پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

پشتون لوک ادب سے ماخوذ

تورا بان دیو

گلِ ارباب

مشہور کردار ”تورا بان دیو” کی دل چسپ کہانی!

اونچے پہاڑوں اور سر سبز درختوں کے جھنڈ میں موجود اس بستی میں آج خوف اور دہشت کا راج تھا۔ مائیں ننھے منے بچوں کو سینے سے لگائے سلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بوڑھے اور جوان مرد اپنے ہاتھوں میں لکڑی کے ڈنڈے پکڑے سنہری پہاڑ سے نکلتے سفید دھوئیں کو دیکھ رہے تھے۔ تورا بان دیو ہر مہینے کی چودہ تاریخ کو اسی دھوئیں میں سے نکل کر بستی میں آتا تھا۔ جب وہ آدم بُو آدم بُو کرتا بستی کے گھروں میں جھانکتا تب ماؤں کے دل سینے میں یوں پھڑپھڑانے لگتے جیسے بلی کے پنجوں میں کبوتر پھڑپھڑاتا ہے۔

تورا بان دیو کا جسم پہاڑ جیسا مضبوط اور قد شاہ بلوط کے پیڑ جتنا اونچا تھا۔ اُس کے دانت بہت لمبے اور سفید تھے لیکن ان پر سرخ دھبے صاف نظر آتے تھے۔ آج بھی وہ پہاڑوں سے نکلا اور اب بستی کے ہر گھر میں جھانکتے ہوئے آدم بُو آدم بُو کرتا اپنے شکار کی تلاش میں تھا۔

کنال، گوتم اور اشوک یہ تینوں بھائی دیوار کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ ظالم دیو نے دیکھا تینوں بہت صحت مند ہیں تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اُنہیں اٹھا لیا اور اپنے دانت کچکچاتے ہوئے واپس ہونے لگا۔ تینوں بچے چیخ رہے تھے۔ بستی کے لوگ گھروں سے نکل کر ان کے ماں باپ کو تسلی دینے لگے۔ بچوں کے والدین نے بہت شور مچایا۔ پتھروں اور ڈنڈوں سے دیو کو مارنے کی کوشش کی، لیکن اس کے بھاری وجود پر صرف اتنا اثر ہوا جتنا انسان کے کان پر جوں رینگنے کا ہوتا ہے۔ وہ قہقہے لگاتا ہوا تینوں بھائیوں کو گردن سے پکڑ کر پہاڑوں میں چلا گیا۔

تینوں میں کنال بہت بہادر، گوتم چالاک اور اشوک بہت خوب صورت تھا، لیکن اُن کی خوب صورتی چالاکی اور بہادری اس وقت کسی کام کی نہ تھی۔ انہیں اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔ تورا بان دیو نے انہیں ایک بڑے کمرے میں قید کر دیا۔ اسی کمرے میں نمک مرچ کی بڑی بڑی بوریاں بھی پڑی ہوئی تھیں۔

”ہاہاہا… کل دوپہر کو میں تمہاے اوپر نمک، مرچ، مسالا چھڑک کر ایک ایک کو کچا چبا جاؤں گا۔ گوتم اور اشوک سہم کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، جب کہ کنال بہادری سے سینہ تان کر تورا بان کو گھور رہا تھا۔

دیو ہنستا ہوا باہر نکلا تو تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ”تم لوگ فکر نہ کرو ہم اس ظالم دیو کی قید سے رہائی پا لیں گے۔” کنال نے کہا تو گوتم اور اشوک بھی سوچنے لگے کہ یہاں سے کیسے نکلا جائے؟

اسی وقت بھاری جادوئی دروازہ کھلا اور ایک سنہرے بالوں والی خوب صورت لڑکی تین نوکروں کے ساتھ اندر آگئی۔ اُن کے ہاتھوں میں طرح طرح کے کھانوں کے تھال تھے۔

”میں اس محل کی شہزادی ہوں، میرا نام تانیا ہے۔ تورا بان دیو میرا مالک ہے۔ یہ کھانا اس لیے ہے کہ تم لوگ اسے کھا کر میرے مالک کی خوراک بننے کے لیے کچھ اور بھی صحت مند ہوجائو۔” شہزادی کی آواز بہت میٹھی لیکن بات بہت کڑوی تھی۔ چالاک گوتم نے اک منصوبہ بنا کر اُس سے پوچھا: ”اے پیاری شہزادی! آپ کا مالک تو اتنا بد صورت اور خطرناک شکل و صورت والا ہے جب کہ آپ پریوں کی ملکہ لگتی ہو۔”

وہ خوش ہوکر بولی: ”ہاں اے اجنبی لڑکے! یہ سچ ہے لیکن اُس نے مجھے پالا ہے۔ وہ میرے باپ کو قتل کر کے مجھے اور میری ماں جینا پری کو زبردستی محل سے اٹھا لایا تھا پھر وہ میری ماں کو شادی کے لیے مجبور کرتا رہا۔ میری ماں نے اپنے شوہر، محل، ماں باپ اور سہیلیوں کے غم میں موت کو گلے لگا لیا۔ تب تورا بان دیو نے میری پرورش بہت سخت انداز میں کی اور میری خوب صورتی دیکھ کر مجھے اس محل کی شہزادی بنا دیا۔” شہزادی کی داستان سن کر گوتم نے جلدی سے پوچھا: ”شہزادی صاحبہ! کیا آپ کو محل سے نکلنے کی اجازت ہے؟” شہزادی تانیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ روتے ہوئے بولی:

”اے اجنبی لڑکے! میں جب سے یہاں آئی ہوں آج تک اس محل سے باہر نہیں نکلی۔ محل کی دیواریں فلک بوس ہیں اور میں کمزور سی لڑکی۔” شہزادی اُداس ہوگئی تھی ۔ ”اچھا اب زیادہ باتیں نہ کرو اور کھانا کھا لو ورنہ مالک مجھ سے ناراض ہو کر سزا دیں گے۔” یہ کہہ کر شہزادی اور اس کے نوکر واپس چلے گئے۔

وہ تینوں بھائی سر جوڑے باہر نکلنے کے منصوبے بنا رہے تھے کہ دو کنیزیں ہاتھوں میں پھلوں اور میٹھے کے تھا ل لے کر حاضر ہوگئیں۔ انہیں دیکھ کر خوب صورت بھائی اشوک نے چالاک بھائی گوتم کے اشارے پر رونا شروع کردیا اور باقی دو اسے تسلی دینے لگے۔

”مجھے اس خوب صورت شہزادی کی یاد ستا رہی ہے جو تورا بان دیو کی خاص شہزادی ہے۔ میں نے اتنی حسِین شہزادی زندگی میں نہیں دیکھی۔” کنیزوں نے واپس جا کر سارا ماجرا شہزادی تانیا کو سنا دیا۔ شہزادی بہت متاثر ہوئی اور تورا بان دیو کی نظروں سے چھپ کر رات کو اُن سے ملنے آگئی۔

اشوک نے خوشی کا اظہار کیا تو شہزادی اُداس ہوکر بولی: ”اے اجنبی آدم زاد! مجھے افسوس ہے کہ تم لوگ میرے مالک کی خوراک بننے والے ہو، تم سے پہلے بھی ہر مہینے صحت مند اور خوب صورت آدم زاد میرے مالک کی خوراک بنے ہیں، لیکن کبھی اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا آج ہو رہا ہے۔”

گوتم نے کہا: ”اے خوب صورت شہزادی! میرے پاس ایک منصوبہ ہے۔ اگر تم ہمارا ساتھ دو تو سب کی جان بچ سکتی ہے اور ہم تمہیں بھی اس محل سے رہا کرا سکتے ہیں۔” شہزادی کچھ دیر سوچ کر اُن کی مدد کے لیے راضی ہوگئی لیکن اس نے تینوں بھائیوں کو بتایا کہ تورا بان دیو کو مارنا اُن کے بس کی بات نہیں ہے کیوں کہ اس کی جان ایک طوطے میں ہے۔ وہ طوطا سات سمندر پار تورا بان کے خفیہ محل میں بند ہے۔ البتہ اس وقت تم سب کو اس قید سے نجات تورا بان کو گرا دینے سے بھی مل سکتی ہے، کیوں کہ یہ اتنا بھاری بھرکم ہے کہ اگر ایک دفعہ زمین پر گر گیا تو پھر اُٹھ نہیں سکتا، ایک بار یہاں سے نکلو پھر میں تم لوگوں کو اس طوطے تک پہنچنے کا طریقہ بتا دوں گی۔” تینوں بہت خوش تھے کہ زندگی بچنے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔

دوسری صبح شہزادی نے اپنی کنیزوں سے کہا: ”تورابان مالک اس بار آدم زاد کو کچا نہیں کھائیں گے بلکہ مکھن میں تل کر کھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے مکھن کی چاٹیاں قید خانے میں رکھوا دو۔” انہوں نے حکم کی تعمیل کی ۔

دوپہر کو جب تورا بان دیو بھوک سے بے تاب ہو کر تہ خانے میں داخل ہوا تو گوتم نے چالاکی دکھاتے ہوئے چاٹی سے مکھن نکال کر زمین پر گرا دیا۔ مکھن سے تورا بان کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ دیو کے گرتے ہی سارا محل یوں ہلنے لگا جیسے بھونچال آگیا ہو ۔

تورا بان کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ شعلے انہیں جلاتے، بہادر کنال چلّایا: ”جلدی کرو۔” پھر تینوں بھائیوں نے قریب پڑی بوریوں سے نمک اور مرچوں کی مٹھیاں بھر بھر کر اُس کی آنکھوں میں ڈالنا شروع کر دیں۔ دیو اتنا بھاری تھا کہ اسے زمین سے اٹھانے کے لیے بہت سارے جنّوں کو بلانا ضروری تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کی تکلیف سے تڑپ کر غلاموں اور کنیزوں کو پکارنا شروع کر دیا، لیکن وہ سب اس ظالم سے اتنا تنگ تھے کہ کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ بہادر کنال نے کہا: ”اے ظالم دیو: تم انسانوں پر ظلم کرتے رہے ہو اور جنات بھی تم سے تنگ ہیں۔ تمہاری سزا یہ ہے کہ اس قید خانے میں بند رہو اور بھوکے پیاسے تڑپ تڑپ کر مر جاؤ۔”

دیو نے قہقہہ لگا کر کہا: ”اے بے وقوف آدم زادو! تم لوگ مجھے کسی صورت نہیں مار سکتے، جب تک کہ اس طوطے کو نہ مارو گے جس میں میری جان ہے۔”

تینوں بھائیوں نے یک زبان ہو کر عزم کیا کہ ہم تمہاری جان اس طوطے سے ضرور نکالیں گے اور ہماری مدد ہمارا مالک کرے گا۔”

تورا بان دیو کے زمین پر گرنے سے اس کے جادو کا محل ٹوٹ کر بکھرنے لگا تھا۔ شہزادی تانیا نے کنیزوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا اور خود خوب صورت بھائی اشوک کا ہاتھ پکڑ کر آدم زادوں کی دنیا کی جانب روانہ ہوگئی ۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

وہ کون تھا؟ ۔ نانگا پربت کی لوک کہانی

Read Next

بلوچستان کی لوک کہانی ۔ سُنہری برتن ۔ لوک کہانی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!