،سفید جھالر کے فراک والی پری۔اُس کے ہاتھ میں سبز رنگ کی جالی دار ٹوکری تھی اور اُس میں ڈھیر سارے سرخ گلاب کے پھول رکھے تھے۔“بانو نے ایک سرسری نظر چمکتی آنکھوں اور لال گالوں پر ڈالی۔
”پتا ہے بانو؟ اُس نے مجھے ایک پھول دیا،مگر صبح ہوتے ہی وہ کہیں غائب ہو گیا۔شاید سپنے میں رہ گیا ہے ۔ وہ پھول مجھے پھر مل جائے گا نا بانو؟“ رنگ بہ رنگ دھاگوں کی گوٹیوں سے کھیلتی وہ یک دم بے تاب ہوئی۔
”ہاں ہاں مل جائے گا۔“سلائی مشین پر انہماک سے کپڑے سیتی بانو نے اُس کی جانب امید کی ایک اور گوٹی اُچھالی۔
”تجھے ایک اور بات بتاﺅں بانو ؟“بانو نے چلتا ہاتھ روک کر اُسے تجسس بھری نگاہ سے دیکھا۔چھوٹی چھوٹی بھوری آنکھوں کی سپیاں، ارمانوں کے سمندر میں ڈوب رہی تھیں ۔
”ہمارے اسکول کی پچھلی طرف جو پیپل کا بڑا درخت ہے، وہاں سے کچّی سڑک ایک پکی سڑک کی طرف جاتی ہے ۔جہاں ایک بازار ہے، پرانا بازار،مگر ادھر ہر شے نئی ملتی ہے بانو ۔ وہاں مجھے ایک لمبے بالوں والی گڑیا ملی۔بڑی منت کی امّاں کی، مگر اُس نے خریدا تو سجُّو کا جوتا۔“اُس نے تپتے ہوئے دھاگوں کی گوٹیاں مشین پر دے ماریں، یوں جیسے چھوٹے چھوٹے پتھر سجُّو کے سر پر برسا رہی ہو۔
”ہائے ربّا اِتنا غصہ ؟“بانو نے ادھ سلے کپڑے بکھیرتے ہوئے اُسے بانہوں میں سمیٹا ۔ وہ کچھ دیر سسکتی رہی، پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔نہ جانے اُسے کس بات کا زیادہ دکھ تھا، گڑیا کے کھو جانے کا یا سجُّو کو نیا جوتا ملنے کا۔
وہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ۔اُسے امّاں ابّا سے یہ شکوہ تھا کہ وہ بھائیوں کی نسبت اُس کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے غریب اور بھائیوں سے یہ شکایت کہ وہ ماں باپ کا پیار بٹورنے میں اُس سے زیادہ امیر تھے۔اگر اُسے اِرد گرد کوئی اپنا لگتا، تو وہ بس بانو ہی تھی۔جو اُس کی سہیلی بھی تھی اور راہنما بھی۔ عمروں کی گنتی میں چھے سال کا فرق تھا، لیکن دوستی کی کتاب میں محبت برابر تھی۔
جھالر کے فراک والی پری، سُرخ گلاب، پرانا بازار،نیا جوتا، لمبے بالوں والی گڑیا، رنگ بہ رنگ دھاگوں کی گوٹیاں، معصوم ذہن کی گلیوں میں کچھ دن گتھم گتھا خیالوں کے ہیولے گھومتے رہے۔آخر ایک دن امّاں نے پھیری والے سے اُسے مٹی کا گلّہ لے دیا۔
”اِس میں پیسے جمع کرتی جا، کچھ میں بھی ملاﺅ گی اور پھر تجھے گڑیا لے دوں گی۔“امّاں نے اُسے منایا، تو کملائی صورت پر رونق لوٹ آئی۔
اسکول کے خرچ کے لیے اُسے روز ابّا سے ایک روپیہ ملتا۔چٹ پٹی چیزوں سے اُس کا دل اُٹھنے لگا تھا کیوں کہ میٹھا خواب سامنے تھا۔ وہ پرانے نوٹ پر ننھا ہاتھ پھیر کر روز نئے گلّے میں ڈالتی۔ اپنا پیٹ خالی رکھ کر محبت سے گلّے کا پیٹ بھرتی۔ خواہش کو دل میں پالتے اور گلّے میں پیسے جوڑتے چھے ماہ ہوگئے تھے۔ ابّا بیمار ہوکے گھر بیٹھا، تو اسکول کے راستے ہی بند ہو گئے۔اب سارے گھر کا بوجھ امّاں کے کندھوں پر تھا۔
”دیکھ بینا گلّہ توڑ دے،اپنا سپنا توڑ دے ۔“ امّاں کی کانپتی آواز کے پیچھے پری کی مترنم سرگوشی تھی۔
”میرے پاس کچھ پیسے ہیں، کچھ تو ملا دے۔ تب ہی تیرے ابّا کی دو چار دن کی دوا آئے گی۔ اُس کی کھانسی سن، میرے دل پر لگتی ہے۔“ ایک طرف امّاں کی روتی ہوئی شکل تھی، تو دوسری جانب گڑیا کا ہنستا ہوا چہرہ۔ اُسے خوب صورت پری پر شدید غصہ آیا۔ خواہش کا پہلا پھول، غربت کی زمین پر گِر کے سوکھ چکا تھا۔
کچھ روز دل، حسین پری اور بدحال ماں سے خفا رہا، مگر پھر نئے خواب نے دل کو راضی کر لیا۔
”بانو رات وہ پھر آئی تھی۔“
”کون آئی تھی ؟“سوئی میں دھاگا ڈالتی بانو نے بے دھیانی سے کہا۔
”وہی جھالر کے فراک والی ، پیاری سی پری ۔ایک اور پھول دے گئی ہے وہ۔“ بانو ادھوری بات کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئی۔
”تجھے یاد ہے وہ شبنم کا گلابی غرارہ چولی، جو اُس نے جمیلہ باجی کی مہندی پر پہنا تھا ۔اِس عید پر میں بھی ویسا بناﺅں گی ۔“ وہ مختلف دھاگوں پر انگلیاں پھیر تے ہوئے بولی۔
”ہاں ہاں ضرور بنا، تیرے گورے رنگ پر خوب جچے گا، اُس سانولی پر تو اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔“

admin

Read Previous

میخیں ۔ افسانہ

Read Next

کوزہ گر ۔ افسانہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے