گھر سے مکان تک ۔ افسانہ

 

گھر سے مکان تک
افسانہ
زارا باجوہ

کبھی کبھی خود سے کیے گئے عہد یوں چکنا چور ہوتے ہیں کہ انسان خود سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ وہ یہ سمجھی تھی کہ اپنی قسمت کا فیصلہ وہ خود کرے گی۔ اپنی ضد سے وہ اپنی کھوئی ہوئی عزتِ نفس  حاصل کر لے گی۔ مگر زندگی……آہ! زندگی بڑی استاد ہے۔ ایسے ایسے سبق سکھا جاتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ہم وہی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہوں۔ آج یہی منال اکبر کے ساتھ ہوا تھا اور اس ناکامی کو ہضم کرنے میں شاید اس کی ساری عمر کٹ جانی تھی۔
٭……٭……٭
”امی! مجھے نہیں جانا بس۔“ منال عجیب سے لہجے میں کہتی ہوئی بیڈ پر لیٹے ہلکی سپیڈ پر چلتے پنکھے کی جانب یک ٹک دیکھے جارہی تھی۔
”بیٹا! کیسی باتیں کررہی ہو؟“ امی نے فکرمندی سے کہا۔
”میرا دل پِھر گیا ہے اُس سے۔ میں اس کے گھر میں کبھی واپس نہیں جاؤں گی۔“ اس نے آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے کہا۔ جیسے مزید بات کرنانہ  چاہ رہی ہو۔
”کیا مطلب ہے تمہارا دل پِھر گیا ہے؟ ہر میاں بیوی میں اَن بن ہو جایا کرتی ہے۔ مگر اس طرح دل اچاٹ کر لینے سے گھر تھوڑی بستے ہیں؟ بات ختم کرو اور اپنے گھر جاؤ۔“ اب کی بار امی نے قدرے سختی سے کہا تھا۔
”میں تھک گئی ہوں امی! مجھے لگتا ہے میری روح تک فنا ہوگئی ہے۔“
وہ جانتی تھیں کہ وہ اس وقت اذیت میں ہے۔ مگر ماں ہونے کے ناطے اسے غلط فیصلہ بھی کرنے نہیں دے سکتی تھیں۔ انہوں نے پیار سے اس کا ہاتھ پکڑا اور نرمی سے سمجھانے لگیں۔
”منال! غلطی کسی کی بھی ہو۔ جھکنا ہر حال میں عورت کو ہی پڑتا ہے۔ اٹھو میرا بیٹا، منہ ہاتھ دھو، کپڑے بدلو، میں کسی رکشے کا پتا کرتی ہوں۔“ وہ اٹھنے لگیں تو منال نے سختی سے ان کا بازو پکڑا۔
”امی! آپ کو میری بات کیوں سمجھ میں نہیں آرہی۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔“ ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا گیا۔ اب کی بار آنکھوں میں رضیہ بیگم کوضد اور ہٹ دھرمی نظر آئی تھی۔
”تو کیا ساری زندگی یہیں رہو گی؟ عورت جتنی جلدی واپسی کا سفر کر لے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ دیر ہو جائے تو انا کو مارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ باتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کوئی غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی عورت احساسِ ندامت اور شرمندگی کی چکی میں پسنے لگتی ہے اور بیٹا! یہ نہ ہو کہ ایک وقت آئے کہ تمہارا دل آمادہ ہو جائے واپسی کے لیے اور وہاں کے دروازے تم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوچکے ہوں۔“ انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
”امی! وہ دروازے میرے لیے کبھی نہیں کھلے۔ میں دستک دیتی رہی۔ میرے ہاتھ زخمی ہوگئے مگر اس شخص کے دل پر ایسا قفل لگا تھا کہ میں اپنا سب کچھ ہار کر بھی اُسے جیت نہ پائی۔ اس کے مکان کو گھر بناتے بناتے میں نے خود کی ذات کو ختم کردیا۔ اس کے نزدیک میں غلط ہی رہی۔ بیوقوف ہی رہی۔“ اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر لہجہ بھیگا ہوا تھا۔
”سائبان سر پر نہ رہے تو اس کے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔“ وہ اس کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے کہنے لگیں۔
”دل بغاوت پر اُتر آیا ہے امی۔“ وہ انہیں تکلیف سے کراہتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”عورت ذات ہو اور دل کی سن رہی ہو؟ یہ معاشرہ عورت کو دل سے سوچنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں زندگیاں گزر جاتی ہیں اور عورت کی زندگی سے بے قدری کی دھند نہیں چھٹ پاتی۔ یہاں تو دماغ کی سننی پڑتی ہے تب کہیں جا کر زمانے کی سہنے کے قابل ہو پاتی ہے ایک عورت دل کے راستے چلنے والے اکثر پچھتاتے ہیں منال۔“ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے پیار سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
”تو؟ اب تک دماغ کی ہی تو سنتی آئی ہوں میں۔ کون سے میڈل مل گئے مجھے؟“ اب لہجے میں مایوسی نہیں غصہ تھا۔
”ایک بات کہوں؟ سننے کی ہمت ہے؟“ امی نے کہا۔
”سب سہہ سکتی ہوں میں!“ وہ تلخی سے مسکرائی۔
”گھر کی چار دیواری میں کسی ایک مرد سے ذلیل ہونا بہتر ہے۔ یہاں گھر سے قدم نکلا اور اَن گنت مردوں کے ذلالت بھرے تیر عورت کی آبرو پر اس طرح لگتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ اُسی گھر میں بھلی تھی۔ وہاں ایک تھا اور باہر ہزاروں۔“
آج منال کو محسوس ہورہا تھا کہ اس کی ماں بھی نہ جانے کیا کیا سہتی آئی تھی۔ ابا کا انتقال جب وہ میٹرک میں تھی، ہوگیا تھا۔ ہاشم، اس کا چھوٹا بھائی اس وقت چوتھی کلاس میں تھا مگر اماں آج جس طرح اسے سمجھا رہی تھیں۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے ابا بھی بالکل کوئی عام مرد ہی تھے۔
”امی! یہ پرانے دور کی باتیں ہیں۔ آج کے دور کی عورت اتنی کمزور نہیں کہ مرد کی محتاج ہو۔ پڑھی لکھی ہوں، نوکری کروں گی، اتنی بھی کیا بے بسی۔“ وہ شاید اب خود کو سمجھا رہی تھی۔ امی تلخی سے مسکرائیں۔ بیڈ سے اُٹھتے ہوئے کہنے لگیں۔
”زمانہ عورت کے لیے ایک سا ہے۔ کل بھی یہی کِل کِل تھی اور آج بھی۔“
امی کمرے سے جا چکی تھیں اور منال ہاتھوں کی انگلیوں سے بیڈ شیٹ پر بنے ڈیزائن پر کوئی محل بنا رہی تھی اور پھر ہتھیلی سے مٹا رہی تھی۔
٭……٭……٭

اسے آئے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ ہوچکا تھا اور وہ اپنی ضد پر ویسے ہی قائم تھی۔ رضیہ بیگم کو اب فکر ستانے لگی تھی۔ ہاشم ابھی چھوٹا تھا کہ وہ اس سے کوئی مشورہ کرتیں اور منال سے کوئی بات کرنا فضول تھا۔ اسی لیے آج ہمت کرکے انہوں نے اسجد کو فون کیا۔
”السلام علیکم بیٹے!“ انہوں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔
”جی!“ اس نے سلام کا جواب بھی نہ دیا تھا۔
”اسجد بیٹا! میں جانتی ہوں منال ناسمجھ ہے۔ جانے انجانے میں اس سے غلطی ہوگئی۔ بیٹے مگر تم میچور ہو۔ اسے معاف کردو اور آج آفس سے واپسی پر اسے لیتے ہوئے جاؤ۔“
”آنٹی! اس کا دماغ سدا کا خراب ہے۔ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی ہے۔ میں نے اسے نہیں نکالا۔ آنا ہوگا تو خود آجائے گی۔ میں نہیں آؤں گا۔“ وہ بے اعتنائی  سے کہہ رہا تھا۔
”چلیں بیٹا میں معافی مانگتی ہوں اس کی جگہ۔“ ان کے لہجے میں التجا تھی اور چہرے سے ایک مجبور ماں کی طرح بے بسی جھلک رہی تھی۔ منال کچن میں چائے بنانے جارہی تھی جب اس نے یہ گفتگو سنی۔ وہ غصے سے چلتی ہوئی آئی اور فون ان کے ہاتھ سے پکڑ کر کاٹ دیا۔
”دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟ میں بات کررہی تھی اس سے۔ منا رہی تھی اسے۔“ انہیں غصہ آگیا۔
”امی! اب ہی تو دماغ ٹھیک ہوا ہے میرا۔ آپ نے خواہ مخواہ اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔“ وہ اپنی ضد پرقائم تھی۔
”کوسو گی اس وقت کو تم۔ کون سے خزانے دھرے ہیں یہاں جن کی آڑ میں اتنا اکڑ رہی ہو۔ ساری جمع پونجی لگا کر تمہیں بیاہا تھا۔ سوچا تھا اب سکون ہی سکون ہوگا، مگر نہیں۔ یہاں تو مزاج ہیں کہ سیدھے ہی نہیں ہورہے تمہارے۔“
”امی میں بوجھ ہوں آپ پر؟ کیا بیاہ دینے کے بعد بیٹی کا اپنے گھر سے ہر حق ختم ہو جاتا ہے؟“ اب وہ رونے لگی تھی۔
”ہاں یہی سمجھ لو۔ بوجھ ہو تم اور تمہارا کوئی حق نہیں یہاں پر۔ اپنی کمزور اور بے بس ماں کی مجبوری نہیں سمجھ رہیں تم۔ آج میں ہوں۔ کل کلاں کو جب میں مر گئی تو دیکھو گی ہاشم کی بیوی تمہیں کتنے دن ٹکنے دیتی ہے۔ مجھے ظالم سمجھنا ہے سمجھو۔ دشمن سمجھنا ہے سمجھو، مگر خدا کے لیے اپنا گھر بچا لو۔“ وہ روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگیں۔
”امی! میری کوئی عزت نفس نہیں؟ میرا کوئی گھر بھی نہیں؟ کون ہوں میں؟ نہ کسی کی بیٹی، نہ بہن، نہ بیوی، آخر کون ہوں میں؟ اوقات کیا ہے میری؟ دو سال۔ دو سال میں نے کبھی کوئی شکایت کی؟ کبھی آپ کو اپنے دل پر بیتنے والی تکلیف بتائی۔ نہیں ناں؟“
”دو سال؟ منال دو سال میں تو مرد کا صرف مزاج ہی سمجھ میں آتا ہے۔ اس کے بعد عورت خود کو اس کے مطابق بدلنے لگتی ہے۔ ایک بار ڈھے کر پھر سے بننا پڑتا ہے پھر کہیں جا کر مرد کے دل میں جگہ بنتی ہے۔“
”بس کردیں امی! آپ جتنا مجھے سمجھاتی ہیں میں اتنی ہی باغی ہوجاتی ہوں۔“ وہ غصے میں وہاں سے چلی گئی۔
٭……٭……٭

admin

Read Previous

صبح سویرے آئے چڑیا

Read Next

آشنا ۔ افسانہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!