قرنطینہ ڈائری ۔ سترہواں دن

جھوٹ بولتاتھا۔ نہ نشہ چڑھتا ہے نہ سرور ہوتا ہے۔ بس ہنسی آتی ہے اور بہت دیر تک آئے جاتی ہے۔ تجربے سے بتا رہی ہوں۔ لیجئے یہ واقعہ بھی سن لیجئے۔ یہ تب کی بات ہے جب میری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ ہم کسی کام سے لبرٹی مارکیٹ گئے۔ شام کا وقت تھا۔ اپنا کام ختم کر کے ہم واپس آنے کے لیے گاڑی میں بیٹھے تو ایک پاپڑ والا آگیا۔ آیا اور آکر ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گیا کہ پاپڑ خرید لو بڑے سپیشل پاپڑ ہیں۔ ہم نے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی مگر وہ نہ ٹلا۔ میرے میاں نے اسے پیسے دینے چاہے لیکن وہ اصرار کرتا رہا کہ پاپڑ ضرور خریدیں، بڑے سپیشل پاپڑ ہیں، آپ دوبارہ بھی ضرور خریدنے آئیں گے۔ اس سے جان چھڑانے کے لیے میرے میاں نے اس سے ایک پاپڑ خرید لیا۔ اس نے مہنگا دیا لیکن ہم نے جان چھڑانے کو لے لیا۔ اس پاپڑ کو آدھا کر کے انہوں نے مجھے دیا اور آدھا اپنے لیے رکھ لیا۔ وہ تو گاڑی چلانے میں مصروف ہوئے، میں نے اپنے حصے کا پاپڑ کھا لیا۔

ذرا دیر بھی نہ گزری تھی کہ مجھے ہنسی آنے لگی۔

”کیا بات ہے؟ کیوں ہنس رہی ہو؟” میرے میاں نے حیران ہو کر پوچھا۔

”پتا نہیں، بس ہنسی آرہی ہے۔” میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا۔

”بے وجہ کیوں آرہی ہے؟ دماغ تو نہیں چل گیا؟” انہوں نے پریشان ہو کر پوچھا۔

میں کوئی جواب نہ دے سکی کیوں کہ ہنستے ہنستے میرے پیٹ میں بل پڑ رہے تھے۔ انہوں نے گاڑی روک دی۔ تشویش سے میرا ماتھا چھوا، وہ نارمل تھا ۔پھر ان کی نظر اپنے حصے کے پاپڑ پر پڑی جو ایک کاغذ میں لپٹا دونوں سیٹوں کے درمیان رکھا تھا۔ وہ چند لمحے سوچتے رہے پھر یکایک ان کے چہرے پر ایک ادراک ابھرا۔

”او مائی گاڈ۔” انہوں نے سر پکڑ کر کہا۔ ”یہ بھنگ والا پاپڑ ہے۔ تبھی تو وہ کہے جا رہا تھا کہ سپیشل پاپڑ ہے۔”

اس دن ہم رات گئے تک سڑکوں پر بلا مقصد پھرتے رہے۔

”گھر کیوں نہیں جا رہے؟” میں قہقہہ لگا کر پوچھتی۔

”تمہاری ہنسی ختم ہو تو جائیں۔” وہ بے بسی سے کہتے۔ ”ابو جاگ رہے ہوں گے، انہییں کیا بتائیں گے؟”

اس وقت مجھے خیال آیا کہ ابھی اگر میں امی کے پاس چلی جائوں تو وہ یہ قصہ سن کر قہقہہ لگائیں گی اور مجھے پاس بٹھا لیں گی اور بھنگیوں کے اتنے لطیفے سنائیں گی کہ ساری رات ہنسی میں کٹ جائے گی۔

اے میرے مہربان رب! میں ماں بنی تو میں نے تجھے جانا۔ تو سخت گیر باپ کی طرح نہیں ہے، تو محبت کرنے والی ماں جیسا ہے۔ کبھی کبھی ہم انجانے میں گناہ کی بھنگ کے پاپڑ کھا بیٹھتے ہیں۔ شرارت سے نیکی کے مونگروں کو رد کر دیتے ہیں۔ پھر تیرے پاس آنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔ اپنے گناہ کے خوف سے مایوس ہونے لگتے ہیں۔ حالانکہ تیرا کرم پکار پکار کر کہتا ہے کہ

                             دست ہر نااہل بیمارت کنند

                             سوُئے مادر آ کہ تیمارت کنند

(ہر نا اہل ہاتھ تجھے بیمار کر دے گا۔ ماں کے پاس آ کہ تیری تیمارداری کرے)

تیری محبت تو وہ ہے کہ بس عاجزی، شرمندگی اور توبہ کا ایک لفظ لیے تیرے پاس آئیں گے اور تو ہمیں اپنی آغوش رحمت میں سمیٹ لے گا۔ اے سترمائوں سے زیادہ پیار کرنے والے! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ ہماری عاجزی و بے بسی پر ترس کھا، اور ہم پر ایک ماں کی طرح رحم کر۔ آمین یا رب العالمین۔

٭…٭…٭

 410 views

Read Previous

قرنطینہ ڈائری ۔ سولہواں دن

Read Next

قرنطینہ ڈائری ۔ اٹھارواں دن

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!