حدیث کہانی ۔ حدیث کہانی

حدیث کہانی
سید ثمر احمد

”اگر بدلنا چاہو تو ایک جملہ، ایک واقعہ ہی کافی ہوتا ہے اور نہ بدلنا چاہو تو کتابوں کے ڈھیر اور واقعات کے انبار بھی ناکافی ہوتے ہیں۔”
حشمت بیگ کی شخصیت، اپنے نام کی طرح بڑی باوقار تھی۔ وہ ملک کے نہایت اہم عہدوں پر فائز رہے اور انٹرنیشنل سول بیوروکریسی کا حصہ بھی۔ ان کے کریڈٹ پر ڈھیروں کام یابیاں تھیں۔ لوگ رشک سے انہیں دیکھتے اور ان کے ساتھ جُڑنا فخر خیال کرتے۔ وہ دنیا بھر میں پانچ درجن سے زائد ممالک کے مختلف پراجیکٹس کے نگران رہے۔ بین الاقوامی طور پر کتنی ہی اہم شخصیات ان کے ذاتی دوستوں کی فہرست میں شامل تھیں۔
سفید بالوں کی کثرت نے حشمت بیگ کی وجاہت کو دھندلانے کی بجائے مزید بڑھا دیا تھا۔ کھنڈر بتاتے تھے کہ عمارت کس قدر حسین رہی ہوگی۔ لوگ جب بیگ ہائوس کی طرف بڑھتے تو ذہن میں عقیدت اور رعب کا ہالہ، پہلے سے ہی تنا ہوتا لیکن جیب وہاں پہنچتے تو ایک اور ہی جہاں کے انسان سے ملاقات ہوتی۔ آج بھی ٹرے ہاتھوں میں تھامے، سفید کرتہ زیبِ تن کیے ،ہلکے برائون کلر کی چادر بدن پہ سجائے، سلیقے سے تراشے ہوئے بالوں کے ساتھ وہ خود چائے سرو کررہے تھے۔ یہاں روزانہ لوگوں کی بیٹھک لگتی تھی۔ ان کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے سب ہی اپنے اپنے خواب، تلخیاں اور الجھنیں لیے آ بیٹھتے اور وہ ایک ایک کر کے سب کے مسئلے حل کرتے۔
”ہم نے سنا ہے آپ کسی غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔” MBA سے فارغ ایک نوجوان نے سوال کیا۔
”جی! اس میں کوئی برائی ہے؟ ” حشمت بیگ ازل کا سکون لیے گویا ہوئے۔
”مطلب میں پوچھنا چاہتا تھا کہ جس کے پاس فیس تک کے پیسے نہ ہوں، وہ کام یابیوں کی بلندیوں تک کیسے پہنچا؟”
چہروں پہ پُرتجسس تغیر نے جگہ بنائی۔ بیگ صاحب کی آنکھیں کچھ دیر کے لیے بند ہوئیں، جیسے ماضی کے پردوں میں کچھ ٹٹولنے کی کوشش کررہی ہوں۔ لان میں مقدس خاموشی کی چادر تن گئی۔ آخرکار موتیوں کی لڑی ٹوٹی اور لب گویا ہوئے:
”میرے والد غصے کے تیز انسان تھے ۔ غربت نے ان کے چڑچڑے پن میں خطرناک حد تک اضافہ کردیا تھا۔ معمولی معمولی باتیں انہیں غضب ناک کردیتیں۔ والدہ کچھ گھر کے اخراجات سے پریشان رہتیں، جو ہر مہینے ادھار تک پہنچ جاتے اور کچھ والد کے درشت رویے سے۔ مسلسل دبائو میں رہنے کی وجہ نے ان کے اعصاب چٹخا دیے تھے۔ روزانہ کسی بات پہ دونوں میں جھگڑا ہوتا۔ ایک سے زائد بار بات طلاق تک پہنچی، پھر جذبات ٹھنڈے پڑتے تو سمجھوتے کروادیے جاتے۔ اکلوتا ہونے کی وجہ سے لاڈ پیار بہتیرا ملا، لیکن میں غضب کا حساس دل لے کے پیدا ہوا تھا۔ جھگڑے کے دوران دونوں کی آوازیں کرخت ہوتیں تو میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا۔ میں بستر میں دبک جاتا، انگلیاں کانوں میں ٹھونستا یا تکیہ رکھتا۔ دھیرے دھیرے غصہ ، انتقام اور ردِعمل میری ذات کا حصہ بنتا چلا گیا۔ ابا کسی آدمی کے تندور پر روٹیاں لگاتے تھے۔ بڑا ہوا تو کچھ دوستوں کے کہنے پر مجھے پنکچر کی دکان پر بٹھا دیا گیا۔ مجھے یاد ہے، اس روز اماں بہت روئی تھیں۔ میں معصوم سا بچہ تھا۔ پورے دن ”استاد” کی گالیاں سنتا، تھپڑ کھاتا اور دو روپے دیہاڑی لیے گھر آتا۔ چھٹی کے وقت جب بچے اپنے والدین کے ساتھ دکان کے سامنے سے گزرتے تو اجلے کپڑے اور دمکتے چہرے، میری افسردگی میں مزید اضافہ کردیتے لیکن جانے کہاں سے اس افسردگی میں ایک عزم سا کود آیا تھا۔ ”میں بھی پڑھوں گا۔مجھے بھی آگے بڑھنا ہے۔ مجھے ایسے نہیں جینا۔” میں نے ماں سے ڈرتے ڈرتے کہاتو اس نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے گلے سے لگالیا۔ بے بسی کی شدید لہر نے میرے دل و دماغ کو جکڑ لیا۔” مجلس پہ افسردہ سا سحر طاری تھا۔ حشمت بیگ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
”آپ کا جواب دینے کے لیے مجھے یہ تمہید باندھنی پڑی تا کہ پسِ منظر واضح ہوجائے۔ بس کچھ وقت میں ہم مرکزی بات کی طرف آجاتے ہیں۔ امید ہے آپ سمع خراشی برداشت کرلیں گے۔” حاضرین کی خاموشی نے رضامندی کا پروانہ جاری کیا تو بات پھر جْڑ گئی۔
”کچھ لوگ اپے بچوں کے ساتھ دکان پہ آتے ، اپنے بچوں کے لاڈ اٹھاتے اور مجھے جانور سا سمجھ کے دھتکار دیتے تو بے کسی ، ذلت اور غصے کے شدید احساس سے میرا بدن کانپنے لگتا۔ میرے اندر شدید نفرت کا جذبہ پروان چڑھتا گیا۔ اس سب ماحول میں حقارت، بداخلاقی اور شدت میری شخصیت کی نشوونما کرتی گئی۔ ایک دن کسی بچے کی کتاب دکان پہ رہ گئی اور وہ  میرے ہاتھ لگ گئی۔ میں نے انتقامی جذبے کے ساتھ ایک نیم پڑھے لکھے ہمسائے سے پڑھائی شروع کردی۔ جیسے تیسے، طنز اور تشدد برداشت کر کے میٹرک کیا۔ اس دوران  میں نے ایک بات سیکھی ہے، اگر کوئی پڑھنا چاہے تو کم ازکم وسائل کی کمی اس کے آڑے نہیں آتی۔ میں نے آج تک کوئی ایک بھی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو پڑھنا چاہے اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پڑھ نہ سکے۔ چند سال بعد، میں پنکچر والے سے چائے والے کے پاس منتقل ہوچکا تھا۔ چائے والا ایک شریف آدمی تھا۔ میں طبیعت کی جھنجھلاہٹ کی وجہ سے کئی دفعہ گاہکوں سے لڑ پڑتا لیکن وہ ہر دفعہ مجھے سمجھاتا، کبھی نرمی سے اور کبھی ڈانٹ کے۔وسائل رکھنے والوں اور مجھ سے بحث کرنے والوں کے خلاف میرا دل بغض سے بھرا پڑا تھا۔ میں ہر وقت مرنے مارنے پہ آمادہ رہتا۔ گھر جاتا تو وہاں کی چخ چخ سے دماغ پھٹنے لگتا۔ میری عمر چوبیس سال ہوچکی تھی۔ گریجوایشن کے دوسال بعد تک میں جوتیاں چٹخاتا رہا۔ انٹرویو میں چار پانچ بار جھگڑا ، کبھی سلیکشن کے بعد اسی باعث رَد کردیاگیا۔ کہیں تنخواہ اتنی کم دیتے کہ میں اس سے زیادہ پیسے تو چائے کے کھوکھے پہ کما لیتا۔ لوگ تبصرے کرتے، ٹھٹھا اڑاتے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ پڑھائی لکھائی میں کچھ نہیں رکھا، آرام سے اپنا کھوکھا چلا اور موج مار۔ پیسے نہیں ہیں تو ہمیں حصہ دار بنالے۔ مایوسیوں نے مجھے کچھ کچھ ان کی باتوں پہ اعتبار دلا دیا تھا۔ تین چارسو روپے کی ملازمت کیوں کرتا؟ آخر کو گریجویٹ تھا، ایک غرور بھی بھر گیا تھا…تو یہ تھے میری زندگی کے ابتدائی چند سال۔”
”لیکن آپ کی موجودہ نفسیاتی اور عملی کیفیت، بیان کی گئی کیفیت کے بالکل برعکس ہے۔ یہ اتنا زیادہ بدلائو کیسے آیا؟” ایک مضطرب آواز ابھری۔ ٹھنڈی ہوتی چائے کی چسکی لیتے، مسکراتی آہ بھر کے حشمت بیگ نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور گفت گو کا سرا پھر سے ملادیا۔
”اگر بدلنا چاہو تو ایک جملہ، ایک واقعہ بھی کافی ہوتا ہے۔ اور اگر نہ چاہو تو ڈھیروں کتابیں اور واقعات کے انبار بھی ناکافی ہوتے ہیں۔ عرض کرچکا ہوں کہ دل بڑا حساس تھا اور یہی حساسیت میری جان کا عذاب بنی رہی۔ لیکن بعد میں یہی میرے بدلائو کا باعث بنی۔ ایک دن انٹرویو کے لیے جانے کی جلدی تھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ملی تو رکشے والے کو ہاتھ دیا۔ جیب ٹٹولی اور مطلوبہ رقم کی تسلی کرکے چل پڑا۔ رکشے والا ہر گڑھے پہ رفتار کچھ ہلکی کردیتا۔ میں بڑی عجلت محسوس کررہا تھا۔ اسی جھنجھلاہٹ کے عالم میں اس پہ برسنا شروع کردیا۔ کبھی سخت سست کہتا، کبھی بے حسی اور سُستی کے طعنہ دیتا۔ میرے لہجے کی تلخی بڑھتی چلی جارہی تھی لیکن پچھلوں کے برعکس، وہ عجیب آدمی خاموش رہتا یا مسکراتا یا پھر تسلی کے بول بول دیتا۔ راستہ قریباً ایک گھنٹے پہ مشتمل تھا۔ بیس منٹ ہی گزرے تھے کہ میں حسبِ عادت طیش میں آگیا۔ ایک جگہ ٹریفک بلاک میں رکشہ رکا تو میں نے پیچھے سے تھپڑ جَڑ دیااور نیچے اُتر کر اس کا گریبان پکڑ لیا اور مغلظات بکنے لگا لیکن وہ منجھلا سا پرسکون آدمی حیرانی سے مسکراتا، مجھ سے خود کو چھڑواتا رہا۔ 
”صاحب! مجھ سے لڑتے رہوگے تو وقت پر نہیں پہنچ پائوگے۔ یہاںسے آپ کو رکشہ ملنا بھی مشکل ہے۔ اتنے طیش میں رہوگے تو انٹرویو میں کام یاب ہونا بھی مشکل ہوگا اور اگر یہ آپ کی عادت ہے تو گھر میں بھی تلخی رہتی ہوگی اور آپ کے دوست بھی بہت کم ہوں گے۔ میں پوری کوشش اور دعا کروں گا کہ آپ وقت پر اپنی منزل پہ پہنچ جائیں اور اچھے سے کام یاب بھی ہوجائیں۔ اس لیے بیٹھ جائیں۔” میں چُپ چاپ بیٹھ گیا، کہنے کو جواب جو نہیں تھا۔ کچھ شرمندگی اندر ہی اندر محسوس ہوئی۔ اپنے مزاج کی وجہ سے مجھے کتنی ہی دفعہ ناکامیاں اور شرمندگی اٹھانا پڑی تھی لیکن اس دفعہ فرق یہ تھا کہ مدِمقابل ایک کم پڑھا لکھا آدمی میرے سے مختلف رویے کا مظاہرہ کررہا تھا۔ اس نے کوئی اخلاق سے گری ہوئی حرکت نہ کی۔ کچھ دیر میں غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس کی اعلیٰ ظرفی کے سامنے مجھے مزید شرمندگی ہوئی۔ زندگی میں پہلی بار میں نے کسی سے معافی مانگی۔ وہ پھر مسکرادیا۔ ایسے، جیسے میرے معذرت کرنے پہ وہ شرمندہ ہورہا ہو۔ میں شکست کھاچکا تھا۔
”یار تم نے میری بدتمیزی اور اتنا برا کہنے پر مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟ تم مجھے چھوڑ کے بھی جاسکتے تھے۔ الٹا تم نے مجھے دعائیں دینا شروع کردیں۔” کھسیانا سا ہوتے ہوئے میں نے پوچھا۔
”صاحب! پہلوان وہ نہیں ہوتا جو کُشتی میں کسی کو پچھاڑ دے بلکہ اصل پہلوان وہ ہوتا ہے جو اپنے غصے کو پچھاڑ دے۔ یہ دنیا کے سب سے کام یاب اور عقل مند انسان  حضرت محمد ۖنے فرمایا ہے اور میں نے ہمیشہ اس سے خیر ہی برآمد ہوتے دیکھی ہے۔”
”لیکن کیسے؟ جب تک اگلے کو اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دو، اس کی عقل ٹھکانے کہاں آتی ہے؟” مجھے سمجھنا مشکل ہورہا تھا۔
”صاحب! میں بہت پڑھا لکھا آدمی تو نہیں لیکن بڑے لوگوں سے سیکھا ضرور ہے۔ اول تو غصے کی حالت میں کوئی صحیح فیصلہ کرنا بہت بہت مشکل ہوجاتا ہے، کیوںکہ باگ ڈور عقل کے ہاتھ نہیں رہتی بلکہ نفس کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ اس لیے غصہ دور ہونے تک خاموش رہا جائے تو اچھا فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔” نیم خواندہ انسان کسی درویش کی طرح مجھے سمجھا ریا تھا اور میں بت بنے حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”دوسری بات، جب پہلوان مخالف سے لڑتے ہیں تو ایک دوسرے کے خلاف ‘غصہ’ کی حالت کو جوش دیتے ہیں۔ یوں ان میں شکست دینے کا جذبہ تیز ہوجاتا ہے۔ گویا وہ پہلوان غصے کی ساتھ مخالف کو مات دے دیتا ہے۔ اب غور کریں تو جو غصہ فتح کی وجہ بنتا ہے، اگر کوئی اس وجہ پر ہی فتح پالے تو بڑا پہلوان کون ہوا؟ اس لیے غصہ کو کنٹرول کرنا، ناکامیوں سے بچالیتا ہے اور کام یابیاں عطا کرتا ہے۔”
میرے دماغ میں جھماکا ہوا ، روشنی کا کوئی کوندا سا لپکا۔ مجھ پر پہلی دفعہ زندگی کا ایک الگ پہلو آشکار ہوا تھا۔ میں نے خود کی پچھلی زندگی پر  نظر ڈالی تو ایک بڑی وجہ ناکامیوں کی یہ نظر آئی۔ میں نے اس دفعہ سچے دل سے اپنے خراب رویے پر معذرت کی ۔ وہ خوش دلی سے مسکرادیا۔ بقیہ سفر خوش گوار بات چیت میں ڈھل گیا۔ مجھے خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب سفر کی منزل آگئی۔ مجھے یہ تبدیلی پہلی بار محسوس ہورہی تھی۔ سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ صحیح جواب دینے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت، ایک دم کہیں سے بیدار ہوگئی تھی۔ سفر ختم ہونے کو تھا ، اس نے میرے مرض کے لیے ایک اور نسخہ تجویز کیا۔ میں نے پوچھا:
”بھائی! پھر بھی تمہیں کچھ غصہ تو آنا چاہیے تھا۔ کیوں تم مجھ سے اتنی خوش اخلاقی سے پیش آتے رہے۔”یہ میں نے خود کی شرمندگی مٹانے کے لیے تکلفاً کہا تھا۔ وہ بے تکلفی سے بولا:
”میرا رویہ اور مسکرانا آپ کو کیسا لگا؟”
”یقینا اچھا۔” میں اور کیا جواب دیتا۔
”آپ جو بہت غصہ اور تلخی میں تھے، خوش گوار ہوگئے؟ کیا آپ کو میرے عمل سے خوشی محسوس ہوئی؟”
”یقینا۔” میرے پاس قائل ہونے کے علاوہ چارہ کوئی نہیں تھا۔مزید یہ کہ نفسیاتی تبدیلیاں بھی گہرائی میں پیدا ہوتی جارہی تھیں۔
”اب آپ آگے جائیں گے تو ان سے بھی مسکرا کے خوش گوار انداز میں بات کریں گے۔ اس سے وہ بھی خوش ہوجائیں گے۔ اس طرح وہ آگے اسی خوشی اور سکون کو پھیلاتے چلے جائیں گے اور یوں نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ جب خوشی پھیلے گی تو دکھ ملنا مشکل ہوجائیں گے اور ان سب کا اجر دونوں دنیا ئوںمیں ہمیشہ مجھے ملتا رہے گا۔ اس طریقے سے زندگی کی مشکلات اور مصائب کے تالے کھلتے چلے جاتے ہیں اور ہم اصل زندگی سے آشنا ہوتے جاتے ہیں۔کام یابیاں، پکے ہوئے پھل کی طرح جھولی میں گرتی ہیں۔ ہاں! کام یابی کا پیمانہ ہر ایک کا الگ الگ ہوتا ہے۔ ہمارے حضور ۖنے ہر حسنِ سلوک صدقہ فرمایاہے اور صدقہ کو تو آپ جانتے ہیں کہ بلائوں کو ٹالتا ہے اور آسانیاں مہیا کرتا ہے۔”
”میں لاشعوری طور پہ سر دھن رہا تھا۔ گھر کے مخصوص ماحول کی وجہ سے میں کوئی موافقانہ رویہ دین کے حوالے سے اختیار نہ کرسکا تھا۔ بس روایتی سا، بے روح تعلق تھا جو زندگی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ چندروکھی پھیکی رسومات ضرور نبھا لیاکرتا لیکن یہ سب ایک معاشرتی دبائو سے بڑھ کر کچھ کم ہی ہوتا، زندگی بخش تو ہرگز نہیں۔ تونظر آتی کام یابی کے پیچھے، یہی دو وجوہات ہیں دوست، پہلی وجہ یہ کہ۔ غصے پہ قابو پانے سے میری تجزیاتی صلاحیتیں بہتر ہوئیں اور میں صحیح فیصلے کرنے کے قابل ہوا اور دوسری وجہ یہ کہ اچھے اخلاق نے دلوں کے دروازے، میرے لیے کھول دیے۔ ایسے بلائیں ٹلتی گئیں، مایوسیاں چھٹتی گئیں، کام یابیاں ملتی گئیں اور میں عروج کی چوٹیاں سر کرتا رہا۔
”انٹرسٹنگ!” محفل میں سے ایک نوجوان کی ستائشی آواز آئی۔
”یہ پہلو ہمارے لیے بھی اچھوتے ہیں۔”کئی ممنون آوازیں اونچی ہوئیں۔ حشمت بیگ انکساری کے ساتھ نرم آواز میں پھر گویا ہوئے:
”اب لگے ہاتھ آخری بات بھی سن لیجئے۔ہم کہکشائوں کے مسافر ہیں۔ چند روزہ زندگی اس سیارے پہ گزارنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ پھر اصل سفر شروع ہوجائے گا۔ یہ دونوں چیزیں صرف یہاں نہیں بلکہ اربوں سال کی آئندہ زندگی کے لیے بھی برابر مفید ہیں۔” حضورِ اعلیٰ ۖ نے کیا خوب صورت بات ارشاد فرمائی:
”ایسا کوئی نہیں جس کا اخلاق اور صورت (ایمان کے ساتھ) اللہ نے اچھی بنائی اور پھر اسے جہنم کی غذا بنائے۔” آپ ۖ کے قول کے مطابق، حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز اعمال میں نہیں۔ اور نصیحت کے لیے یہ بھی کہا کہ:
”حشر کے دن تم میں سے وہ لوگ مجھ سے سب سے زیادہ دور اور قابِل نفرت ہوں گے، جو منہ بھر باتیں کرنے والے، بڑبولے پن سے دوسروں کو مرعوب کرنے والے اور تکبر والے ہوں گے۔” جب مجھ سا نالائق یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں کرسکتے ؟ چلیے اب عشاء کے لیے چلتے ہیں۔ خدا آپ پر خوب صورتیوں اور آسانیوں کا فیضان کرے۔”  محفل کامیابی کا مطمئن توشہ لیے برخاست ہوگئی۔

_________________________________________________________________________________

admin

Read Previous

فاتحین ۔ حدیث کہانی

Read Next

والٹ ڈزنی ۔ شاہکار سے پہلے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!