آؤ ناشتہ کرلو ۔ بچوں کی کہانیاں

آؤ ناشتہ کرلو

سارہ قیوم

پیارے بچو! یہ کہانی ہے چڑیا کے ایک چھوٹے سے بچے کی۔

امی چڑیا اور ابو چڑے کا ایک منّا سا بیٹا تھا۔ اس کا نام تھا چُنو چِیا۔ وہ بڑا اچھا بچہ تھا۔سکول جاتا ،اپنا ہوم ورک کرتا اور شام کو وقت پر سوجاتا۔ بس اس میں ایک خرابی تھی۔ وہ ناشتہ نہیں کرتا تھا۔

”چُنو چِیا” امی آواز دیتیں”آؤ ناشتہ کرلو” چُنو چِیا امی کی پکار سنتے ہی اپنا بستہ اٹھاتا اور یہ جا وہ جا۔

ابو چڑا روز اس کے لئے نت نئی مزے مزے کی چیزیں لاتے۔ کبھی گندم کے دانے تو کبھی چاول کے دانے۔ کبھی موٹی مکھیاں تو کبھی رس بھرے کیچوے۔ لیکن چُنو چِیا کچھ بھی نہ کھاتا۔ نہ دودھ پیتا نہ ہی روٹی کھاتا۔ بھوکا پیاسا سکول چلا جاتا۔ ایک دن چُنو چِیا صبح سویرے اٹھا۔ 

”چُنو چِیا بیٹے!” امی نے پکارا: ”آؤ ناشتہ کرلو۔”

چُنو چِیا نے جلدی سے اپنابستہ اٹھایا اور سکول کو روانہ ہوگیا۔ بستہ بھاری تھا اور چُنو چِیا منا سا۔ راستہ لمبا تھا اور پیٹ خالی۔اڑتے اڑتے چُنو چِیا کو چکر آنے لگے۔ اس کے پر تھک گئے اور اڑنا مشکل ہوگیا۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لئے وہ ایک جھاڑی پر بیٹھ گیا۔ اس جھاڑی کے نیچے ایک موٹا سا باگڑ بِلّا لیٹا تھا۔ اس نے جو ایک چڑیا کا بچہ دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔

”آہا۔” اس نے دل میں سوچا: ”چڑیا کے بچے کا نرم نرم گوشت کھانے کا کتنا مزا آئے گا۔”

باگڑ بِلّا جھاڑی سے نکل آیا۔چُنو چِیا کی نظر اس پر پڑی تو اس نے گھبرا کر اڑ جانا چاہا لیکن اتنی زور کا چکر آیا کہ وہ جھاڑی سے نیچے گر پڑا۔ اتفاق سے اس وقت اوپر سے مینا خالہ اڑتے ہوئے گزررہی تھیں۔ ان کی نظر جو نیچے پڑی تو کیا دیکھتی ہیں کہ باگڑ بِلّا چُنو چِیا پر حملہ کرنے ہی والا ہے۔ 

انہوں نے وہیں سے ڈبکی لگائی۔ عین جس وقت باگڑ بِلّے نے چُنو چِیا پر حملہ کیا، مینا خالہ چُنو چِیا کو اپنے پنجوں میں دبوچ کر اُڑ گئیں۔ باگڑ بِلّے کے ہاتھ میں صرف چُنو چِیا کا بستہ آیا۔مینا خالہ چُنو چِیا کو سیدھی ڈاکٹر طوطے کے پاس لے کر گئیں۔ ڈاکٹر طوطے نے چُنو چِیا کا معائنہ کیا اور کہا: ”یہ تو بہت کمزور ہے، ناشتہ نہیں کرتا کیا؟” اگلے دن امی چڑیا اور ابو چڑا سوکر اٹھے تو چُنو چِیا بستر میں نہیں تھا۔ ”ارے!” انہوں نے گھبرا کر کہا: ”چُنو چِیا کہاں گیا؟”اتنے میں باورچی خانے سے چُنو چِیا کی آواز آئی: ”امی ابو چُنو” چِیا پکاررہا تھا ”آئو ناشتہ کر لو۔”

 

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

چار موسم – حصّہ دوم – الف نگر

Read Next

ایک خط – بچوں کی کہانیاں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!