والٹ ڈزنی ۔ شاہکار سے پہلے


والٹ ڈزنی
صوفیہ کاشف

ایک اینی میٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا پہلا پراجیکٹ کرتے اور ہزاروں ڈالر کا مقروض ہوتے ہوے، بینز (beans) کے ڈبوں پر گزارا کرتے اور آفس کے کاغذات اور کینوس کے ڈھیر میں سوتے جب والٹ سے یہ پوچھا جاتا کچھ پیسہ بھی کمایا تو وہ ہنستا اور کہتا: ” نہیں!…… لیکن مجھے مزا خوب آیا”.
مکی ماﺅس کے باپ اور ڈزنی لینڈ کے خالق والٹ ڈزنی سے کون واقف نہیں۔ والٹ ڈزنی جو خود کو والٹ کہلانا پسند کرتا خوبصورت خوا ب دیکھتا اور ان خوابوں کو زندگی کے سنگ دل حقائق کے بیچ ممکن کر دیتا۔ والٹر الائس ڈزنی کی زندگی کا آغاز ہی مشکلات اور غربت سے بھرپور تھا.. اس کی پلکوں سے جڑے خوابوں کے انداز کچھ بھی ہوں مگر زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتے والٹ ڈزنی نے اپنے شوق، محبتوں اور جذبوں کو سب سے اونچا رکھا اسی لیے ہمیشہ اپنے کام سے لُطف اٹھاتا رہا۔ مُسکرانا، عزم لیے معاشی مسائل سے گزر جانا ڈزنی کی زندگی کا نصب العین تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ وہ معاشی پسماندگی بھی تھی جنہوں نے اس کا بچپن مشکلات کی نذر کرکے اس کے کھیل اور مسکراہٹوں کو اس سے چھین لیا تھا۔ حالات کی سختی سے وہ کندن بن کر نکلا تھا اور ہر حا ل، ہر مشکل میں ہنسنے مسکرانے اور پرُعزم رہنے کا ہنر سیکھ چکا تھا۔ اپنے جوان دل کی ہر دھڑکن پر وہ ناچنا اور اپنے سب خوابوں کو دن کی روشنی میں جینا چاہتا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ خواب اور جذبے عورت، دولت اور نشے کے گرد نہیں بلکہ اپنے کارٹون کرداروں کی مسکراہٹوں چٹکلوں اور اٹھکھیلیوں کے گرد گھومتے تھے۔ مکی ماﺅس کی انگلی تھام کر خوابوں کی پرُمسرت اور رنگین دنیا کے سفرپر نکلتے والٹ ڈزنی کے عشق کا دیوتا کارٹون کرداروں کی ہنستی مسکراتی دنیا تھی۔
“آخر تم کب بڑے ہو گے؟” اس کے دوست اکثر اس سے کہتے۔
سنہرے بالوں اور تیکھے نقوش والے شرارتی اور ہنس مکھ والٹ ڈزنی کا بچپن مارسلین کے ایک فارم ہاوس پر گزرا۔ سنگترے کے زرد درختوں، بیدِ مجنوں اور گل باس کے جامنی پھولوں کے بیچ گھڑ سواری کرنا، جھیل کے ٹھنڈے پانی سے مچھلیاں پکڑنا، برف سے بھرے میدانوں میں پھسلنا اس کے بچپن کی گہری یادوں کا حصہ ہے۔ مارسلین کی دو بہترین یادیں جنہوں نے والٹ کے آنے والے مستقبل کی سمت تعین کرنے میں مدددی۔ وہ آنٹی میگی اور انکل ڈاک شیرڈ کی شفقت اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ آنٹی میگی والٹ کو ونڈر بواے کہہ کر پکارتیں اور انکل شیرڈ نے خاص طور پرسات سالہ والٹ سے اپنے محبوب گھوڑے کا خاکہ بنوایا اور معاوضے کے طور پر ایک نکل والٹ کو ادا کیا۔ بعض روایات کے مطابق اس خاکے کو فریم کروا کر اپنے کمرے کی زینت بھی بنایا۔ آٹھ سال تک رنگوں، تصویروں اور خاکوں کے ساتھ مارسلین کے کھلے ہرے میدانوں، اونچے گھنے درختوں اور فطرت کی خوب صورتیوں نے والٹ کی زندگی میں رنگ بھرے اور یہ وقت والٹ کی زندگی کا سب سے متاثر کن باب تھا جسے والٹ نے ہمیشہ اپنی یاداشت میں محفوظ رکھا۔
پچھلی دو صدیوں میں سب سے زرخیز تخیل کے مالک والٹ کی محنت ،جستجواور ریاضتوں کی کہانی جوانی کے خوبصورت خوابوں سے نہیں بلکہ بچپن کی نوخیز نرم ہتھیلیوں اور ننھے پیروں سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ فطرت جن افراد کو بُلند مقام کے لیے تخلیق کرتی ہے انہیں کندن بنانے کے لیے آغاز سے ہی معصوم اور کمزور ہاتھوں کو سنگِ آشنائی عطا کر دیتی ہے۔ سڈنی شیلڈن کی طرح ڈزنی کا بچپن بھی غربت اور افلاس میں والدین کے شانہ بہ شانہ معاشیات کو سنبھالنے کی کوشش میں گزرامگر سڈنی شیلڈن سے زیادہ مشکل اس طرح کہ والٹ ڈزنی کی مشقت کی ابتدا آٹھ نو سال کی عمر سے ہو چکی تھی۔ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتے نو سالہ والٹ ایک بڑے علاقے میں گھر گھر دو بار اخبار پہنچاتا مگر اس کے باوجود اس کی جیب میں پاکٹ منی کہ نام پر ایک سکّہ تک نہ ہوتا۔ پاکٹ منی کے حصول کے لئے نو سالہ والٹ نے فارمیسی کی دوائیاں سپلائی کیں، اپنی مقرر تعداد سے زیادہ اخبارات کی سپلائی کی اور سکول کے تفریح کے اوقات میں ایک دُکان پر ٹافیاں بیچیں تاکہ خود کچھ سکّے والد سے نظر بچا کے اپنے لیے بچا سکے۔
“اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ہر وقت کام میں مصروف تھا۔ میرا مطلب ہے مجھے در حقیت کھیلنے کا وقت نہ ملا!”
نو سال کی کم عمری میں جب آسودہ حال گھرانوں کے بچے جھولوں، کھلونوں اور والدین کی گود میں وقت گزارتے، والٹ کے پاس کھیل سیکھنے، کھیلنے اور نیند پوری کرنے کا وقت نہ تھا۔ سردی ہو یا گرمی، کُہر ہو یا برف باری، والٹ ڈزنی کو اپنی مزدوری ہر موسم اور ہر حال میں نبھانی پڑتی۔ وہ کبھی دوسرے بچوں کی طرح گیند پکڑنا نہ سیکھ سکا کیوں کہ گیند پکڑنا سیکھنے کے لیے اس سے کھیلنا ضروری ہے اور نو سالہ کمسن مزدور کے پاس کھیلنے کا وقت نہ تھا۔ لوگوں کے گھروں میں اخبار پہنچاتے ان کے پورچ میں کہیں ڈزنی کو کھلونے نظر آتے تو وہیں بیٹھ کر کچھ دیر ان سے کھیلتا اور پھر کھلونے وہیں چھوڑ کر اٹھ جاتا۔
اخباروں سے بھرا ریڑھا دھکیلتے سردی سے کپکپاتے تھک کر کبھی اخباروں کے ڈھیر میں اور کبھی کسی گاہک کے گھر کے گرم پورچ میں لیٹ کر سو جانا والٹ ڈزنی کا شوق نہیں جان توڑ مجبوری تھی اور یہ مزدوری کم و بیش چھے سال تک والٹ نے نبھائی۔ اس مشقت کی تھکاوٹ اور مزدوری کی الجھنیں اس کے لاشعور پر ایسے گہرے نقوش چھوڑ گئیں کہ ساری عمر اسے ایک ڈراﺅنے خواب کی طرح یاد رہیں۔ حتیٰ کہ چالیس سال کی عمر میں بھی والٹ آدھی رات کو پسینے سے شرابور اس خوف سے اُٹھ بیٹھتا کہ کہ کوئی گھر اخبار پھینکنے سے رہ نہ جائے اور گلی کی نکڑ پر کھڑا اس کا باپ، اسے دوبارہ وہاں اخبار پھینکنے کے لئے اسی طویل رستے پر نہ دوڑا دے۔
معاشی بدحالیوں اور جابہ جا بدلے گئے کاروبار میں ناکامیوں کا شکار الائس ڈزنی (باپ) کے مزاج کی تلخی اور معاشی مسائل کی سختی دو بیٹوں کے سہارا بن جانے کے باوجود حل ہونا تو کجاکم بھی نہ ہوئی۔ بڑے دو بیٹوں کے گھر سے بھاگ جانے نے تندی مزاج پر اور بھی برا اثر ڈالا۔ باپ کی شکست خوردہ اور ٹوٹی ہمت کا سارا غصہ دو چھوٹے بیٹوں پر نکلتا اور وہ ہتھوڑوں اور ڈنڈوں سے اپنے بازو اور سہارا بنے بیٹوں پر حملہ آور ہو جاتا۔ نارسائی اور محرومیوں سے بھرے بچپن میں والٹ اور راے (بھائی) معاشی حالات کی تلخی کے ساتھ ایک ناکام ترین باپ کی زودورنجی پٹائی کی صورت برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
سٹی کا سکول…….. والٹ کے لیے ایک نیا قدم ثابت ہوا۔ ہر وقت تصویریںاور خاکے بنانے والا والٹ بہت جلد سکول میں نمایاں نظر آنے لگا اور جلد ہی سکول کا باقاعدہ آرٹسٹ اور سکول کے سرکاری اخبار میں کارٹونسٹ مقرر ہو گیا۔ سکول میں گزارے سات سالوں کا جو سب سے اہم کام والٹ نے کیا وہ ڈرائنگ، ڈرائنگ اور صرف ڈرائنگ تھی۔ کارٹون اور خاکے بنانا اور ان کی نمائش کرنا والٹ کا بنیادی مقصد بن چکا تھا اور جب وہ خاکے نہیں بناتا تو وہ خاکہ نگاری پر غوروخوص کرتا اور کسی اخبار سے جڑے اپنے ایک کارٹونسٹ بننے کے مستقبل کے میٹھے میٹھے سپنے دیکھتا۔ والٹ کے اس قدر جنون کو دیکھتے ہوئے اس کے باپ نے والٹ کو آرٹ کلاس کی اجازت دی اس کے باوجود اس وقت اس شعبے کا عام عوام کی نظر میں کہیں کوئی مستقبل نہ تھا۔ والٹ نے اپنی دلچسپی میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ہفتہ وار آرٹ کی کلاسز بھی لیں اور خط وکتابت کے ذریعے آرٹ کا ایک کورس بھی کیا۔
باپ کی بے جا سختیوں، ڈسپلن اور کفایت شعاری کے باوجود والٹ کی شخصیت اس کے بالکل اُلٹ ثابت ہوئی۔ والٹ ایک ہنس مکھ، قہقہوں، اٹھکھیلیوں کا شوقین اور شرارتوں کا شیدائی تھا۔ اس کی پور پور میں جوش و جذبہ بھرا تھا کچھ کر دکھانے کا اور کچھ بدل دینے کا۔ الائس جس قدر کفایت شعار اور پیسے جوڑ کر رکھنے والا تھا والٹ اپنی غربت کے باوجود کُھلے ہاتھ کا مالک تھا خصوصاً اپنے شوق کی راہ میں پیسہ اس کے لیے ہاتھ کا میل تھا۔ اس کی محنت اور کوشش کا پہیہ اس کے شوق اور جنون کے ایندھن سے چلتا رہتا۔
“وہ جو بھی کرنا چاہتا بغیر نفع و نقصان کا سوچے وہ کر گزرتا۔ وہ ہمیشہ اپنے خیالات حقیقت بنانے
کی کوشش کرتا خواہ اس کے پاس اس کے لئے وسائل ہوں یا نہیں!”
حتی کہ الائس کو بھی اپنے بیٹے کی یہ خوبی یا خامی ماننی پڑی۔
1918 ءمیں جنگِ عظیم کے دوران سولہ سال کی عمر میں نوجوان والٹ میں وطن کے لیے کچھ کرنے کا عزم جاگا اور وہ ملٹری میں بھرتی ہونے کے ارادے سے جاپہنچا۔ کم عمری آڑے آئی اور ایک سپاہی کے طور پر وہ مسترد ہو گیا۔ ہار نہ ماننے والا والٹ اپنی عمر غلط بتا کر آخرکا ریڈ کریسنٹ کی ایمبولنس سروس میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہوا اور سال بھر فرانس میں اپنی جنگی ملازمت کے دوران اپنے بنائے کارٹون سے سجی ایمبولینس چلاتا رہا۔
دنیا کی اُبھرتی ہوی طاقت امریکا کے لیے اپنی خدمات پوری کر کے والٹ کنساس پہنچا تو سب سے پہلی مشکل غمِ روزگار کی تھی۔ بچپن سے کارٹون بناتے والٹ کی اب سب سے بڑی خواہش اخبار میں ایک کارٹونسٹ بننے کی تھی۔ والٹ کے باپ جیسے بھائی رائے کے تعلقات کی مدد سے اسے ایک آرٹ شاپ میں تربیتی ملازمت مل گئی۔
“وہ مجھے تصویریں بنانے کے پیسے دے رہے ہیں۔! “
سترہ سال کی عمر میں ایک کاروباری فنکار بن جانا والٹ کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ ایک ایسی عظیم کامیابی جس کی خوشی سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اپنے شوق کو روزگار اور کمائی کا ذریعہ بنتا دیکھنا والٹ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک تھی۔ شوق اور لگاﺅ کو معاشیات سنبھالتے اور غمِ روزگا رکا تریاق بنتے دیکھنا والٹ کے لیے ایک معجزہ بھی تھا اور نئے افق کے دروازے کھولتا ایک رستہ بھی۔ والٹ کو اک ادراک سا ہونے لگا کہ انگلیوں کی مہارت کا جادو زندگی کی مشکلوں کا سہارا بھی بن سکتا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کی شروعات میں کارٹونسٹ کا صرف یہی مستقبل تھا کہ وہ اخبار میں کارٹون بنائے یا چھوٹی چند سیکنڈز اور منٹوں کے خاموش اشتہار بناے جائیں۔ یقینی طور پر والٹ ڈزنی سے پہلے کارٹون سیریز اور کارٹون پر مبنی لمبی فیچر فلموں کے بارے میں تخّیل کا بڑا کام صرف والٹ کی سوچ اور کوششوں نے کیا۔ اسی لیے بجا طور پر والٹ ڈزنی ساری کارٹون دنیا کے بانیوں میں شمار ہوا اور مکیماس کا باپ کہلایا۔
آرٹ کی دکان میں نوکری کی خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ کرسمس کی چھٹیوں کے بعد آرٹ شاپ پر کام کم ہو جانے کی بنا پر والٹ کو اس ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ والٹ ڈزنی ایک بار پھر روزگار کی مشکل میں پھنس گیا۔ اِدھر اُدھر ملازمت کی ناکام کوشش کے بعد والٹ نے اپنے دوست کے ساتھ مل کے ایک آرٹ شاپ کھولنے کا فیصلہ کیا اور……… IWWERKS-DISNEY کے نام سے اس دکان کا آغاز کیا۔ فرانس میں فوج کی ایمبولینس سروس سے کمایا گیا معاوضہ اپنے والد سے منگوا کر والٹ نے دفتر کے لیے بنیادی سازوسامان کا انتظام کیا اور جلد ہی اتنا منافع کما لیا کہ دوسرے ماہ اپنا ذاتی دفتر حاصل کرنا ان کے لیے ممکن ہو گیا۔ ایک مناسب منافع بخش کاروبار ی شروعات کے باوجود والٹ کے دل میں اپنے کارٹون کرداروں کی سیریز بنانے کا خواب زندہ و جاوید تھا۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کارٹون کی مشہوری بھی جاری رکھے ہوا تھا اور اس مشہوری کی بنا پر والٹ کو ایک اشتہاری فلم بنانے والی کمپنی Kansas City Film Ad. میں 40ڈالر والی نوکری مل گئی۔ ذاتی کاروبار دوست کے حوالے کر کے والٹ نے اس نوکری کا آغاز کیا۔ مگر دوست تنہا اس کاروبار کو نہ سنبھال پایا اور جلد اس دکان کو بند کر کے وہ بھی نوکری میں والٹ کے ساتھ شریک ہو گیا۔

صوفیہ کاشف

صوفیہ کاشف:۔ صوفیہ نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ وہ کچھ عرصہ درس و تدریس سے بھی منسلک رہیں۔ وہ جریدوں سمیت کئی ویب سائٹس کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ الف کتاب میں ان کی وجہ شہرت سلسلہ ”شاہکار سے پہلے“ ہے۔ قارئین میں ان کی معاشرتی کہانیاں بھی کافی مقبول ہیں۔

Read Previous

حدیث کہانی ۔ حدیث کہانی

Read Next

آگ کے جگنو ۔ لوک کہانی

One Comment

  • bht achi story hai but prhnay mei msla hota ha i bht bareek likha hua hai or writing mazy ke nahe lagti ,,,,,,,,,,, writing style thora bold hona chaye, ya jis trh main hai apke web ka stories bhi usy mei hona chaye

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!