قرنطینہ ڈائری ۔ پندرہواں دن

قرنطینہ ڈائری 

(سارہ قیوم)

پندرہواں دن:منگل 7 اپریل 2020

ڈیئر ڈائری!

آج صبح فجر کے وقت بارش ہوئی۔ موسم مزید نکھر گیا۔ یوں تو جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے، فضا صاف ہو گئی ہے، آسمان زیادہ نیلا لگتا ہے اور تارے زیادہ چمکدار نہ ہوا میں آلودگی نہ ٹریفک کا شور۔ لگتا ہے قدرت بھی تنگ آگئی تھی۔ اب انسان جو زندگی کی ریس میں دوڑتے دوڑتے ہانپنے لگا تھا، اسے گھر بٹھا دیا ہے کہ میاں سانس لو اور زندگی پر غور کرو کہ ہے کیا شے۔ ہو سکے تو ایک نظر اپنے دل پر بھی ڈال لینا۔ پھر معلوم ہو گا کہ،

 تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

موسم نشیلا ہو اور ہم ٹہلنے نہ نکلیں، ایسے بھی اب حالات نہیں۔ فریدہ آنٹی کے باغ کی سبزیوں کو محبت بھری (اسے لالچ بھری نہ سمجھا جائے، محبت اور ہوس میں فرق ہوتا ہے جی) نظروں سے دیکھا اور آگے چلی۔ گرین بیلٹ کے پاس ایک چھوٹا سا بھورے رنگ کا بہت پیارا کتا نظر آیا۔ اس کے پیچھے اس سے بھی پیارا ایک بچہ جو کُتے سے بمشکل دو انگل ہی اونچا ہو گا۔ آگے آگے کتا، پیچھے پیچھے بچہ اور سب سے پیچھے بچے کے ابا جو اپنے بچے اور کتے کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ کتا یقینا پالتو تھا کیوں کہ بچہ اس سے مانوس تھا۔ بچے نے نیا نیا چلنا سیکھا تھا۔ اس کے لڑکھڑانے میں اس قدر پیارا پن تھا کہ بے اختیار دل چاہا گود میں اٹھا کر پیار کروں۔ پھر خیال آیا کہ کرونا کے دن ہیں، ایسی حرکت کو پیار نہیں اقدامِ قتل تصور کیا جائے گا۔ سو اس ارادے سے باز رہی۔

آگے چلی تو ایک شہتوت کے درخت کے نیچے سے گزری۔ گہرے جامنی رنگ کے شہتوت سڑک پر بکھرے پڑے تھے اور ان کے رنگ سے سڑک کا وہ حصہ جامنی ہو چکا تھا۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ درخت کی اوپری شاخیں شہتوتوں سے لدی ہوئی تھیں۔ اس وقت وہاں کھڑے، شہتوت کے رنگ میں رنگی سڑک کو دیکھتے میرے ذہن میں ایک انوکھا خیال ابھرا۔ وہ یہ کہ جب میں بوڑھی ہو جاﺅں گی تو بال ڈائی نہیں کروں گی۔سفید رہنے دوں گی اور ان سفید بالوں پر پھلوں اور سبزیوں کے رنگوں سے لہر یئے یعنی Streaks ڈالوں گی۔ یہ خیال آتے ہی میرے ذہن نے تیزی سے ان چیزوں کی فہرست بنانی شروع کی جن کے رنگ خوبصورت اور یونیک ہوتے ہیں اور جو اپنا رنگ کپڑے اور بالوں پر چھوڑ جاتی ہیں۔ شہتوت کا رنگ، چقندر کا رنگ، جامن کا رنگ، آتشی گلابی گلاب کا رنگ، توری کے چھلکے کا رنگ، فالسے کا رنگ، سٹرابری کا رنگ اُف کس قدر خوبصورت لگیں گی ان رنگوں کی Streaks سفید بالوں پر۔ بہت سوچنے پر بھی مجھے کوئی ایسی چیز یاد نہ آئی جس کا رنگ فیروزی نکلتا ہو۔ خیر ایک مرتبہ میں ان رنگوں پر عبور حاصل کر لوں تو دو تین رنگ ملا کر فیروزی بھی بنا ہی لوں گی۔ پھر میں ان سفید بالوں کا اچھا سا ہیئرکٹ کرواﺅں گی، کیراٹن ٹریٹمنٹ کراﺅں گی اور ایک ماڈرن سی بڑھیابن کر پھروں گی۔ نیچرل ڈائی سے فائدہ یہ ہو گا کہ بالوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا اور جب ایک رنگ سے دل بھر جائے گا تو لیموں ملے پانی سے بال دھو کر رنگ کاٹ کروں گی اور کسی دوسرے رنگ کی Streaks کر لوں گی۔ کیسا؟

ویسے یہ آئیڈیا پوری طرح نیا نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے نیچرل ڈائی والا آئیڈیا تو بے شک نیا ہے لیکن سفید بالوں پر فیروزی اور آتشی گلابی Streaks والا آئیڈیا مجھے پچھلے سال آیا تھا۔ جب یہ آئیڈیا میں نے ایک دوست، جو دوست ہونے کے ساتھ گائیڈ، مینٹور اور انسپائریشن بھی ہیں، کے ساتھ شیئر کیا تو وہ لمحے بھر کے لیے چپ کی چپ رہ گئیں، پھر انہوں نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا۔ ”سارہ! یہ اتنا چھچھورا آئیڈیا آپ کو کس نے دیا؟“

”کسی نے نہیں۔“ میں نے فخر سے کہا۔ ”یہ میرے اپنے ذاتی دماغ کی اختراع ہے۔“

تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں متنوع خیالات کے لیے۔ ان انوکھے خیالات کے لیے جو زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں، کبھی جامنی، کبھی گلابی، کبھی فیروزی کبھی سبز۔ وہ خیالات جو کبھی فلسفے کی شکل میں آتے ہیں اور دماغ کا چمن ہرا رکھتے ہیں، کبھی محبت کی پھوار کی صورت دل اور تن من کو بھگو دیتے ہیں، کبھی دعا کے روپ میں جلوہ دکھاتے ہیں اور روح کو چھو لیتے ہیں اور کبھی کبھی چھچھورے بن کر آدھمکتے ہیں اور ایسی گدگدی کرتے ہیں کہ ہنسی روکے نہیں رکتی۔

ویسے دیکھا جائے تو زندگی خود بھی تو کتنی ٹیکنی کلر چیز ہے۔ صرف خیالات ہی نہیں زندگی میں تجربات بھی تو کتنے انوکھے ہوتے ہیں۔ نت نئے ذائقے، اجنبی جگہوں کے سفر، انوکھے لوگوں سے ملاقات، احمقانہ غلطیاں، بے وقوفیاں، بے اختیار قہقہے اور کتنے ہی ایسے تجربات ہوتے ہیں کہ جو نہ ہوں توزندگی روکھی پھیکی بے رنگ اور سپاٹ ہو جائے۔

نت نئے ذائقوں کا خیال آیا تو گھر میں رکھی شترمرغ کے گوشت کی وہ کڑاہی یاد آئی جو آج دوپہر میں پکائی تھی۔ میں اونٹ، ہرن، خرگوش، آکٹوپس، کیکڑا ہر وہ چیز چکھ چکی تھی جو حلال گوشت میں نایاب گنی جاتی ہے۔ ایک شترمرغ کے گوشت کی کسر رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ کچھ عرصہ پہلے مصطفی کے دوستوں نے شتر مرغ کا باربی کیو کیا اور کچھ گوشت میرے لیے بھیجا۔ ویسے شترمرغ کا انڈا تو میں کھا چکی ہوں۔ میری ایک دوست کا شترمرغ فارم ہے۔ ایک دن ہم پندرہ سولہ فرینڈز پکنک منانے اس فارم پر گئیں۔ لم ڈھینگ قسم کے شترمرغ قریب سے دیکھنے کے شوق میں پنجرے کے قریب گئے تو فارم کی مالکہ دوست نے وارننگ دی کہ قریب مت جانا یہ انتہائی بدمزاج جانور ہے۔ غصے میں آجائے تو منہ نوچ لے گا۔ اس کی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایک شتر مرغ آنکھیں نکالتاہماری طرف جھپٹا۔شکر ہے کہ پنجرے میںبند تھا ورنہ شائد واقعی منہ ہی نوچ لیتا۔ سب سے بری اس کی چنگھاڑ ہے۔ یوں لگتا ہے کوئی زکام زدہ شیر دھاڑ رہا ہو۔ وہاں ہم نے شترمرغ کے انڈے کی بھجیا بنا کر کھائی۔ انڈا تو خیر کچھ خاص مزے کا نہ تھا ہاں گوشت البتہ مزے دار ہوتا ہے۔ یہ اور بات کہ گلتا دیر میں ہے۔ پینتالیس منٹ پریشر لگانا پڑتا ہے۔

میری ایک اور دوست کو نت نئے ذائقوں کی کافی اور قہوے پینے کا شوق ہے۔ جن دنوں مصطفی ایف سی کالج میں پڑھتا تھا، میں روز صبح اسے کالج چھوڑ کر اس دوست کے گھر چلی جاتی تھی۔ وہاں پہلے ہم قرآن کے ایک رکوع کی تفسیر پڑھتے تھے ،پھر واک پر چلے جاتے تھے ۔ہر روز اس کے گھر میں کسی نئے ذائقے کی کافی یا قہوہ پینے کو ملتا بادام کی کافی، برازیلین کافی،Macedemia Nutکافی۔ کبھی ایلوویرا اور نیاز بوکے پتوں کا جوس اور کبھی عرق گلاب اور لیموں کا قہوہ۔ ایک مرتبہ اس نے ایک قہوہ پلوایا جس میں کچھ مانوس سی خوشبو تھی ۔معلوم ہوا موتیے کے پھولوں کا قہوہ ہے۔

لیجئے موتیے کے پھولوں کا خیال آیا اور سامنے موتیے کی جھاڑی آگئی۔ میرے قد سے بڑی جھاڑی تھی اور اس پر بے حد خوبصورت پھول لگے تھے۔ دل چاہا ایک پھول توڑ لوں۔ پھر خیال آیا کہ کسی چیز کو ہاتھ لگا لیا تو پھر گھر جا کر ہاتھ دھونے تک چہرے کو نہ لگا سکوں گی۔ پتا نہیں یہ صرف میرے ساتھ ہوتا ہے یا سب کے ساتھ کہ جونہی کسی کام کے بارے میں کہا جائے کہ نہیں کرنا تو پوری کائنات وہ کروانے کے لیے ہاتھ دھو کرپیچھے پڑ جاتی ہے۔ چہرے کو ہاتھ لگانے کی مثال لیجئے۔ گھر میں صرف اخبار واحد چیز ہے جو باہر سے آتا ہے اور بغیر دھوئے استعمال ہوتا ہے۔ جونہی میں اخبار ہاتھ میں پکڑتی ہوں خیال آتا ہے کہ اب چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا اور یہ سوچتے ساتھ ہی چہرے پر کھجلی ہونے لگتی ہے۔ اُف سکون سے اخبار پڑھنا محال ہو جاتا ہے۔ کبھی آنکھوں میں جلن، کبھی ناک پر کھجلی، کبھی گال پر چبھن۔ یااللہ! کروں تو کیا کروں! اٹھ کر بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھوتی ہوں۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی ہوں، چہرا اچھی طرح دوپٹے سے رگڑتی ہوں۔ پورا ایک منٹ انتظار کرتی ہوں کہ اب چہرے پر کچھ ہو تو صاف ہاتھوں سے کھجا لوں، کچھ نہیں ہوتا۔ جونہی اخبار دوبارہ اٹھاتی ہوں، کھجلی شروع۔ جانے کیا اسرار ہے۔ ہو نہ ہو ماموں اللہ بخش کی شرارت ہے۔

ایک گھر کے سامنے سے گزری۔ اندر ایک ماں کو بچے تنگ کر رہے تھے۔ کسی بات پر ضد جاری تھی۔ ”پیدا ہوئے تھے تو انسان تھے۔“ ماں حیرت سے کہہ رہی تھی۔ ”بڑے ہو کر گدھے کیسے بن گئے؟“

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

قرنطینہ ڈائری ۔ تیرہواں دن

Read Next

قرنطینہ ڈائری ۔ سولہواں دن

One Comment

  • مشرق وسطی’ میں تمام مساجد میں خواتین کا حصہ مخصوص ہوتا ہے،روزانہ نمازوں کے علاوہ جمعہ اور عید کی نمازوں میں عورتوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ مسجدوں کو اللہ کا گھر شاید اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ دلی کیفیت کہیں اور پیدا نہیں ہو تی جو وہاں ہوتی ہے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!