وہ کون تھا؟ ۔ نانگا پربت کی لوک کہانی

نانگا پربت کی لوک کہانی

وہ کون تھا؟

زرین قمر

”یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں، لیکن پھر بھی اسے کئی سال بیت چکے ہیں۔ ان دنوں ہوائی جہاز اتنے عام تھے نہ جدید۔ بلتستان میں کوہ پیمائی کے لیے ہندوستان کے اندر اور باہر سے چند لوگ وادی میں پہنچے۔ وہ نانگا پربت کی چوٹی پر جانا چاہتے تھے۔ تمام حفاظتی سامان سے لیس وہ اپنے استاد کے ساتھ وادی سے روانہ ہوئے جہاں سے پہاڑ پر چڑھائی کا مرحلہ شروع ہونا تھا۔

پہاڑوں پر جگہ جگہ برف جمی ہوئی تھی۔ سب اسکاؤٹس اپنے استاد شیر دل کے ساتھ کوہ پیمائی کرتے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں جنگلی درخت خاصی تعداد میں تھے اور وہاں پہاڑوں سے بہ کر آنے والی ندی گزر رہی تھی۔ وہ کئی گھنٹے چلنے کے بعد کچھ تھکن محسوس کرنے لگے۔ چناں چہ کچھ دیر آرام کی غرض سے اسی جگہ بیٹھ گئے۔ اچانک شیر دل کی نظر دور ایک وجود پر پڑی جو برف میں دھنسا ہوا تھا۔

”تم سب رکو، میں ابھی آتا ہوں۔” استاد شیر دل جلدی سے اس طرف لپکا۔ اس نے قریب پہنچ کر برف میں دھنسے اس انسانی وجود کو چُھوا جو زندہ تھا پھر ڈرتے ڈرتے اسے مخاطب کیا:

”تم… تم کون ہو؟” شیر دل کو دیکھ کر وہ اجنبی اُٹھ بیٹھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ اس کا خاکی لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔

”اے دوست! تم کون ہو؟” شیر دل نے ایک بار پھر پوچھا۔ وہ اجنبی اب خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”میرا خیال ہے تم کوہ پیما نہیں ہو؟ کیا راستہ بھول گئے ہو؟” شیر دل نے اس کے چہرے سے برف کے ذرّات ہٹاتے ہوئے پوچھا۔

”مم… میرا خیال بھی یہی ہے، یہ کون سی جگہ ہے؟” اجنبی نے یوں کہا جیسے وہ نیند میں بول رہا ہو۔

”ہم اس وقت نانگا پربت پر ہیں اور اس قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کو عبور کرنا چاہتے ہیں۔” شیر دل نے کہا۔

”کلر ماؤنٹین؟” اجنبی نے یوں دہرایا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا۔

”ویسے تم یہاں کیا کررہے تھے؟ اور برف میں کیسے پھنس گئے؟” شیر دل نے اجنبی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”مجھے کچھ پتا نہیں۔” اجنبی نے جواب دیا۔

”اوہ! کیا تم اکیلے ہو؟” شیر دل نے دوبارہ پوچھا۔

”شاید… شاید میں اکیلا ہی ہوں۔” اُس نے مبہم سا جواب دیا۔ اس بار اُس کی نظریں اسکاؤٹس کے گروپ پر تھیں جو ندی سے اپنے ترماس میں پانی بھرتے ہوئے آپس میں مذاق کررہے تھے۔

”تمہارے پاس کھانے پینے کو کچھ ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

”نہیں، کچھ نہیں ہے۔” اس نے مختصر جواب دیا جس پر شیر دل کو حیرت ہوئی۔

”تمہارا نام کیا ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

”احمد علی… احمد علی اوستم ہے میرا نام۔” اس نے جواب دیا۔

”اوستم! میرا نام شیر دل ہے۔ تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی، تم چاہو تو ہمارے ساتھ چل سکتے ہو۔” شیر دل نے اسے پیشکش کی۔

”تم کہاں جارہے ہو؟” اوستم نے پوچھا۔

”ہم اس چوٹی کو سر کرنے آئے ہیں، اگر تم ہمارے ساتھ چلو تو ہم تمہیں اس پہاڑ کے دوسری جانب بنے رینجر اسٹیشن تک چھوڑ سکتے ہیں۔” شیر دل کو اس کی حالت پر ترس آرہا تھا۔

”ہم وہاں کب تک پہنچیں گے؟” اوستم نے پوچھا۔

”کل سہ پہر تک۔” شیر دل نے مسکراتے ہوئے کہا تو اوستم لاچارگی سے اُسے دیکھنے لگا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ شہری آبادی یہاں سے کتنی دور ہے اور بغیر خوراک کے کب تک گزارا کرسکے گا۔

”ٹھیک ہے۔” اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد مجبوراً منہ کھولا۔

”چلو… آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اُسے ساتھ لیا اور اپنے ساتھیوں سے جا ملا۔ اب سبھی اونچی چٹانوں پر آگے بڑھنے لگے۔ اوستم بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار کلر ماؤنٹین، کلر ماؤٹین کے الفاظ گونج رہے تھے اور وہ بار بار ہلکی آواز میں انہیں دہرا رہا تھا۔ شیر دل کا پورا دھیان اس کی طرف تھا۔

کچھ دور چلنے کے بعد وہ دو پہاڑیوں کے درمیان تنگ سے راستے میں داخل ہوگئے۔ اب پہاڑیوں پر جمی برف کی تہ موٹی ہوتی جارہی تھی۔ پائن کے اونچے اونچے درخت سر اٹھائے کھڑے تھے۔ ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ کئی گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد شیر دل نے اسکاؤٹس کو رکنے کا اشارہ کیا۔

”آپ سبھی لوگ تھوڑی دیر آرام کر لیں کیوں کہ یہاں سے آگے کئی بل دار پگڈنڈیاں ہیں۔ راستہ دشوارہو گا۔”

”اوکے سر!” ایک اسکاؤٹ نے جواب دیا۔ پھر وہ اپنے تھرماس اور بوتلوں سے پانی پینے لگے تھے۔

”بہت زیادہ پانی مت پیو، تمہارے پیٹ میں مروڑ شروع ہوجائیں گے۔” شیر دل نے انہیں تنبیہہ کی۔

بے تحاشا سرد موسم کے باوجود شیر دل کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔ یہ دیکھ کر اوستم نے اپنی جیب سے نیلے رنگ کا رومال نکالا اور خاموشی سے اس کی طرف بڑھایا۔

”میرا خیال ہے میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور کوہ پیمائی اب مجھے تھکا دیتی ہے۔” شیر دل نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا پھر اس نے شکریہ کہہ کر رومال واپس اوستم کو دے دیا۔ کچھ لمحوں بعد شیردل نے ایک گھونٹ پانی پیا اور تھرماس اوستم کی طرف بڑھایا لیکن اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ شیر دل نے نوٹ کیا کہ اسے پیاس محسوس ہوئی اور نہ وہ تھکا ہوا لگ رہا تھا، البتہ بیمار ضرور تھا۔

”کیا تم تھکے نہیں ہو؟” شیر دل نے حیرت سے پوچھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔” اوستم نے کہا۔

”اس کا مطلب ہے تم مجھ سے بہتر ہو، دراصل میں نے ان اسکاؤٹس کے ساتھ خاصی کوہ پیمائی کی ہے، اسی لیے تھک گیا ہوں۔” شیر دل نے ہنستے ہوئے کہا پھر وہ دوبارہ اوستم کو مخاطب کرنے لگا:

”سنو! تم نے کبھی کوہ پیمائی کی ہے؟” اس نے ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا تو اوستم کچھ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

”مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری بیوی اور ایک بچہ تھا۔” اُس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو سب حیران رہ گئے۔

”ہم اس بچے کا نام محمد علی رکھنے والے تھے۔” اس نے پھر کہا۔

”رکھنے والے تھے؟ کیا مطلب؟” شیر دل نے مزید حیرت سے پوچھا۔

”جب وہ پیدا ہوا تو میں اُن کے ساتھ نہیں تھا۔” اوستم کے لہجے میں دکھ اور مایوسی تھی۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جیسے کسی دردناک حادثے کو یاد کررہا ہو۔

”اوستم… اوستم سنو!” شیر دل نے اسے پکارا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی بے چینی برقرار تھی۔

”اوستم! سنو میں تم سے بات کررہا ہوں۔” شیر دل نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ تمام کوہ پیما اُس کی حالت دیکھ کر دائرے کی صورت میں اس کے اردگرد جمع ہوگئے۔

”میں ٹھیک ہوں۔” اچانک اوستم نے کہا۔

”مجھے لگ رہا ہے جیسے تم میری بات سن ہی نہیں رہے، تمہارے چہرے پر ایسے عجیب تاثرات ہیں جو میں نے پہلے کبھی کسی شخص کے چہرے پر نہیں دیکھے۔” شیر دل نے کہا۔

”میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔” اوستم نے ایک بار پھر مختصر جواب دیا۔

”چلو! آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اسکاؤٹس کو اشارہ کیا۔

ایک گھنٹے تک وہ پہاڑ پر چڑھتے رہے اور اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ ان میں اتنی تیزی تھی کہ برفیلی چٹانوں پر قدم جمانا مشکل تھا۔ کئی بار وہ لوگ پھسلے لیکن ان سب نے اپنی کمر کے گرد رسی باندھی ہوئی تھی اور ہاتھوں میں پہاڑ پر چڑھنے کے لیے استعمال ہونے والی کلہاڑیاں تھیں۔ بڑی بڑی لوہے کی کیلیں ان کی کمر کے گرد لٹک رہی تھیں جنہیں وہ ضرورت کے وقت استعمال کرتے تھے۔ برف باری شروع ہوئی تو تیز ہوا کے جھکّڑ چلنے لگے۔

”اندھیرا ہونے سے پہلے ہمیں محفوظ جگہ پر رکنا ہوگا لیکن دور دور تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں رکا جاسکے۔” شیر دل نے اطراف پر نظر دوڑائی ہر طرف برف پوش پہاڑیاں اور بادل نظر آرہے تھے۔

اچانک شیر دل کا پاؤں پھسلا اور وہ تیزی سے کئی فٹ تک نیچے گرتا چلا گیا۔ موت اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔

”بب… بچاؤ… مم… میں گررہا ہوں۔” شیر دل کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ اچانک کسی نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ شیر دل نے سر گھما کر دیکھا، وہ اوستم تھا۔ اس نے شیر دل کو اوپر کھینچ لیا۔ حواس ذرا بحال ہوئے تو شیر دل کو یاد آیا کہ اوستم تو اس کے ساتھ تھا۔ وہ اتنی جلدی اس تک کیسے پہنچ گیا؟ یہ سوچتے ہوئے وہ ایک پتھر پر بیٹھ گیا، پھر اندھیرا پھیلنے تک اوستم انہیں ایک ایسے غار تک لے گیا جو برف پوش پہاڑی پر واقع تھا۔ وہ رات انہوں نے اس غار میں گزاری۔

”تم صبح سے ہمارے ساتھ ہو ابھی تک کچھ نہیں کھایا، پہلے ہی کمزور ہو کچھ کھالو۔” ایک سینئر اسکاؤٹ نے احمد علی اوستم سے کہا۔

”مجھے بھوک نہیں ہے۔” اس نے مختصر بات کی۔

صبح صادق ہوتے ہی انہوں نے دوبارہ کوہ پیمائی شروع کردی۔ اب وہ چوٹی کے خاصے قریب پہنچ گئے تھے۔

”ہم چوٹی سر کرنے کے بعد ہی دم لیں گے۔” شیر دل نے اپنے ساتھیوں سے کہا تو ان کا جوش اور ولولہ مزید بڑھ گیا۔ ایک گھنٹے بعد وہ چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔

شیر دل نے نیچے نظر دوڑائی، دور پہاڑوں کے دامن میں اسے شوگران کی وادی نظر آئی۔ ان کا راستہ پہاڑیوں کے گرد چکر کھاتا ہوا نیچے جارہا تھا۔ کچھ ہی نیچے آنے کے بعد، اوستم نے راستے کے بائیں جانب چھوٹے سے برف کے میدان کی طرف دیکھا جہاں جگہ جگہ ہلکی دھات کی شیٹیں برف میں دبی تھیں۔ ان کے جو حصے باہر تھے وہ دھوپ میں چمک رہے تھے۔

”وہ کیا ہے؟” اوستم نے پوچھا۔

”یہ کسی پرانے جہاز کے ٹکڑے ہیں، کیا تم ان کے بارے میں نہیں جانتے؟” شیر دل نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔

”یہ جہاز بہت سال پہلے ایک برفانی طوفان میں گر گیا تھا۔ اس وقت جہازوں میں راڈار نہیں ہوتے تھے۔”

”یہ کیسے کریش ہوا؟” اوستم نے مزید پوچھا۔

”اس کا پائلٹ بہت اونچی پرواز کر رہا تھا۔ شدید طوفان کی وجہ سے اُسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا چناں چہ جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا۔” شیر دل نے کہا پھر وہ ان دھاتی ٹکڑوں کی طرف بڑھنے لگے۔

”میں جب بھی اس پہاڑی پر چڑھتا ہوں تو یہ اپنی جگہ سے کچھ ہلے ہوتے ہیں لیکن میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔” شیر دل نے بتایا۔ اب وہ چکر دار راستے سے گزرتے ہوئے ان دھاتی ٹکڑوں تک آگئے تو ان کی نظر جہاز کے اس حصے پر پڑی جس میں انجن تھا۔ وہ جہاز بس دو افراد کے بیٹھنے کے لیے ہی تھا۔

”کیا کوئی زندہ بھی بچا تھا؟” کچھ دیر بعد اوستم نے سوال کیا۔

”نہیں، وہ دونوں مر گئے تھے ان کی باقیات پہاڑی پر بکھر گئی تھیں۔”

اوستم اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا جیسے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہو۔

”دیکھو! ہم تقریباً پہنچ چکے ہیں بس تھوڑی دیر کا سفر ہے۔” شیر دل نے اسے حوصلہ دیا۔ مگر وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔

”اوستم! کیا ہوا؟ رک کیوں گئے؟” شیر دل اب اس کے قریب آکر پوچھنے لگا جیسے ہی اس نے اوستم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ایک دم تڑپ اٹھا۔

”کیا ہے؟ جاؤ تم لوگ… مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔” غصے سے اُس کی آنکھیں لال ہورہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ رو رہا ہو۔ یہ دیکھ کر شیر دل گھبرا گیا، وہ ذرا سا پیچھے ہٹ کر حیرانی سے اوستم کو دیکھنے لگا۔

”مجھے تنہا چھوڑ دو۔” اوستم نے زور سے کہا تو شیر دل جھٹ سے پیچھے ہٹ گیا پھر وہ بوجھل قدموں سے اسکاؤٹس کے پاس جاپہنچا۔

سفر کرتے کرتے وہ سب چوٹی کے عین اوپر والے حصے پر پہنچ چکے تھے۔ خوشی سے انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ مبارک باد دی پھر شیر دل تمام اسکاؤٹس کو لے کر رینجر کیمپ میں چلا گیا۔ کیمپ کے انچارج نے ان کا استقبال کیا۔ خیرو عافیت دریافت کرنے کے بعد شیر دل نے ذرا جھجکتے ہوئے اوستم کا ذکر چھیڑ دیا۔

”اوہ! تمہیں کہاں ملا؟” کیپٹن نے اس سے دریافت کیا۔

”وہ وہاں پہاڑی کے مغربی سلسلے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔” شیر دل نے کہا۔ 

”اچھا! تم میرے سوالوں کا جواب دو، کیا وہ تیس سال کا لگتا ہے؟”

”ہاں، بالکل لگتا ہے۔”

”اس کا قد چھے فٹ اور خاکی وردی پہنی ہوئی ہے؟”

”ہاں!” شیر دل کے لہجے میں حیرت تھی کیوں کہ اس نے کیپٹن کو اوستم کا حلیہ نہیں بتایا تھا۔

”اس کے بال کالے، رنگ گورا اور آنکھیں نیلی ہیں؟” کیپٹن نے پوچھا۔

”اوہ! بالکل ایسا ہی ہے۔”

”وہ بولتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے نیند میں ہو؟”

”ہاں، ایسا ہی ہے جیسے وہ برسوں سے بیمار ہو۔”

”بس پھر… وہ کبھی کیمپ میں نہیں آئے گا۔” کیپٹن نے مسکرا کر کہا۔

”اوہ! وہ… وہ ہے کون؟” شیر دل اور اس کے ساتھی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ۔

”اس ٹوٹے ہوئے جہاز کا پائلٹ۔” کیپٹن نے بتایا اور تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔

”میں لوگوں کے بتانے پر کئی بار وہاں گیا ہوں لیکن وہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا، اس کا تعلق ریسکیو ٹیم سے تھا وہ کوہ پیمائی کرنے والوں کی جانیں بچاتا تھا۔ ایک دن کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم برف میں پھنس گئی۔ اوستم نے بچانے کی بہت کوشش کی مگر طوفان شدید تھا۔ وہ ٹیم کو نہ بچا سکا بلکہ خود بھی اسی طوفان کی نذر ہوگیا۔ اس کا جہاز کہیں برف میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔” کیپٹن نے افسردگی سے تفصیل بتائی۔

”اوہ! حیران کن…” شیر دل کو دھچکا لگا اور وہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھی بھی مارے حیرت کے کیپٹن کو دیکھ رہے تھے۔ بلتستان کے باسی آج بھی یہ کہانی سناتے ہیں۔ کہتے ہیں کئی سال گزرنے کے بعد آج بھی اوستم برف میں پھنسنے والوں کو مشکل سے نکالتا ہے۔ آج بھی وہ کسی سائے کی طرح نانگا پربت کے دیس میں نظر آتا ہے۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

آدھی پوری ۔ لوک کہانی

Read Next

پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے