شاہ ماران ۔ افسانہ

شاہ ماران
پراسرار کہانی
علینہ عرفان

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ آشفتہ سر انسانوں نے ہر زمانے میں محبت کو ایک نئی معراج پر پہنچایا ہے۔ محبت ایک ایسا الوہی جذبہ ہے جو کسی کسی پر اپنا رنگ جماتا ہے اور جس پر یہ رنگ چڑھ جائے وہ اپنی ایک الگ ہی دنیا میں قیام کر لیتا ہے۔ جہاں اس کے چاروں جانب رنگ و روشنی کی برسات ہوتی ہے یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کبھی کبھی محبت نامی یہ جذبہ انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ محبت کی ایسی ہی ایک مثال ”شاہ ماران“ نے بھی قائم کی۔ شاہ ماران…… جو کہنے کو تو ”سانپوں کی ملکہ“ تھی لیکن اس کے دل میں موجزن محبت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر  ایک اجنبی انسان کو تاعمر اس کا قرض دار بنا گیا۔
صدیوں پہلے کی بات ہے، ترکی کے جنوبی شہر ترسس میں زیرِ زمین سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی جہاں وہ سب امن و آشتی سے رہتے تھے۔ ان کی ملکہ”شاہ ماران“ ایک نہایت ہی سمجھ بوجھ والی ملکہ تھی۔ اس کے بنائے قاعدے ساری رعایا دل و جان سے تسلیم کرتی تھی کیونکہ ان میں حکمت و دانش  پوشیدہ ہوتی تھی۔ جتنا خیال وہ اپنی رعایا کا رکھتی تھی اتنا ہی اس کی رعایا اس پر جان چھڑکتی تھی۔ شاہ ماران کا اوپری دھڑ عورت سے مشابہ تھا جبکہ اس کا زیریں حصہ ناگن جیسا ہی تھا۔ وہ اپنی خوبصورتی میں بھی یکتا تھی۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کے پاس ہزاروں قصے ہیں جن میں عقل و دانش کی باتیں چھپی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی اس کے یہ قصہ سنتا، اس کا گرویدہ ہو جاتا۔ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ سب اس کے علم و حکمت کے بھی معترف تھے۔ الغرض ان کی دنیا میں چین ہی چین تھا۔
مگر شاہ ماران نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں یہ چین اب کچھ ہی دنوں کا مہمان ہے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ آنے والے دنوں میں اس کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ اس کی روانی سے بہتی زندگی کا رُخ ہی موڑ دیں گے۔
ان زیرِ زمین سانپوں کو آج تک کسی انسان نے نہیں دیکھا تھا۔ یہ سانپ اپنی دنیا میں ہی مگن تھے لیکن پھر جمش نامی لکڑیوں کے ایک بیوپاری نے ان سانپوں کی موجود گی کا راز پا لیا۔
ہوا کچھ یو ں کہ جمش اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ترسس کے علاقے میں شہد کی تلاش میں پہنچا جہاں انہیں ایک غار میں اصلی شہد کی موجودگی کا علم ہوا۔ وہ اس غار کے پاس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں شہد کا ایک بڑا ذخیرہ واقعی موجود تھا۔ تب جمش کے دوستوں کے دل میں بے ایمانی نے سر ابھارا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ جمش کو اسی غار میں تنِ تنہا چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ شہد جمع ہی نہ کر پائے اور وہ اس کے حصے کا شہد بھی لے جائیں۔
اور پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ وہ کچھ دور چل کر دانستہ جمش سے الگ ہو گئے اور اسے یہاں اکیلا چھوڑ دیا۔ پہلے تو جمش کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس کے دوستوں نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے لیکن جب تک سمجھ آیاتب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔اب اسے یہاں اکیلا ہی رہنا تھا تاوقتیکہ اسے واپسی کا راستہ مل جائے اور تب اچانک ہی اس کی نظر غار کے عقب سے چھن کر آنے والی روشنی کی جانب گئی۔ تجسس نے اسے اس روشنی کا پتہ لگانے پر مجبور کیا۔ جمش غار کے پیچھے گیا اور روشنی کا منبع تلاش کیا وہ روشنی اسی غار کے عقب سے آ رہی تھی۔ غار کے پچھلے حصے میں پڑے پتھر اس روشنی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔
جمش نے ان پتھروں کو ہٹایا اور غار کے اندر داخل ہوا۔ کافی اندر جانے کے بعد اس نے جو دیکھا اسے اس پر یقین ہی نہ آیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک نہایت ہی خوبصورت باغ موجود تھا۔ وہ اس باغ میں جانے سے خود کو روک نہیں پایا اور گھٹنوں کے بل چلتا ہوا اندر داخل ہوا۔ باغ روشنیوں، پھولوں اور سانپوں سے بھرا ہوا تھا۔ انواع و اقسام کے سانپ وہاں موجود تھے۔ جمش کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے اور تب ہی اس کی نظر ایک تخت پر بیٹھی ”شاہ ماران“ پر پڑی۔ دودھیا رنگت کی حامل یہ سانپ اپنی خوبصورتی کے باعث باقی سب سے منفرد دکھائی دے رہی تھی۔ جمش آگے بڑھا اور اچانک ”شاہ ماران“ کی نگاہ اس کی جانب گئی اور اس ایک نگاہ نے ہی ایک آدم زاد اور ایک سانپ کو لازوال محبت میں باندھ دیا۔ وہ دونوں پہلی نظر کی محبت کا شکار ہو گئے۔
شاہ ماران نے جمش کی جھجھک کو محسوس کرتے ہوئے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا، تب جمش آگے آیا اور اپنی ساتھ گزری ساری روداد ملکہ کو کہہ سنائی۔ شاہ ماران کو اس کے ساتھ ہونے والے دھوکے کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ تب شاہ ماران نے اسے اپنا مہمان بننے کی دعوت دی کہ وہ جب تک چاہے یہاں رہ سکتا ہے۔
”اے اجنبی! تمہاری داستان سن کر مجھے بہت افسوس ہوا ہے، اگر تم چاہو تو کچھ دن ہمارے ساتھ قیام کر سکتے ہو۔ یہاں تمہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ تم جب چاہو اپنے وطن واپس جا سکتے ہو۔“شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے کہا:
”اے ملکہ! میں یہاں رہنے کو اپنی خوش نصیبی تصور کروں گا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ جب تک میں یہاں ہو آپ کا وفادار بن کر رہوں گا۔“
جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری اور اس نے اپنے خدام کوجمش کو مہمان خانے میں لے جانے کا اشارہ کیا۔ اس غار میں سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی جہاں ان کی سہولت کا ہر سامان بدرجہ اتم موجود تھا۔ جمش نے اپنا کہا سچ کر دکھایا۔ اس نے شاہ ماران کا اعتماد جیت لیا۔ اس کا دل یہاں ایسا لگا کہ اس نے واپس جانے کا خیال ہی اپنے ذہن سے نکال دیا۔ ایک دن یونہی شاہ ماران نے جمش سے کہا:
”جمش، تمہیں پتہ ہے۔ تم نے ہمیں کیسے ڈھونڈ نکالا؟ کیسے تم ہماری دنیا دریافت کر پائے؟“ شاہ ماران کے اس سوال پر جمش نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
”شاہ ماران میں نہیں جانتا، لیکن جاننا چاہتا ہوں۔۔“ تب شاہ ماران گویا ہوئی:
”تمہارے پاس جو سچا دل ہے، اس کی بدولت تم ہماری دنیا دیکھ پائے اور ہم تک پہنچ پائے تمہاری روح پاک ہے۔ تمہیں خداوند نے ”اجنہ“(تیسری آنکھ) سے نوازا ہے۔ اسی لیے انسانوں میں سے صرف تم ہی ہم تک آئے۔ اسی اجنہ کی بدولت تم اس مادی اور فانی دنیا سے پرے جو ایک اور دنیا ہے، اسے دیکھ سکتے ہو۔ اس دنیا میں حقیقی خوشیاں اور راحتیں پنہاں ہیں۔“
شاہ ماران کی یہ باتیں سن کر جمش کی محبت اور عقیدت میں اور اضافہ ہو جاتا۔ اسے اس کے جیسے انسانوں نے دھوکہ دیا تھا جبکہ ان سانپوں کے بیچ رہتے ہوئے اسے ذرہ برابر بھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ جمش کئی سال تک شاہ ماران کے ساتھ اسی غار میں رہا۔
لیکن کئی سال بعد ایک روز اسے اپنی دنیا اور اپنے لوگوں کی یاد ستائی اور اس نے اپنی دنیا میں لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ گو شاہ ماران دل سے ایسا نہیں چاہتی تھی لیکن اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ اپنی محبت کے باعث جمش کو روک لے۔ وہ محبت میں اپنے محبوب کی خوشی چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے جمش کو خوش دلی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی لیکن اس نے جمش سے ایک وعدہ لیا۔
”جمش! آج تمہیں کو مجھ سے ایک عہدکرنا ہوگا  اگر تمہاری نظر میں میری کوئی اہمیت ہے تواسی اہمیت کے پیشِ نظر تم وعدہ کرو کہ یہاں سے جانے کے بعد تم کبھی بھی کسی کو بھی اس جگہ اور سانپوں کی اس دنیا کے بارے میں نہیں بتاؤ گے اور کسی بھی حال میں اپنا وعدہ نہیں توڑو گے۔“
شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے کہا تھا:
”شاہ ماران! میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو کبھی بھی تمہارے بارے میں پتہ نہیں چلے گا اور میں صدقِ دل سے اپنے اس وعدے کو نبھاؤں گا۔“ یہ کہہ کر جمش نے شاہ ماران سے رخصت لی۔ شاہ ماران کا دل کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا لیکن اس نے خود پر قابو رکھا اور جمش کو الوداع کہا۔ دوسری جانب اپنی دنیا میں واپس جانے کے بعد بھی کئی سال تک جمش نے شاہ ماران سے کیا اپنا وعدہ نبھایا، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ابھی قسمت کاایک اور کاری وار اس پر ہونا باقی ہے۔
جمش کو اپنی دنیا میں واپس آئے کئی سال گزر چکے تھے کہ انہی دنوں ترکی کے بادشاہ کی طبعیت ناساز ہو گئی۔ قرب و جوار کے سارے طبیبوں اور جادوگروں کو بلا یا گیا لیکن بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی طبیعت کسی طور صحیح ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔ اب تو بادشاہ کی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ سارے ملک پر سوگ کی فضا قائم تھی۔ بظاہر کوئی بیماری نہ ہونے کے باوجود بھی بادشاہ روز بہ روز موت کی جانب بڑھ رہا تھا۔ بالآخر ملک کی سب سے برگزیدہ شخصیت نے کئی روز کی محنت اور مختلف عملیات کے بعد بادشاہ کے لیے علاج تجویز کر ہی لیا۔
بادشاہ کو ایک بار پھر صحت مند اور اس بیماری سے چھٹکارہ دلانے کے لیے جو علاج تجویز کیا گیا وہ یہ تھا کہ کہیں سے بھی اور کیسے بھی کر کے سانپوں کی ملکہ ”شاہ ماران“ کو تلاش کیا جائے۔ شاہ ماران حکمت اور لازوال خوبصورتی کا استعارہ ہے۔ اسی لیے شاہ ماران کو ہلاک کر کے بادشاہ کو اس کا گوشت کھلانے سے ہی بادشاہ کو اپنی پرسرار بیماری سے چھٹکارہ ملے گا۔ جب بادشاہ کے علاج کا یہ طریقہ زبان زدِ عام ہوا تو کسی نہ کسی طرح یہ بات بھی نکلی کہ جمش اس بات سے واقف ہے کہ شاہ ماران کو کہاں تلاش کیا جائے۔
جمش کے کانوں میں بھی اس بات کی بھنک پڑ رہی تھی لیکن وہ خاموش تھا۔ پھر ایک دن اسے محل کی جانب سے بلاوا آیا۔ وہ محل پہنچا تو اسے وزیرِ سلطنت کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس کو سامنے دیکھ کر وزیرِ سلطنت گویا ہوئے: 
”آؤ جمش! ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔“
جمش:”عالی جاہ میں حاضر ہوں۔۔“
وزیر:”جیسا کہ تم جانتے ہو بادشاہ سلامت کی طبیعت پچھلے کئی دنوں سے ناساز ہے۔ اب رعایا کے سب سے بر گزیدہ طبیب نے ان کے علاج کے لیے جو تجویز پیش کی ہے اس کے سلسلے میں محل میں تمہارے نام کی گونج سنائی دی ہے۔ ایسی شنید ملی ہے کہ تم شاہ ماران کا پتہ جانتے ہو لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ تم بادشاہ سلامت کی بیماری کو ختم کرنے میں مدد کرو گے۔۔“
جمش:”یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں اپنی سلطنت کے کچھ کام آ سکوں لیکن میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے بارے میں آپ نے جو بھی سنا ہے وہ افواہ ہے۔ میں شاہ ماران کے ٹھکانے سے واقف نہیں ہوں۔ میں تو خود اتنے برس سے نہ جانے کہاں کہاں کی خاک چھانتا پھر رہا ہوں۔ میرا علم اس بارے میں محدود ہے۔“
”جمش تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ وزیر نے سخت لہجے میں کہا۔
”عالی جاہ! میں تو آپ سے حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ میں واقعی شاہ ماران کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ جمش کی یہ بات سن کر وزیر جلال میں آگیا اور آگ اگلتے ہوئے لہجے میں بولا:
”جمش تمہیں اپنی یہ ہوشیاری بہت مہنگی پڑے گی۔ تمہارے پاس صرف آج کی رات ہے، اچھی طرح سوچ لو کہ تم شاہ ماران کا ٹھکانے بتاؤ گے یا ہم دوسرے طریقے اپنائیں۔ تم بہت اچھی طرح جانتے ہو کہ اگر تم نے اس سلسلے میں ہوشیاری دکھائی تو اپنے پیاروں کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن اپنوں کی یاد تمہیں برسوں بعد واپس لے آئی۔ تم انہی اپنوں کی موت کی وجہ بن جاؤ۔“ 
وزیر کی یہ بات سن کر جمش کا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سلطنت کے عمائدین سے دشمنی مول نہیں لے سکتا، لیکن یہ تو اس کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے اپنوں کی جان کے دشمن بن جائیں گے۔ اس کو سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر وزیر گویا ہوا۔
”اب تم جاؤ اور آج کی رات خو ب سوچو۔ صبح اپنے فیصلے کے ساتھ محل پہنچ جانا۔ اگر تم نہ آئے تو تمہارے خاندان کا نام صفحہئ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔“
جمش کو محل سے جانے کی اجازت تو مل گئی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے پر کتر دیے گئے ہیں۔ اس کے پاس راستے محدود تھے اور سوچیں لا محدود۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ شاہ ماران سے کیا وعدہ نبھائے یا اپنے خاندان کو بچائے۔
اسی ادھیڑ بن میں وہ اپنے گھر پہنچا۔ گھر والے بھی اس کی غائب دماغی محسوس کر رہے تھے۔ سب نے وجہ جاننے کی کوشش کی، لیکن جمش نے کسی کو بھی کچھ نہ بتایا بتاتا بھی کیا بتانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ سلطنت نے اسے عجیب مخمصے میں الجھا دیا تھا۔ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وقت تھا کہ اس کے ہاتھوں سے پھسلے جا رہا تھا اور یہ ہی سوچتے سوچتے سو گیا۔ صبح جمش اٹھا تو قدرے مطمئن تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے کہیں سے اطمینان کی دولت ہاتھ لگ گئی ہو۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہ ہی جمش ہے جو کل سے انتہائی پریشان تھا۔ اپنے گھر والوں کو اپنی طرف سے اطمینان دلا کر جمش محل کی جانب روانہ ہوا۔
محل میں اسے وزیر کے سامنے پیش کیا گیا۔
”آؤ جمش! ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے“ جمش کو دیکھ کر وزیرِ سلطنت گویا ہوا۔
”میں وزیرِ باتدبیر کے حکم سے روگردانی نہیں کرسکتا۔“ جمش نے ادب سے جھک کر کہا۔
”اس کا مطلب تم ہمیں شاہ ماران کے ٹھکانے کی جانب لے کر جانے کے لیے تیار ہو۔۔“ وزیر نے جمش سے پوچھا۔
”جی ہاں بالکل! آپ کے حکم سے انحراف نہیں کیا جا سکتا جبکہ بادشاہ سلامت کی صحت سے زیادہ بھی مجھے کوئی چیز عزیز نہیں۔“ جمش کے جواب سے وزیر کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی اور اس نے سپہ سالار کو حکم دیا کہ وہ فوج کا کچھ دستہ جمش اور اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار کرے۔ وہ لوگ شاہ ماران کا کھوج لگانے ابھی اسی وقت نکلیں گے وزیر کے حکم پر فوری عمل ہوا اور آٹھ لوگوں پر مشتمل یہ ایک چھوٹا سا دستہ جنگل کی جانب روانہ ہوا۔
کچھ ہی دیر میں جمش کے بتائے راستے پر چلتے ہوئے یہ دستہ اسی غار کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ وزیر کو ابھی بھی جمش پر شک تھا۔ اسے لگ رہاتھا کہ جمش صرف ان لوگوں کا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اس لیے وزیر نے پہلے اپنے آدمیوں سے کہا کہ وہ غار کے آس پاس کا جائزہ لیں کہ یہاں کہیں سانپوں کی موجودگی کے نشانات ہیں بھی یا نہیں۔ وزیر کے ساتھ آئے دستے نے چاروں جانب کا جائزہ لیا اورواپس آ کر وزیر سے کہا کہ یہاں دور و نزدیک کہیں بھی سانپوں کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔
یہ بات سن کر وزیر نے ایک قہر آلود نظر جمش پر ڈالی اور زہر خند لہجے میں بولا:
”جمش! ایک بات کا خیال رکھنا، اگر تم نے ہم سے جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔یہاں اگر شاہ ماران نہ ملی توتم بھی یہاں سے زندہ واپس نہ جا پاؤ گے۔“
 وزیر کی بات سن کر جمش مضبوط لہجے میں گویا ہوا۔
”میں وزیرِ با تدبیر کو پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شاہ ماران کا ٹھکانہ  یہ ہی ہے۔ اگرچہ میرا دل یہ سوچ کر ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا ہے کہ میں شاہ ماران کی موت کا ذمہ دار بن رہا ہوں، لیکن میرا خدا جانتا ہے کہ میں یہ سب اپنی خوشی سے نہیں کر رہا بلکہ مجھ پر زبردستی اس سب کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ میں بہت مجبور ہو کر یہاں تک آیا ہوں۔ مجھ پر شک کرکے مجھے مزید رسوا نہ کیا جائے۔“
جمش کی یہ بات سن کر وزیر گرج کر بولا:
”اگر ایسا ہے تو تم جاؤ اور اپنے ساتھ میرے دو آدمی بھی لیکر جاؤ اور شاہ ماران کو ہمارے سامنے حاضر کرو۔ اب ہم شاہ ماران کو اپنے سامنے دیکھنے کے لیے لمحہ بھر کی بھی دیر برداشت نہیں کریں گے۔“
وزیر کی یہ بات سن کر جمش اپنے گھوڑے سے اترا اور جنگل میں اس جانب چل پڑا جہاں غار میں سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔ غار کے پچھلے حصے کی جانب پہنچ کر جمش نے شاہ ماران کو آواز دی۔ ایسا نہیں تھا کہ صرف جمش کے دل کی دنیا ہی تہہ و بالا تھی بلکہ اندر غار میں موجود سانپوں کی دنیا میں بھی ایک زلزلہ سا آیا ہوا تھا۔ شاہ ماران نے رات ہی اپنی ساری رعایا کو جمع کر کے انہیں اپنے فیصلے سے متعلق بتا دیا تھا۔ یہ سنتے ہی رعایا میں سوگ کی سی فضا قائم ہو گئی تھی۔ اب تک سانپوں کی اس دنیا میں شاہ ماران کا حکم سر آنکھوں پر لیا جاتا تھا۔ سب جانتے تھے کہ شاہ ماران کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے، لیکن اس بار ان سب کو شاہ ماران کے اس فیصلے سے  اختلاف تھا۔ سب جانتے تھے کہ اس فیصلے سے شاہ ماران نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ پوری رعایا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے انہوں نے شاہ ماران کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن شاہ ماران اپنے اس فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ابھی بھی سانپوں کی اس دنیا میں اسی بات کو لیکر بحث چل رہی تھی کہ شاہ ماران اپنے تخت کی طرف بڑھتی نظر آئی۔ شاہ ماران کو دیکھتے ہی تمام رعایا ادب سے خاموش ہو گئی۔ سوگوار سی شاہ ماران اپنے تخت پر براجمان ہوئی اور اپنی رعایا سے مخاطب ہوئی:
”میں آپ سب کی بے چینی اور تذبذب کو جانتی ہوں لیکن میرا یقین کریں، میری جانب سے اٹھایا جانے والا قدم آپ سب کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔“
شاہ ماران کی یہ بات سن کر اس کا معتمد ِ خاص آگے بڑھااور ادب سے گویا ہوا:
”ملکہ! ساری رعایا یہ بات جانتی ہے کہ آپ نے آج تک ہمارے لیے جو بھی فیصلے کیے ہیں ان میں ہماری بھلائی پوشیدہ رہی ہے، لیکن آپ کا یہ فیصلہ ہم سب پر گراں گزر رہا ہے۔“
اس کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک پھیکی سی ہنسی نظر آئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی معتمدِ خاص بولا:
”ہم آج تک آپ کا ہر حکم مانتے آئے ہیں، لیکن آپ کو یاد ہو گا کہ جب آپ اس آدم زاد کو یہاں مہمان بنا رہی تھیں تب بھی رعایا میں بے چینی پھیل گئی تھی کہ یہ انسان کسی کے دوست نہیں ہوتے اور آج آپ گواہ ہیں کہ کس طرح اتنے سال یہاں رہنے کے باوجود وہ آدم زاد آپ کی جان کے درپے ہے۔ یہ انسان کسی کے نہیں ہوتے۔ وہ آپ کی محبت، عزت،صلہ رحمی اورخدمت سب بھول کر آپ کو نقصان پہنچانے آپ کے ٹھکانے پر چلا آیاہے۔ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اسے اس غداری کا مزہ چکھائیں۔“
اس کی یہ بات سن کر شاہ ماران متانت سے بولی:
”نہیں نہیں! ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں۔ جمش نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ اسے معتوب ٹھہرایا جائے۔ وہ جو کچھ کر رہا ہے میری ہی ایما پر کر رہا ہے۔ تم سب کومیری حکمت پر بھروسہ ہے تو یہ یاد رکھو کہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا کہ میں نے جمش سے بہت محبت کی تھی۔ ہم سانپوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ہم صرف بدلہ لیتے ہیں لیکن اس دنیا میں جب تک ایک انسان بھی زندہ رہے گا میری اور جمش کی کہانی امر رہے گی۔ دنیا میری محبت کی مثالیں دے گی۔“
ابھی یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ باہر سے جمش کی آواز سنائی دی جو شاہ ماران کو آوازیں دے رہا تھا۔ جمش کی آواز سن کر شاہ ماران نے اپنی رعایا سے رخصت کی اجازت مانگی۔
”اب میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ میری نصیحتوں پر عمل کرنا۔ آپس میں اسی طرح رہنا جیسے میرے سامنے رہتے آئے تھے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، جب تک باہر سے آدم بو آتی رہے تم میں سے کسی نے بھی باہر نہیں آنا ہے۔ انسانوں کے بعد باہر جا کرتم مجھے واپس یہاں لانے کے مجاز ہو۔ بس اتنا یاد رکھنا کہ میں اپنی آنے والی نسلوں اور اپنی رعایا کو قتلِ عام سے بچانے کے لیے اپنی قربانی پیش کر رہی ہوں اور یہ ہی ایک مخلص ملکہ کا فرض ہوتا ہے۔“
شاہ مارا ن نے ابھی اتنا کہا ہی تھا کہا پھرسے جمش کی آواز سنائی دی جو اسے ہی پکار رہا تھا۔ شاہ ماران نے اپنی سلطنت اور رعایا پر ایک آخری اور الوداعی نظر ڈالی اور پھر غار کے دہانے کی جانب بڑھ گئی۔ اندر اتنے سانپوں کی موجودگی کے باوجود سکوت طاری تھا۔ ساری رعایا اپنی رحم دل ملکہ کی آخری شبیہ اپنی آنکھوں میں اتار رہے تھے۔
جمش جیسے ہی شاہ ماران کو ڈھونڈنے کے لیے وزیر سے الگ ہوا۔ وزیر نے اپنے ساتھ آئے بقیہ گھڑسواروں کو طلب کیا اور کہا:
”مجھے جمش پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے و ہ ہم سے جھوٹ بول رہا ہو۔ اسی لیے میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ چاہے جمش شاہ ماران کو حاضر کرے یا نہ کرے، دونوں صورتوں میں موت ہی اس کا مقدر بننی چاہیے۔ اگر تو وہ شاہ ماران کو حاضر کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے سلطنت کو گمراہ کرنے کے جرم میں موت ملے گی اور اگر وہ شاہ ماران کو لے بھی آتا ہے توبھی بادشاہ کو یہ بات کبھی پتا نہیں چلنی چاہیے کہ انہیں صحت یاب کرنے میں میرے علاوہ کوئی اور شامل تھا۔“ 
وزیر کی یہ بات سن کر فوجیوں نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور وزیر کے چہرے پر ایک شیطانی ہنسی کھیلنے لگی۔
جمش کی آواز پر شاہ ماران اپنی زیرِ زمین دنیا سے باہر چلی آئی۔ دونوں کچھ دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے۔ ایسا لگ رہا تھا دونوں کے درمیان ایسی گفتگو ہو رہی ہے جو صرف ان دونوں تک ہی محدود ہے کوئی اور اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔
جمش کی نگاہیں شاہ ماران سے شکوہ کر رہی تھیں۔
”شاہ ماران تم ایسا کیوں کر رہی ہو۔ میں کبھی بھی وعدہ خلاف نہیں بننا چاہتا تھا، لیکن رات میں نے تمہیں خواب میں دیکھا اور پھر وہ ہی کر رہا ہوں جو تم نے کہا۔“ جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران مسکرانے لگی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر گویا ہوئی۔ 
”تمہیں اپنا خواب یاد ہے ناں۔“ 
”بالکل یاد ہے۔۔تم کل رات میرے خواب میں آئی تھیں اور تم نے ہی مجھے ہدایت دی تھی کہ میں کسی سے کچھ بھی کہے بغیر محل جاؤں اور وزیر کو تمہارے ٹھکانے تک لے آؤں لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا کہ تم ایسا کیوں کر رہی ہو۔ کیوں خود کو قربان کر رہی ہو؟“
جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران مسکرائی اور کھوئے کھوئے لہجے میں بولی: 
”جمش! ہم سانپوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ہم فطرتاً ایذا پسند، ظالم اور بدلے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، لیکن تمہاری شاہ ماران ایسی نہیں۔ مجھے تم سے محبت ہے۔ تمہاری روح پاک ہے۔ تمہیں اس خداوند نے ”اجنہ“ سے نوازا ہے۔ میں اپنی حکمت سے دیکھ چکی ہوں کہ یہ وزیر تمہاری جان کے درپے ہے۔ چاہے تم مجھے اس کے سامنے لیکر جاؤ یا نہ لیکر جاؤ، اس نے تمہیں مارنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ تمہیں مار کر وہ میری کھوج میں اس سارے جنگل کو آگ لگا دیتا۔ میری رعایا جل کر بھسم ہو جاتی۔ میں نہ تمہیں مرتے ہوئے دیکھ سکتی ہوں اور نہ اپنی رعایا کو۔ اس لیے وزیر کے سامنے جانے کے بعد بھی جیسا میں کہوں تم ویسا ہی کرنا۔ امید ہے تم میری یہ آخری گزارش ضرور مانو گے۔“
شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے انتہائی عقیدت اور محبت سے اس پیار و ایثار کی دیوی کو دیکھا جو اپنی محبت اور اپنے فرض کے لیے اپنی جان تک دینے سے گریز نہیں کر رہی تھی۔ اس لمحے جمش کو شاہ ماران سے ایک بار پھر محبت ہو گئی۔ جمش کے ساتھ آئے گھڑ سوار بھی شاہ ماران کو دیکھ کر مبہوت رہ گئے۔ اس کاحسن ایسے ہی سب کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتا تھا۔بالاخر جمش اور شاہ ماران کے درمیان ساری باتیں ختم ہوئیں اور جمش شاہ ماران کو لیکر اس سمت بڑھا جہاں وزیر ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔
شاہ ماران کو دیکھ کر وزیر بھی ایک لمحے کے لیے گنگ رہ گیا۔ اتنا مکمل حسن کسی نے کہاں دیکھا تھا۔ وزیر کو اپنی جانب متوجہ پاکر شاہ ماران ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی:
”کیا بات ہے وزیرِ باتدبیر، مجھ سے ملنے کی اتنی بے تابی کیوں تھی تمہیں۔“
شاہ ماران کی آواز پر وزیر اپنے حواسوں میں واپس آیا اور کہا:
”ہمارے بادشاہ بے حد بیمار ہیں اورسلطنت کے طبیب نے تمہاری ہلاکت میں ہی ان کی صحت مندی بیان کی ہے۔ اب یا تو تم خود رضاکارانہ طور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ ورنہ ہمارے پاس اور بھی کئی حربے ہیں۔“
وزیر کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک طنزیہ ہنسی نظر آئی۔
”وزیر میرا نام شاہ ماران ہے میں سانپوں کی ملکہ ہوں اور ملکہ تو ہمیشہ ہی بادشاہ پر قربان ہوتی آئی ہے۔میں اس سلطنت کے لیے جان دینے پر تیار ہوں۔  مجھے مارنے کے بعد ایک برتن میں پانی ڈال کر میرے گوشت کو اس میں پکایا جائے۔ میرا گوشت کھانے سے بادشاہ کو ان کی بیماری سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، لیکن میری ایک گزارش ہے اس برتن کا پانی جمش کو پلایاجائے کیونکہ جو شخص یہ پانی پیے گا اسے حکمت اور دانائی کی لا زوال قوتیں مل جائیں گی اور وہ شخص درازی عمر پائے گا جبکہ کوئی بیماری اسے چھو کر بھی نہیں گزرے گی۔ میں چاہتی ہوں میرے مرنے کے بعد جمش کو یہ تمام فوائد حاصل ہوں۔“
شاہ ماران کی یہ بات سن کر وزیر کے چہرے پر ایک کمینی سی ہنسی دکھائی دی اور اس نے شاہ ماران سے وعدہ کر لیا کہ جیسا وہ چاہتی ہے ویسا ہی ہوگا۔
اور پھر سب نے دیکھا کہ حسن و خوبصورتی کا استعارہ وہ ملکہ جو ایک آدم زاد سے بے تحاشہ محبت کرتی تھی۔ اس کی محبت میں خود کو فنا کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ وزیر کے ساتھ آئے گھڑسوار شاہ ماران کو باندھنے کے لیے آگے بڑھے تو شاہ ماران نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں منع کیا اور اپنے ساتھ لائے خنجر سے پلک جھپکتے میں اپنی نس کاٹ لی۔ شاہ ماران غش کھا کر گرنے لگی تو جمش نے اسے سنبھال لیا۔ جمش کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر شاہ ماران کے چہرے کو عقیدت سے دھو رہے تھے اور شاہ ماران کی بند آنکھوں میں آخری شبیہ جمش کی ہی لہرا رہی تھی اور پھر شاہ ماران نے دم توڑ دیا۔
    وزیر نے یہ دیکھا تو اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ جمش کو شاہ ماران سے الگ کر دیا جائے۔ جمش جو شاہ ماران کو چھوڑنے کے لیے راضی نہیں تھا۔ اسے کھینچ کر شاہ ماران سے الگ کیا گیا اور شاہ ماران کے جسم کے ٹکڑے کر کے اسے ایک بڑے سے برتن میں ڈال کر پکایا جانے لگا۔ شاہ ماران کی ہدایت کے مطابق جب اس برتن کا پانی جمش کو دینے کے لیے سپاہی وزیر کے پاس اس کی اجازت لینے گئے تو وزیر نے ان کے ہاتھ سے برتن لے کر ایک ہی سانس میں پورے کا پورا پانی اپنے حلق میں اتار لیا۔
لیکن یہ کیا، پانی پیتے ہی وزیر ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔وہ اپنے حلق پر ہاتھ رکھے چیختا ہوا زمین پر گرا اور خون کا ایک فوارا سا اس کے حلق سے بر آمد ہوا۔بس ایک لمحہ ہی لگا تھا کہ اس لالچی وزیر کا خاتمہ ہونے میں۔شاہ ماران جانتی تھی کہ اس پانی کی تاثیر کا سنتے ہی وزیر جمش کو یہ پانی پینے نہیں دے گا اور وہ یہ ہی چاہتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ یہ پانی وزیر کی ہلاکت کا کام کرے گا اوریہ پانی پیتے ہی مکار وزیر کا خاتمہ ہو جائے گا اور ویسا ہی ہوا۔ محض ایک لمحے میں ہی وزیر کا تڑپتا وجود ساکت ہو گیا۔ اس کے ساتھ آئے فوجی بھی حیران و پریشان کھڑے صورتحال کو سمجھنے کو کوشش کر رہے تھے جبکہ جمش کے دل میں شاہ ماران کی عقیدت کئی گنا اور بڑھ گئی تھی۔
شاہ ماران جانتی تھی کہ وزیر جمش کو مارنے کے درپے ہے۔ وہ خود اس دنیا میں نہ ہوتے ہوئے بھی جمش کی حفاظت کا انتظام کر گئی تھی۔ وہ وزیر کی فطرت پہچان گئی تھی۔۔جانتی تھی کہ اس پانی کی خوبیوں کے بارے میں سنتے ہی وزیر وہ پانی پی جائے گا اور مر جائے گا۔یوں وہ مر کر بھی اپنی محبت کو امر کر گئی۔
جمش کو اس صورتحال کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی اور پھر وہ اپنے ساتھ آئے سپاہیوں سے گویا ہوا: 
”تم سب نے دیکھا کہ ابھی کیا ہوا۔ وزیر باتدبیر نے لالچ کیا اور اپنے انجام کو پہنچا اگر تم لوگ بھی اپنی عافیت چاہتے ہو تو وہ کرو جو میں کہتا ہوں۔ تم سب دیکھ ہی چکے ہو کہ میری نیت بالکل صاف تھی۔ میں ایک وفادار رعایا کی طرح بادشاہ کو ان کی بیماری سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ اب اگر تم سب بھی اپنی خیریت چاہتے ہو تو شاہ ماران کی قربانی کو ضائع ہونے سے بچاؤ اورمحل کی جانب کوچ کرو۔ ہمیں جلد از جلد یہ گوشت بادشاہ کو کھلا کر انہیں اس موذی مرض سے نجات دلانی ہے۔“
سپاہیوں پر جمش کی باتوں کا اثر ہوا وہ اپنی آنکھوں سے ہی دیکھ چکے تھے کہ یہ شخص مخلص ہے، چنانچہ فوراً ہی خیمے سمیٹے گئے اور محل کی جانب کوچ کیا گیا۔ محل پہنچتے ہی جمش بادشاہ کے روبرو پیش ہوا۔ بادشاہ کے سامنے شاہ ماران کا گوشت پیش کیا گیا۔ جیسے جیسے بادشاہ گوشت کھاتا گیا اس کے جسم میں نئی زندگی دوڑتی گئی اور آخری لقمہ لینے تک بادشاہ بالکل بھلا چنگا ہو چکا تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہ ہی بادشاہ ہے جو پچھلے کئی مہینوں سے صاحبِ فراش تھا۔
  جمش نے جنگل میں پیش آئے واقعہ کی تفصیلات بادشاہ کے گوش گزار کیں۔ بادشاہ جہاں شاہ ماران کی محبت اور قربانی کا سن کر حیران ہوا وہیں وزیر کی مکاری اور اپنی بے خبری پر افسوس کا اظہار کیا۔ تمام سچائی سننے کے بعد بادشاہ نے جمش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے سلطنت کا وزیر مقرر کر دیا۔
”میں اپنی صحت یابی کے لیے شاہ ماران اور جمش کا شکرگزارہوں جمش کو خداوند نے ”اجنہ“ سے نوازا ہے اور اسی لیے میں اپنی سلطنت کی فلاح کے لیے جمش کو آپ سب کا نیا وزیر مقرر کرتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ جمش اپنے فرائض بخوبی انجام دیں گے۔“ 
یوں سب نے جمش کو اپنا نیا وزیر مان لیا اور جمش نے بھی انتہائی ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
سانپ جو ہمیشہ ہی نفرت اور سراسیمگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس واقعے کے بعد سلطنت میں ان کے بارے میں سب کی رائے یکایک بدل گئی۔ ایک سانپ کی ایک آدم زاد سے ایسی محبت پر سب انگشت بدنداں تھے۔
کہتے ہیں کہ جب جمش کی وفات ہوئی تو اس کے جنازے میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سانپوں کو بھی دیکھا گیا۔یہ سانپ سب سے الگ تھلگ ایک قطار میں چلے جا رہے تھے۔ ہو سکتا ہے یہ سانپ اپنی ملکہ کے محبوب کے آخری دیدار کو آئے ہوں۔
عین ممکن ہے کہ اس دنیا میں نہ سہی لیکن ہماری دنیا سے متوازی جو ایک اور دنیا موجود ہے اس میں ”اجنہ“ کے باعث ”جمش“ اور ”شاہ ماران“ پھر ایک ہو گئے ہوں۔ کیا پتا شاہ ماران جس نے اپنی محبت میں خود کو فنا کر دیا۔۔دوسری دنیا میں اپنے محبوب کو پا کر اپنی محبت کی طرح امر ہو گئی ہو۔
____________________________________________________________________

admin

Read Previous

آشنا ۔ افسانہ

Read Next

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا ۔ مکمل ناول

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!