نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول ۔ کمرشل رائٹنگ

نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول

 

سکرین رائٹنگ کے گُرہرحجم اور شکل میں ملتے ہیں مگر ان سے سب لوگ یکساں طور پر متفق نہیں ہوتے۔ اکثر نئے لکھاری، ان بڑی تعداد میں دستیاب ٹپس میں سے درست کا چناﺅ کرنے میں غلطی کر جاتے ہیں اور درست سمت نہیں جا پاتے۔

ایک بنیادی اصول تو لکھے گئے سکرپٹ کو بار بار (کم از کم 20 بار) لکھنا ہے، جو بڑی برداشت اور حوصلے کا کام ہے مگر بے حد ضروری ہے کہ اس سے تحریرمیں پختگی اور نکھار آتاہے۔

یہاں آپ کی رہنمائی کے لیے 12 ایسے بنیادی اصول یا ٹپس دیئے جا رہے ہیں، جن کی مدد سے آپ بآسانی سکرین رائٹنگ جیسے عمل کو انجام دے سکیں گے۔

 

-12 فلم پسند آئی؟تو اس کاسکرین پلے پڑھیے

بعض نئے لکھاری فلمیں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ انہیں سکرین رائٹنگ آگئی ہے۔ ہر فلم میں تقریباً یکساں سین اور ایکشن دیکھ کر لگتا ہے کہ فلم کے لیے کہانی لکھنا کون سا مشکل کام ہے مگر یہ خیال بالکل غلط ہے۔

سکرین رائٹنگ سے آپ تب تک واقف نہیں ہو پاتے جب تک آپ کسی فلم کااصلی بلیو پرنٹ یا نیلی طباعت سکرین پلے نہیں دیکھ پاتے۔ اس میں وہ اصل طریقہ درج ہوتا ہے جو کسی بھی سکرین رائٹنگ اور سکرین پلے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آپ اپنی کسی پسندیدہ فلم کا سکرپٹ پڑھئے اور دیکھئے کہ چیزیں اورواقعات سکرپٹ میں کس تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ان میں بیان کردہ تفصیلات کی روشنی میں اپنی کہانی کے کرداروںکا جائزہ لیجیے اور انہیں اُس معیار تک لایئے۔

ایک اورضروری بات کہانی کے ربط یا تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ کام صفحات پر آسان جب کہ سکرین پر اس کے لیے بڑی مہارت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی عمدہ سکرین پلے پڑھنے پر آپ تحریری طور پر ایسی غلطیوں پر قابو پانے میں مدد لے سکتے ہیں۔

 

-11 ایک نشست میں لکھئے

لکھنا ایک تھکا دینے والا کام ہے۔ جو فرد بیٹھ کر لکھنے کا عادی نہ ہو، اس کے لیے کافی دیر تک بیٹھنا اور ایک ہی نشست میں کہانی مکمل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ لکھاری بننا چاہتے ہیں تو بلاناغہ لکھاکریں چاہے اپنے سکرین پلے کا ایک صفحہ ہی لکھ پائیں۔

ذہن میں آئے خیالات سے یہ کہنا کہ بعد میں لکھ لوں گا، اچھے لکھنے والوں کے لیے یہبہتر رویہ نہیں ہے، اس طرح خیالات ناراض ہو کر بھاگ جاتے ہیں۔اکثر لکھنے والے اچھی اچھی باتیں سوچتے لیکن انہیں لکھنے میں سستی کر دیتے ہیں جس سے وہ کبھی لکھ نہیں پاتے۔

کامیاب لکھاریوںکی کامیابی کا ایک راز ان کا نظم و ضبط کا پابند ہونا ہے۔ وہ اپنے روزمرہ کے لکھنے کے اوقات میںکبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتے۔

اگر آپ کا خواب بھی سکرین رائٹر بننے کا ہے تو لکھنے کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لیجیے۔ روز لکھنے کی عادت سے نہ صرف آپ کی تحریر میں نکھاراور پختگی آئے گی بلکہ یہ دل جمعی آپ کو کامیابی کی راہ بھی دکھائے گی۔

جب آپ روزانہ لکھنا اپنی عادت بنا لیں گے تو ایک مہینے بعد آپ، اپنی پہلے دن اور اُس دن کی تحریروں کا تقابل کیجیے۔ یقینامثبت فرق آپ کا دل خوش کر دے گا۔ بے شک آزما لیجیے۔ مکمل توجہ اور نظم و ضبط، لکھاری بننے کی بنیادی شرائط ہیں۔ اگر آپ کے لیے ان عادات کا اپنانا ایک مشکل امر ہے تو خود کو سمجھایئے۔ ایک استاد کی طرح خود کو ان کی افادیت سے آگاہ کیجیے۔ مہینوں کی مشق آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ آپ اپنی تحریر کو دوسروں کے سامنے فخر سے پیش کر سکیں۔

 

-10 اپنے اندر کو نکالیے

کسی ایسے شخص سے مل کر کتنا عجیب لگتا ہے کہ جو طبعاً سنجیدہ ہو مگر حرکتیں مسخروں سی کر رہا ہو۔ یہ رویہ من و عن سکرین رائٹنگ پر پورا اترتا ہے۔

اگر مزاجاً آپ مزاح نگار نہیں تو زبردستی مزاح مت لکھئے۔ ہر فرد کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے، اپنے اسی مزاج کی مطابقت سے تحریریں لکھیے، زیادہ بہتر لکھ سکیں گے۔

اگرآپ جان دارمکالمے تو لکھ سکتے ہیں مگر کہانی کابیانیہ درست نہیں تو مکالمہ نگاری کو ہی بطورِ پیشہ اپنایئے۔ اگر آپ تاریخ کو کھنگالنے کا مزاج نہیں رکھتے تو کبھی کسی تاریخی موضوع پر طبع آزمائی نہ کریں۔

آپ نے وہ کہاوت تو ضرورسنی ہو گی کہ وہی لکھیے جو آپ جانتے ہیں۔ لکھنے کے حوالے سے یہ زبردست محاورہ ہے۔ کیوں کہ جو بندہ اپنے مزاج کے الٹ لکھے گا توتحریر سے قطعاً انصاف نہیں کر پائے گا۔ تحریر کمزور ہو گی، اس میں جگہ جگہ جھول رہ جائیں جو اس کی ناکامی کا باعث بنیں گے۔

 

-9 اپنی کہانی کو جانئے

بہت سے سکرین رائٹرز لکھنے کے دوران یہ بات مدِّنظر نہیں رکھتے کہ وہ کیا کہانی بیان کرنے جارہے ہیں۔ اچھا آئیڈیا رکھنے کے باوجود وہ اسے بہتر طور پر نہیں لکھ پاتے یعنی تحریری طور پر اس سے انصاف نہیں کر پاتے۔ کہانی کو دائیں بائیں موڑتے اور غیر ضروری واقعات شامل کرتے چلے جاتے ہیں۔

اپنے سکرین یا سکرین رائٹنگ کے صفحہ نمبر 90 تک پہنچنے پر آپ کی کہانی کو منطقی انجام مل جانا چاہیے۔ اسی لیے سکرین پلے کے لیے خاص فارمیٹ پر زور دیا جاتا ہے تا کہ انہیں احساس رہے کہ انہیں کہاں تک لکھنا ہے۔ بعض لکھاری مخصوص فارمیٹ کے بغیر بھی جان دار کہانی لکھتے اور پسندیدگی کی سند پاتے ہیں لیکن ایسا کم کم ہے۔ نئے لکھاری اگر ان امور کا خیال رکھے بغیر لکھیں گے تو بغیر ربط کے واقعات ہی واقعات ہوں گے۔

آپ چوں کہ فلم کے نقطہ¿ نظر سے لکھ رہے ہیں اور آپ کے کرداروں نے پردئہ سکرین پر آنا ہے تو یہ مقصد سامنے رکھتے ہوئے اپنی تحریر کو جامع اور باربط بنایئے۔

صرف اسی موضوع پر لکھئے جس پر آپ کے پاس سیر حاصل معلومات ہوں، موضوع سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات سے آپ واقفیت رکھتے ہوں۔ ان سب چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے ہی تحریر میں پختگی آئے گی۔

 

-8 ہر سین اہم ہے

کسی بھی فلم کے لیے استعمال ہونے والا سب سے بُرا لفظ کیا ہے؟ جس کی وجہ سے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کے کردارکچھ زیادہ ہی ذمے داراور بہترین ہوتے ہیں؟ عریانی؟ یا پھر اس کے غیر دل چسپ مناظر؟ نہیں۔ اس میں سے کچھ بھی نہیں۔ سب سے برا لفظ جو کسی بھی فلم کے لیے استعمال ہوتا ہے وہ ہے ”بور“۔ یہ فلم بڑی بور ہے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ کچھ فلمیں بور ہوتی ہیں جب کہ کچھ نہیں ہوتیں۔

اس کی وجہ ہے کہانی سے تحریری طور پر انصاف نہ کرنا۔ اپنے کرداروں سے انصاف نہ کر پانا۔ کہانی میں ہر کردار کا ایک مقصد ہونا ہے۔ چاہیے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اس کا صحیح استعمال ہی کہانی یا فلم کو مضبوط بناتا ہے۔

اگلی بار آپ کوئی فلم دیکھنے جائیں تو کرداروں پر نظر رکھیں کہ کیا وہ اپنی اپنی جگہ فٹ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ فلم بورنگ لگنا شروع ہو جائے گی۔

اس سب سے مراد یہ ہے کہ آپ کے سکرین پلے میں ہر کردار کو نگینے کی طرح فٹ ہونا چاہیے۔ جہاں کرداروں پر آپ کی گرفت ڈھیلی پڑی تو فلم کی کہانی آپ کے ہاتھ سے نکلی اور بعد میں فلم بھی۔

 

-7 اپنا ہیرو چنئے

کسی بھی لکھاری کے لیے لکھنا ایک پرجوش عمل ہے کیوں کہ اس عمل کے دوران وہ تخلیقی مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے، نئے کرداروں کی تخلیق۔ وہ کس کس درجے کے کون کون سے اور کتنے کردار بنائے سب اُس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور پھر اُن سے جو کروانا چاہتا ہے کروائے۔ ہے نا مزے کی بات۔

لکھنے بیٹھئے تو سفید کاغذ آپ کے ان سارے محسوسات اور جوش کا منتظر ہے، چاہے صرف ایک شخصیت تاریخ کے جھروکوں سے نکال کر سامنے لے آئیے۔ اُس کے محسوسات، ناکامیاں اور کامیابیاں سامنے لایئے۔ اس ایک کردار کے ساتھ کئی اور کردار خودبہ بخود ہی سامنے آتے جائیں گے۔ اپنے آس پاس کے ماحول سے جو کردار چاہیں، اسے ماحول سے نکال کر صفحے پر بکھیر دیں۔

لیکن ایک بات دھیان میں رہے کہ سکرپٹ لکھتے ہوئے یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ کس کردار سے کیاسلوک کرتے ہیں، کس کردار کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ کہیں غیر ضروری کردار کو زیادہ اہمیت اور ضروری کردار کو نظر انداز تو نہیں کر رہے۔ 

اس سے کہانی بے وزن ہونے لگتی ہے۔ اصطلاحی زبان میں یہ کہ ”کہانی کے مضبوط کردار یا دوسرے لفظوں میں ہیرو ٹائپ ہی وہ کردار ہیں جنہیں سب سے زیادہ خوب صورتی سے لکھنا چاہیے۔“

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی کہانی انہی کرداروں کے ارد گرد گھوم رہی ہوتی ہے اگر یہ کمزور رہ جائیں گے تو کہانی بورنگ ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس کہانی پر بنی فلم بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر پائے گی۔ کہانی کے ہیرو ہی دراصل وہ مضبوط کردار ہیں جنہیں لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہیرو جتنا دبنگ، مضبوط اور بہادر ہو گا، اتنا ہی پسند کیا جائے گا۔

کہانی کے دیگر کرداروں کے لیے یہ خوبیاں ضروری نہیں کہ وہ ہیرو کی طرح کہانی کو لے کر نہیں چل رہے ہوتے۔ انہیں آپ قدرے ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں لکھیں تو وہ زیادہ بہتر دکھائی دیں گے۔ لیڈنگ کیریکٹر کے لیے بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہیرو کو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک دکھائیں، جیسا کہ عموماً ہر فلم میں ہوتا ہے۔ ہیرو کا تصور ہی ماورائی تخیل اور طاقت سے جڑا ہے لہٰذا ایک عام سیدھا سادا کردار ہیرو نہیں ہو سکتا۔ ہیرو کی اسی مضبوطی کے کھونٹے سے ہر کردار بندھا ہوتا ہے اور اپنی اپنی جگہ رہ کر اپنا کام کرتا ہے۔

کہانی میں دل چسپ اور مزاحیہ واقعات سونے پر سہاگہ کا کام کرتے ہیں۔ یوں آپ ایک متوازن اور مضبوط کہانی تخلیق کر سکتے ہیں۔

 

-6 مزاج کو مدِّنظر رکھئے

سب سے ضروری اور اہم بات جو مدِّنظر رکھنے کی ہے وہ یہ کہ آپ زندگی کے جس طبقے، جس درجے کے بارے میں لکھ رہے ہیں اُن کے مزاج کو مدنظر ضرور رکھئے۔ اُن کے مزاج کے مطابق اس کہانی میں پورا مواد ڈالیے۔

فلم کی کہانی کے بارے میں یہ کہنا کہ میں اس جگہ یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں، اگر دیکھنے والے اسے سمجھ نہیں پا رہے تو یہ میرا مسئلہ نہیں یہ بہت ہی غلط بات ہے۔

یہ آپ کا مسئلہ ہے اور بالکل ہے کیوںکہ آپ کی تحریر کا مقصد ہی لوگوں کو بات سمجھانا ہے، انہیں پیغام دینا ہے۔ اگر آپ اس میں ناکام رہتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایسے لکھنا چھوڑ دیں۔ بس اپنے خیالات ڈائری میں ہی نوٹ کر لیاکریں۔

فلم کے لیے لکھی آپ کی تحریر نے لامحالہ لوگوںکے سامنے آنا ہے اور لوگ پیسے خرچ کر کے تفریح کے لیے آتے ہیں ۔اگر انہیں مبہم اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز دیکھنی پڑے، جس سے نہ صرف ان کے تفریحی موڈ کا بیٹرہ غرق ہوگا بلکہ الٹا وہ الجھی طبیعت سے واپس جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے کہ بتائیں کیا دیکھا تو جواب ہوگا کہ کچھ سمجھ نہیں آیا۔ آپ اپنی ذہانت کا سکہ بٹھانے کے لیے تو بھاری بھر کم تحریر لکھ سکتے ہیں مگر وہ دوسرے کے لیے کسی کام کی نہیںہو سکتی۔

آپ کو ایسی تحریر لکھنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کو تازہ دم ہونے میں مدد دے۔اس کے لیے دیکھنے والوں کے مزاج کو مدِّنظر رکھنا بے حد اہم ہے۔ آپ ناخواندہ طبقے کے لیے لکھ رہے ہیں یا خواندہ۔ آپ کے فلم بینوں کو کیا چاہیے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ 

اہم بات یہ کہ جو موضوع بھی لکھیں، اس کے بارے آپ کو مکمل آگاہی،معلومات اور جزئیات کا پورا علم ہونا لازمی ہے۔ اس سب تیاری کے ساتھ آپ جو لکھیں گے وہ یقینا اچھی تحریر ہو گی۔

 

-5 حقیقی مناظر لکھیے

تحریر میں مناظراس طریقے سے لکھئے کہ یوں لگے کہ یہ تو ایک حقیقی منظر ہے۔ انہیں ایک دم تازہ اور اصلی لگنا چاہیے۔ ذہن میں رکھیں کہ یہ مناظر صرف آپ ہی پہلی بار لکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ایک انگریزی فلم “A Clockwork Orange” دیکھئے۔ جس کا ہر منظر ایک دم نیا اور حقیقی دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس فلم کے کرداروں کی مکالمہ ادائی بھی اتنی رواں اور برجستہ ہے کہ جیسے حقیقی زندگی کا منظر ہو۔

مطلب یہ کہ فلمی سین ایسے ہوں کہ اگر ایکشن ہو تو فلم بینوں میں جوش وولولہ بھر دیں، المیہ ہوں تو ہر آنکھ میں آنسو اور چہرے پر اُداسی ہو، طربیہ ہوں توسب کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے ہوں۔

دراصل موضوعات تو روزمرہ زندگی سے ہی لیے جاتے ہیں جو روزِ اوّل سے چلے آرہے ہیں۔ اصل فن انہی موضوعات میں سے کسی ایک کو تازہ، زبردست اور دیکھنے لائق بناتا ہے، جو ایک سٹوری رائٹر کاکمال ہوسکتاہے۔

 

-4 اپنی پسند کی نفی کیجیے

الفریڈ ہچکاک کا کہنا ہے: ”ڈرامہ زندگی کا وہ رخ ہے جو آپ کی اُداسیوں کو خوش گواریت میں بدل سکتا ہے۔“

یہ پڑھنے کے بعد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اُداس اورپریشان کرنے والے مناظر کیوں لکھوں؟

یقینا کوئی بھی لکھاری بور یا دُکھی مناظر جان بوجھ کر نہیں لکھتا۔ وہ اپنی طرف سے اچھی اور بہترین تحریر سے ہی مطمئن ہوتا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ آپ کی کہانی کے کوئی ایک دو سین جو آپ کے خیال میںکہانی کی جان ہو سکتے ہیں لیکن پروڈیوسر یا ڈائریکٹر انہی سین پر رائے زنی کرتے ہوئے انہیں مسترد قرار دیتا اور نئے سرے سے اپنی مرضی کے مطابق لکھنے کو کہتا ہے تو اس میں برائی کوئی نہیں۔

کیوں کہ پروڈیوسر ڈائریکٹر دیکھنے والوں کے نقطہ¿ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے یا دوسرے لفظوں میں ”مارکیٹ کی ڈیمانڈ“ کے مطابق سین مانگتے ہیں۔ بعض اوقات جب آپ خود بھی کسی سین کو دوبارہ لکھنے کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب زیادہ بہتر ہو گیا ہے۔ یہ سین پہلے اتنا ضروری نہ تھا جتنا آپ سمجھ رہے تھے۔ نیا سین زیادہ اچھا ہے۔

ایک مثال شاید آپ نے سنی ہو، جو لکھاریوں کے لیے ہی ہے کہ “Kill your darlings”۔ یہ تمام قسم کے لکھاریوں کے لیے یکساں طور پر ہے۔ اس سے مراد یہ کہانی میں اپنی پسند کے مناظر نہ ڈالیے بلکہ دیکھنے والوں کی پسند کو مدنظر رکھئے۔ لہٰذا اپنی کہانی کا وہ موڑ یا واقعہ جو آپ کے نزدیک کہانی کا سب ضروری حصہ ہے، لیکن اگر اُسی پر اعتراض اٹھ جائے تو اسے بدلنے میں نہ ہچکچائیں۔ اسے دوبارہ سے لکھتے ہوئے آپ کا دل دکھی تو ضروری ہو گا مگر مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق وہ مناسب ہو گا اور یقینا بہترین بھی۔

 

-3 کوئی پیغام دیجیے

ویسے تو سینکڑوں وجوہات ایسی ہیں جو لکھنے پر اُکساتی ہیں لیکن سب سے بڑی اورضروری وجہ ہے کہ جو آپ لکھ رہے ہوں اُس میں کوئی نہ کوئی پیغام ہو۔ بہت سے لکھاری سمجھتے ہیں کہ صرف سنجیدہ فلموں کے ذریعہ ہی کوئی پیغام دیا جا سکتا ہے، یہ ایک فاش غلطی ہے۔ فلم کسی بھی موڈ کی ہو، پیغام تو بہرحال کوئی نہ کوئی رکھتی ہی ہے، اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہوتا ہے۔

چاہے وہ Schindler کی فلم Lists of Transformers ہی کیوں نہ ہو۔ دیکھیں کہ اس فلم کی کہانی کیوں کر لکھی گئی اور اس کا مقصد کیا ہے؟

اچھی اور بامقصد فلم دیکھنے کے بعد اب اس پر غوروفکر کرتے، اُس سے لطف اندوز ہوتے اور دوبارہ دیکھنے کے خواہش مند بھی ہوتے ہیں۔تو اسی تناظر میں یہ سیکھئے کہ ایسا لکھنا ہے جس کا کوئی مقصد ہو، جس تحریر میں گہرائی ہو، اور اس طرح لکھنا ہے کہ جیسے اس سے پہلے کبھی لکھی نہ گئی ہو۔ اگر آپ کسی فلم کا چربہ لکھ رہے ہیں تو بھی اُس کہانی سے عمدہ اور اچھی باتیںضرور چنیں۔ وہ کہتے ہیں ناکہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہانی کو اس طرح اپنائیں کہ وہ بالکل تازہ اور نئی لگے۔

 

-2 اپنی تحریر نکھاریئے

تحریر یا سکرین رائٹنگ کو بہترین شکل میں لانے کا سب سے بڑا گر ہے، دوبارہ لکھنا اور بار بار لکھنا۔جب آپ ایک تحریر مکمل کرلیتے ہیں تو پھر لازمی طور پر اُسے آگے بھیجنا ضروری ہے۔ کیوںکہ آپ تو لکھ چکے، آپ کا کام ختم، اب اگلے مرحلے کی باری ہے۔

ناول نگاری کی طرح پہلی دفعہ لکھی تحریر کی حقیقت ایک خاکے سے زیادہ نہیں۔ مشق سے آپ مزید بہتر تحریر عمل میں لا سکتے ہیں۔ اپنی تحریر 90 صفحات پر پھیلانے کے بعد اسے سمیٹنے یا اس کا انجام لکھنے کا مرحلہ در پیش ہوتا ہے۔ جس کے لیے آگے چند صفحات ہی بچتے ہیں۔ ہر لکھاری اپنی طرف سے عمدہ لکھتا اور اسے عمدہ ترین سکرپٹ کا درجہ دیتا ہے۔ 

مسودہ مکمل ہونے کے بعد کا مرحلہ بھی آسان نہیں۔ یوں سمجھئے کہ چیز تیار ہے اسے بیچنے کے لیے آپ نے اب مارکیٹ لے جانا ہے اور مارکیٹ میں بیچی جانے والی چیز کانک سک سے درست ہونا لازم ہے۔ آپ بھی اپنے مسودے کو عمدہ ڈھنگ سے اس طرح ترتیب دیں کہ پڑھنے والا اسے اک نظر دیکھنے کے بعد پڑھنے پر مجبور ہو جائے گا۔

لکھنے سے پہلے بہترین آئیڈیئے کا انتخاب کیجیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ذہن میں آنے والے آئیڈیاکے تمام نکات نوٹ کر لیں اور اس کے بعد لکھنا شروع کریں۔ اس طرح آپ کچھ بھی بھولے بغیر جامع تحریر لکھ سکیں گے۔

اپنی کہانی ایک بار لکھئے اور پھر اسے کم از کم 30 بار، بار بار لکھیے۔ جی ہاں کم از کم 30 بار۔ لکھتے جائیں، لکھتے جائیں۔ اس طرح جو تحریر وجود میں آئے گی وہ بہترین ہو گی اور اس میں مزید کاٹ پیٹ یا ایڈیننگ کی ضرورت بھی کم سے کم پیش آئے گی۔

 

-1 تحریر کو پختہ کیجیے

جب آپ اپنا مسودہ مکمل کر چکیں تو اسے ایک طرف رکھ دیں اور بھول جائیں۔ اس کے بارے میں سوچیں بھی مت۔ کم از کم ایک دو ماہ تک۔ اب اسے نکالیے اور پڑھیئے۔ آپ محسوس کریں گے کہ اس تحریر کو آپ اگر دوبارہ لکھیں تو پہلے سے بہتر لکھ سکیں گے۔

ہم جب خود اپنی پرانی تحریریں پڑھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ اس میں یہ یہ کمی ہے، جسے پورا ہونا چاہیے۔ یہی نکتہ ہم آپ کو سمجھا رہے ہیں کہ ایسا ہی اپنے سکرپٹ کے ساتھ کیجیے۔ کچھ عرصے کے وقفے سے آپ اپنے تحریر شدہ سکرپٹ کو دوبارہ پڑھیں گے تو آپ ایک ناقد کی نظر سے بھی پڑھ رہے ہوں گے۔ یقینا اس میں چھوٹی چھوٹی کئی خامیاں نظر آئیں گی۔ جنہیں آپ پہلے سے بہتر انداز میں لکھ سکیں گے۔

سٹیفن گنگ اگرچہ ناول نگار ہیں لیکن بار بار تحریر کے حوالے سے اُن کا کہنا ہے:

”اگر آپ نے پہلے ایسا نہیں کیا تو تجربہ کیجئے۔ اپنے تحریر شدہ مسودہ کو چھے ہفتے بعد پڑھیئے، آپ خود اپنی بہت سی خامیوں کی نشان دہی کر سکیں گے۔ یہ آپ کی اپنی شناخت کا سفر ہے۔ جوں جوں

 آپ وقفے دے کر اپنی تحریروںکو پڑھتے رہیں گے، تو تحریر بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی۔ مسودے کو ایک سے دو ماہ کے وقفے سے پڑھنے میں خاص حکمت پوشیدہ ہے۔“

تحریر میں نکھا ر اورپختگی کے لیے آپ کے لکھنے کی ریاضت ہی کام آئے گی۔ لہٰذا اس ہدایت پر عمل ہی آپ کو ایک اچھا لکھاری بنا سکتا ہے۔

 

admin

Read Previous

سکرین رائٹرز ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

پُراثر اور جاندار مکالمے لکھنے کا بُنیادی اصول ۔ سکرپٹ رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!