فاتحین ۔ حدیث کہانی

 

فاتحین
سید ثمر احمد

مدھم خوش بو ، سرد شام، دھیمی روشنی اور پِن ڈراپ سائلنس۔ ستر اسی لوگوں کا یہ مجمع اہلِ درد کا اکٹھ تھا۔ یہ محض سننے، دھننے اور سر جھٹک کے اٹھ جانے والے لوگ نہیں تھی بلکہ یہاں بیٹھا ہر شخص اپنا حصہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ وہ زندگی کو سو کر اٹھنا، کھانا پینا، کاروباریا ملازمت کرنا، واپس آنا، نسل بڑھانا اور پھر سوجانا سے بڑھ کے سمجھتے تھے۔ جیسے یہ چنے ہوئے لوگ ہوں، قحط کے دور میں اسے دور کرنے کی تدبیریں اور عمل رکھنے والے مجذوب، جنہیں کسی آہ، کسی واہ کی پروا نہیں تھی۔ یہ راز پا چکے تھے کہ اگر محلہ صاف نہ کیا گیا تو محض گھر صاف رکھنے سے بیماری سے بچاؤ ناممکن ہوگا۔ یہ خود غرضوں کا مجمع تھا، یا شاید بے غرضوں کا۔ ان کی ساخت پرداخت کی گئی تھی۔ کچھ نئے تھے کچھ پرانے،لیکن سبھی سرشار، مطمئن اور بے قرار۔ ایسا نہیں کہ ا ن کے جذبات نہیں تھے، انہیں محبتیں نہیں ہوتی تھیں، ان کے جسم پیٹ سے خالی تھییایہ زمانے سے کٹے ہوئے ملنگ تھے، نہیں۔ یہ کچھ اور تھے جیسے جوہر ہوتا ہے۔ حشمت بیگ نے خام مال کندن بنادیا تھا۔ ان کا چہرہ نورِیقین سے تمتا رہا تھا۔ 
”آپ کو ایک واقعہ سناؤں؟” مجمع میں حشمت بیگ کی آواز گونجی، خاموشی اجازت تھی۔
”زمین دار نے استاد سے عرض کی کہ آپ میرے بچے کو بھی کچھ وقت دے دیا کریں۔ اب دیکھیے! علم کی اہمیت اور تڑپ کیا ہوتی ہے، استاد کیسا ہوتا ہے اور طالب علم کیا ہوتا ہے۔ آپ بات سمجھ رہے ہیں نا؟”۔ بے آواز خاموش چہروں میں اثبات کی حرکت پیدا ہوئی۔ 
”استاد نے کہا میرے پاس وقت نہیں بچتا۔ میں آٹھ کوس فاصلہ پیدل طے کرکے جاتا ہوں، پڑھاتا ہوں، پھر واپسی۔ اس لیے آپ کے پیسے آپ کو مبارک۔ اگر وقت ہوتا تو ضرور دیتا۔ زمین دار پہلے سے طے کر آیا تھا کہ سوال کا حل کیا ہے۔ بولا، میرے اصطبل میں کئی گھوڑے ہیں، آپ ان میں سے ایک لے لیجیے، اس طرح فاصلہ جلد طے ہوجائے گا، اس سے جو وقت بچے وہ میرے بچہ کے لیے اعزاز ہوگا۔ استاد نے آمادگی ظاہر کی اور سلسلہ چل نکلا۔” حشمت بیگ نے خاموش چہروں پر نظر دوڑائی جو ان کی بات سننے کے لیے ہمہ تن گوش تھے۔وہ پھر گویا ہوئے:
” اسی گاؤں میں ایک اور بچہ تھا، علم کا حریص۔ اس نے استاد سے درخواست کی کہ مجھ غریب کو بھی پڑھا دیجیے۔استاد نے اسے بھی وہی جواب دیا جو زمین دار کو دیا تھا، کہ دو جگہوں پہ پڑھا کے وقت اگر بچتا تو ضرور تمہیں دے دیتا ،لہذا میں مجبور ہوں۔ بچہ بھی ذہین اورہوشیار تھا۔ عرض کی کہ جب آپ گاؤں میں داخل ہوں تو میں آپ کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ چل لیا کروں گا۔ اسی دوران آپ مجھے نیاسبق دے دیا کریں اور پرانا سن لیا کریں، جب زمین دار کا گھر آئے تو چلے جایا کریں، کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ استاد نے اپنے لائق شاگرد کے جذبہ کو دیکھتے ہوئے ہاں کردی۔ بھلا ایسے شاگرد روز روز تھوڑا ہی ملا کرتے ہیں۔ تاریخ نے اس بچہ کا نام لکھا جس نے اپنی ابتدائی تعلیم گھوڑے کے پیچھے بھاگتے حاصل کی تھی، اور اس کا نامہے محمد بن حامد الغزالی۔ ”
”امام غزالی؟’۔ مجمع میں سے کسی نے تصدیق چاہی۔” 
”جی ہاں! امام غزالی” حشمت بیگ نے ستائشی لہجے میں جواب دیا۔ 
” یہ تھے ہمارے اسلاف۔،یہ تھے وہ کہ جن کی دنیا پیروی کرتی تھی، جن کے فیشن اپنانا فخر سمجھتی تھی، جن کی زبان ترقی کی معراج سمجھی جاتی تھی، جو دنیا میں امام کی حیثیت رکھتے تھے، جن کے علاقے سونا اگلتے تھے، جو اپنی وقت کی بہترین ٹیکنالوجی کے خالق تھے، جو اپنے وقت کے معتبر ترین اور معزز ترین لوگ تھے اور دانش جن کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھی۔ ” حاضرین ان کی اور اپنی حالت کا تقابل کرتے ہوئے سرشاری اور بے قراری سے سر دھن رہے تھے۔ 
اسی اثنا میں شربت سرو کیا جانے لگا۔ بیگ صاحب جانے شربت بھی کہاں سے منگوایا کرتے تھے۔ جیسے ہمارے دور کے ایک صاحب کا کھانا بہت مزے دار تھا۔ ان سے پوچھا گیاکہ یہ کھانا آپ خود بناتے ہیں لیکن یہ اتنا لذیذ کیسے ہوتا ہے؟ ایسا ذائقہ کہیں اور نہیں ملتا۔توانہوں نے جواب دیاکہ اس کے مسالے دنیا بھر سے مجھے جنات اکھٹا کر کے دیتے ہیں۔ لگتا ہے جتنا مزے دار شربت یہاں ملتا ہے، اس کے پیچھے بھی کہانی کچھ اورہے۔ابھی ہم اپنی سوچوں میں ہی گم تھے کہ بیگ صاحب نے اپنی گفت گو کا سلسلہ پھر جوڑا:
”یار! صرف گلے پھاڑ کے نعرے لگانے سے کچھ کب ہوا ہے؟ تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے تو ہمیں بھی کوئی بتائے۔ ابھی یونیسکو کی ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ آئی ہے جس کے مطابق ہم مسلمان ہر سال اوسطاً ایک سے بھی کم کتاب پڑھتے ہیں اور ایک یورپی تقریباًتین اعشاریہ پانچکتابیں پڑھتا ہے جب کہ ایک اسرائیلی پینتالیسکتابیں۔ فرق تو صاف ظاہر ہے پھر۔” ابھی بیگ صاحب اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوئے ہی تھے کہ مجمع میں سے ایک نو جوان کی آواز ابھری:
”سر! مسئلہٹائم کا ہے۔ میں نے کئی بار پڑھنے کی کوشش کی لیکن وقت ہی نہیں نکل پاتا۔” 
حشمت بیگ صاحب مسکرائے اور گویا ہوئے: 
” یار! جن کے پاس فیس بک استعمال کرنے کے لیے گھنٹوں ہوں ،انہیں سنجیدہ مطالعہ کے لیے وقت کیسے نہیں مل پاتا؟”۔ نوجوان کھسیا نا سا ہو گیا۔بیگ صاحب پھر محوِکلام ہوئے:
”بیٹے !ہم لاہور میں بیٹھے ہیں۔ کراچی والے ہم سے زیادہ مصروف ہیں لیکن وہاں رجحان زیادہ ہے۔ اور یورپ والے ان سے زیادہ۔ یہ ان کاتو بہانا ہو سکتا ہے ،ہمارا نہیں۔ ”
”لیکن سر ایک اور مسئلہ غربت کا بھی تو ہے۔ یہاں دو وقت کی روٹی سے فرصت ملے تو بندہ کچھ کرے نا۔’ایک الجھی ہوئی سرگوشی ہوئی۔
”بیٹا! پھر جنہیں مالی فراغت میسر ہے وہ کیوں نہیں پڑھتے؟ جیسے عرب مسلمان ۔مغربی دنیا کا فرد ایک سال میں اوسطاً دوسوگھنٹے پڑھتا ہے۔ اور ہم سمیت عرب مسلمان آپ جانتے ہو کتنا مطالعہ کرتے ہیں؟ صرف چھے منٹ۔ یہ عرب تھاٹ فانڈیشن کی رپورٹ ہے۔’بیگ صاحب کی شفیق آواز میں تاسف نمایاں تھا۔
”سر معذرت !میں برِصغیر کی مثال دینا چاہ رہا تھا۔” آواز اسی نو جوان کی تھی۔ بیگ صاحبب کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ 
”آپ کے علم میں ہے کہ دنیا بھر میں ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ کون سے ملک کے لوگ پڑھتے ہیں؟” بیگ صاحب نے الٹا اس نوجوان سے سوال کردیا۔ 
”نہیں سر۔”
”ہندوستان کے،ایک ہفتے میں دس گھنٹے اور بیالیس منٹ۔ اب کہاں جائیں حیرت کے سوا؟ یار اسرائیل کے پچپنلوگ کموڈ پہ بیٹھ کے بھی پڑھنے کے عادی ہیں۔ انگلینڈ کے لوگوں نے فلمیں کم دیکھیں ہیں ایک سال میں اور کتابیں زیادہ پڑھیں ہیں۔ ہم کچھ تو سوچیں یا صرف باتیں ہی کرنی ہیں۔” بیگ صاحب آج معمول سے ہٹ کر کچھ جذباتی سے ہوگئے تھے۔ان کی آواز رندھ گئی تھی۔ اپنے زوال کو عروج سے بدلنے کا عزم رکھنے والا یہ باہمت درویش علم کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ پاتا تھا۔مجمع میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھاگئی۔ یہ خاموشی اس مجلس کا مستقل حصہ تھی۔لوگ ایک تاثر میں ڈوبے رہتے یہاں تک کہ گفت گو کاسلسلہ دوبارہ جڑ جاتا۔ لیکن اس بار بہت سے لوگوں کی ٹھنڈی آہیں ایک ساتھ بلند ہوئی تھیں اورایک سنسناہٹ پیدا کرگئی تھیں۔ 

”وقت وقت کی بات ہے ۔ایک دورتھا جب مسلمانوں کے شہر روشنیوں میں ڈوبے ہوتے تھے۔ اس وقت شان الیزے اور لندن کیچڑ میں لت پت ہوتے تھے۔ بڑی بیگمات چوراہوں سے گزرتے ہوئے اپنے فراک اوپراٹھا لیا کرتی تھیں کہ گندے نہ ہوجائیں۔ ایک وقت تھاجب کسی کے سر میں درد ہوتا تو یورپ میں پادری بتایا کرتے کہ اس میں شیطان گھس گیا ہے۔ اب اس کاواحد علاج یہ ہے کہ سرمیں ڈنڈے مارے جائیں۔پھر شیطان بچتا نہ مریض ۔” بیگ صاحب کی اس بات پر مجمع میں ایک قہقہہ بلند ہوا ۔
وائے ناکامی متاعِ کاررواں جاتارہا
کاررواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
حشمت بیگ کتنی دیر سرجھکائے تاسف میں ہلاتے رہے۔ یہ ان کی عادت تھی، جوشعر پسند آجاتا ہے اس کا لطف صحیح سے اٹھاتے اور دیکھنے والے احساس لیے بغیر نہ رہ پاتے۔ وہ کہاکرتے کہ جس نے شعر کا لطف لینا نہ سیکھا، اس نے کیا زندگی گزاری۔
”چلو تمہیں مزے کا واقعہ سناؤں۔”بیگ صاحب کے چہرے پہ کچھ تازگی نمودار ہوئی تھی۔ 
”ایک وقت تھا کہ دنیامیں تین بڑی سلطنتیں تھیں اور تینوں کے بادشاہ مسلمان تھے اورتینوں کے ناموں کے ساتھ عظمت کا لاحقہ لگا ہوا تھا۔ ہندوستان میں اکبرِ اعظم،ایران میں صفوی سلطنت کے عباسِ معظم اور ترکمانِ عثمانیہ میں سلطان سلیمان ذیشان ،سلیمان دی میگنیفیشنٹ۔انگلستان والے کہیں لڑنے جانے لگے توایک سفارت سلطان سلیمان کے پاس بھیجی۔ یہ سفارت عرضی لے کر آئی تھی کہ ہمیں ایک مہم درپیش ہے اور آپ سے گزارش ہے کہ ہماری غیر موجودگی میں ہماری سلطنت کی حفاظت کی جائے تاکہ فرانس والے قبضہ نہ جما سکیں۔ یہ تھے ہمارے اسلاف، یہ تھے ہم۔” مجمع ایک بار پھر سر دھن کر رہ گیا۔ 
”توہم کیا کرسکتے ہیں اس سب میں؟ہم تو نقصان پہ نقصان اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہم، ہمارے بچے سبھی۔ ہردن ایک نیا حادثہ ، ایک نیا سانحہ۔ خوشیاں توہم سے جیسے روٹھ ہی گئیں ہیں۔آئے روز ڈپریشن میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔خوشی کی خبر مل جائے تو یقین ہی نہیں آتا، اتنے جھوٹ ہمارے ساتھ ہوئے ہیں کہ سچ پر بھی جھوٹ کاگمان ہوتا ہے۔”ایک شخص بولتا چلا گیا جس کے چہرے پر حالات کی پریشانیاں رقم تھیں۔
پروفیسر ازل کا سکون لیے ہوئے سنتے رہے، مسکراتے رہے۔ وہ شخص خاموش ہوا تو سدا کاامید پرست گویا ہوا۔

admin

Read Previous

حضرت خضر علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

Read Next

حدیث کہانی ۔ حدیث کہانی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے