قرنطینہ ڈائری ۔ تیرہواں دن

قرنطینہ ڈائری

(سارہ قیوم)

تیرہواں دن، پیر6 اپریل 2020

ڈیئر ڈائری!

یوں تو آج کل ہر روز چھٹی کا روز ہے، لیکن پھر بھی اتوار کو خاص طور پر منانے کا دل چاہتا ہے۔ کل میں نے بھی اتوار کو خاص طور پر منایا اور اپنے گھر والوں کو حلوہ پوری کا ناشتہ کروایا۔ چونکہ میرے میاں ڈاکٹر ہیں۔ اس لیے ہمارے گھر میں کھانے پینے اور خوراک کے کچھ اصول سختی سے لاگو ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ کھانا یا تو دیسی گھی میں بنے گا ےاکچی گھانی کے سرسوں کے تیل میں۔ سلاد اور بگھار کے لیے زیتون کا تیل استعمال ہو گا۔ میٹھے میں سفید چینی کا داخلہ گھر میں سختی سے بند ہے البتہ گُڑ، شکر اور شہد کے لیے ہمارے دروازے کیا کھڑکیاں بھی کھلی ہیں۔ یہی حال میدے کا ہے۔ میدہ آﺅٹ، چکی کا آٹا اِن۔ تو دوستو میں نے چنے آلو کی بھاجی بنائی، شکر ڈال کر سوجی کا حلوہ بنایا اور دیسی گھی میں آٹا گوندھ کر پوریاں بنائیں اور سرسوں کے تیل میں تلیں۔ بہت مزے کی بنیں۔ بچے بھی خوش ہوئے۔ میں بھی خوش ہوئی اور میاں صاحب تو بہت ہی خوش ہوئے۔

ایک عام سے دن کو، جو آج کل باقی کے عام دنوں سے بالکل مختلف نہیں، اس تام جھام سے منانے کی غرض و غایت کیا ہے؟ نادر شاہ کے متعلق مشہور ہے کہ ہندوستان آیا تو ہاتھی کی سواری کا شوق ہو۔ ہاتھی پر سوار ہوا تو مہاوت سے کہنے لگا: ”عنانش بدستم بدہ“ (اس کی لگام میرے ہاتھ میں دے دو۔)

مہاوت نے جواب دیا: ”فیلِ عنان ندارد“ (ہاتھی کے لگام نہیں ہوتی)

نادر شاہ یہ کہہ کر ہاتھی سے اتر آیا کہ: ”مر کے عنانش بدست غیر باشد سواری رانشاید۔“ یعنی جس مرکب کی باگ ڈور دوسرے کے ہاتھ میں ہو، وہ سواری کے لائق نہیں۔ 

زندگی کا معاملہ بھی ہاتھی کی سواری کا سا ہے۔ نے ہاتھ باگ پر ہے نے پا ہے رکاب میں۔ کسی بات پر بس نہیں، سکی چیز پر زور نہیں اور آج کل تو ویسے بھی اس بے بسی کا عالم سوا ہے۔ کرونا نے گھروں میں بند کر رکھا ہے اور جس طرزِ زندگی کو ہم زندگی جانتے تھے، اب بالکل بدل چکا ہے۔ وقت کی لگام ہاتھ سے نکل چکی ہے اور ہم اس کی مرضی سے چلے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ہم اور آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے وقت اور زندگی کو ہاتھ میں تھامیں اور اسے ایسے جئیں جیسے جینا چاہتے ہیں۔ جس چیز پر اختیار نہیں اس پر کڑھنا چھوڑیں اور جس پر اختیار ہے اسے اپنی مرضی سے برتیں۔ وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں نا

se of the situation. u Lets make the best ،کیوں کہ جو ہونا ہے، اس پر آپ ہنسیں یا روئیں، وہ تو ہونا ہی ہے۔

         جو خشکی سے دو کوس کا ہے سفر

         تو خشکی سے دو کوس کا ہے سفر

ہاں جی! کر لو جو کرنا ہے۔

تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں مزاحمت کی جبلت کے لیے۔ وہ جبلت جو مشکل کے بیل کو سینگوں سے پکڑنا سکھاتی ہے، جو جبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہونے کی ہمت دلاتی ہے اور جو مایوسی اور بے بسی کے اندھیرے میں اس امید کی شمع جلاتی ہے کہ ابھی سب کچھ کھویا نہیں گیا، اپنی زندگی کا کچھ اختیار اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔

جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے ہمارے بچوں کے ابا نے بچوں کو ایکسرسائز کروانے کا ایک نیا طریقہ نکالا ہے۔ عام دنوں میں تو بڑے بچے جِم چلے جاتے ہیں اور چھوٹے اپنے دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے۔ لیکن لاک ڈاﺅن کے دنوں میں سب بند ہے۔ اس عمر کے لڑکوں میں بہت انرجی بھری ہوتی ہے، نہ نکلے تو چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا انہیں مصروف رکھنے اور جسمانی طور پر چاق و چوبند رکھنے کے لیے ان کے ابا رات کو گھر کے سامنے انہیں فٹبال کی پریکٹس کرواتے ہیں۔ یہ پریکٹس یوں ہوتی ہے کہ بچے فاصلے سے ایک دائرے میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو فٹ بال پاس کرتے ہیں۔ ابا کوچ، انسٹرکٹر اور ریفری بن کر دائرے کے بیچ میں کھڑے ہوتے ہیں۔ پریکٹس کے قواعد یہ ہیں کہ جو کھلاڑی بال کو کک لگانے میں ایک سے دوسرے قدم کا استعمال کرے، بال اسے چھو کر باہر نکل جائے یا وہ بال کو کک لگا کر اگلے کھلاڑی سے اتنی دور پھینکے جہاں تین قدم میں نہ جایا جا سکتا ہو تو اسے بطور سزا تین ڈنڈ نکالنے پڑتے ہیں ۔ایک ریگولر پریکٹس سیشن میں ایک بچے کے اٹھارہ بیس ڈنڈ ضرور ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر میں یہ پریکٹس ایک طرف بیٹھ کر دیکھتی ہوں اور اپنی لکھی جانے والی کہانیوں کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں ۔لیکن کل جب یہ بچے اپنے اپنے ڈنڈ کی تعریفوں میں رطب اللسان تھے، مجھے بھی جوش آگیا۔

”یہ کیا مشکل ہے؟ میں بھی کر سکتی ہوں۔“ میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

جب سے مجھے شیاٹیکا کا مسئلہ ہوا ہے، میں اور میرے گھر والے میری کمر کے معاملے میں بہت محتاط رہتے ہیں۔ مجھے وزن نہیں اٹھانے دیا جاتا، کوئی چیز گھسیٹنے نہیں دی جاتی، زیادہ دیر کھڑے رہ کر کام کرنے پر بھی میرے بچوں اور میاں کو اعتراض ہوتا ہے۔ اب جو میں نے ڈنڈ پیلنے کا ارادہ ظاہر کیا تو سب میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پہلے تو میرے بچوں نے مجھے اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن جب میں نے Core Strength ڈویلپ کرنے کے فوائد پر تقریر شروع کی تو وہ راضی ہو گئے اور سب میرے اردگرد یوں اکٹھے ہو گئے جیسے مجھے ہاتھوں میں تھام کر تین چار مرتبہ اوپر نیچے کریں گے اور بس ڈنڈ ہو جائیں گے۔

”ہٹ جاﺅ پیچھے۔“ میں نے حکم دیا۔ ”یوں لگ رہا ہے میں محاذِ جنگ پر جا رہی ہوں اور سب لوگ مجھے ہتھیار پہنانے لگے ہیں۔“

میں نے اپنا دوپٹہ اتار کر مصطفی کو پکڑایا اور وہیں سڑک کے کنارے پانچ ڈنڈ نکالے۔ بچوں نے تالیاں بجائیں۔ میاں نے شاباش دی اور مجھے یوں لگنے لگا میں رستمِ زمان ہوں۔ اپنے اس کارنامے پر بہت فخر ہوا اور رات سونے تک پہلوان پہلوان سی فیلنگ آتی رہی۔

یہ پہلوانی کی ڈینگ جو دماغ کو چڑھ گئی، اسے نکالنے کے لیے رات میں میرا ازلی و ابدی دشمن آموجود ہوا ۔یعنی مچھر۔ میں نے مچھر بھگاﺅ لوشن لگایا لیکن یا تو میرے گھر کے مچھر ڈھیٹ ہو گئے ہیں یا وہ لوشن جعلی تھا۔ جب جب میں میٹھی نیند کی وادی کے کنارے جھوم رہی ہوتی، کوئی منحوس مچھر راگ بھیرویں الاپتا میرے کان میں آموجود ہوتا اور میں جھٹکے سے اس وادی کے کنارے سے کھینچ لی جاتی۔ بہت مرتبہ لوشن لگایا، بدل بدل کر لگایا۔ تالیوں سے انہیں مار ڈالنے کی کوشش کی لیکن ان پر مطلق اثر نہ ہوا۔ آدھی رات کو مجھے کوئی اپنے منہ پر طمانچے مارتے دیکھ لیتا تو نہ جانے کیا سمجھتا۔ مچھروں کی راگ بھیرویں کے ساتھ میری تالیوں کا طبلہ جاری تھا کہ ابراہیم صاحب بھنگڑا ڈالنے آن پہنچے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ابراہیم کو بچپن سے نیند میں چلنے کی بیماری ہے۔ وہ نیند میں اٹھ کر باتیں کرتا ہے، لڑتا جھگڑتا ہے، قہقہے لگاتا ہے، سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچ جاتا ہے اور کسی بھی بھائی کے کمرے میں جا کر اس کے ساتھ بستر میں گھس کر سو جاتا ہے۔ اس عالم میں آپ اسے لاکھ روکیے، جگانے کی کوشش کیجئے، اسے کچھ پتا نہیں چلتا۔ نہ ہی صبح اٹھ کر کچھ یاد رہتا ہے۔ آج یہ حضرت جو ساتھ والے کمرے میں شب باش تھے اٹھ بیٹھے اور لگے چلانے۔ ”عمر سے دور رہوں گا۔ عمر سے دور۔ دور۔ دور۔“ یقینا خواب میں عمر سے لڑائی ہو رہی تھی۔ یہ ارشاد فرما کر میرے کمرے میں وارد ہوئے۔ پہلے تو سیدھے باتھ روم کی طرف گئے، وہاں سے یوٹرن لے کر داخلی دروازے کی طرف لپکے ، عین اس کے قریب پہنچ کر ارادہ بدل دیا اور میرے بستر میں آن گھسے۔ میری گردن میں بازو ڈال کر ایک ٹانگ میرے اوپر رکھی اور مجھے چمٹ کر سو گئے۔ میرے کان میں ننھی منی خراٹیاں گونجنے لگیں۔ ایک مچھروں کی بلا، اوپر سے یہ جکڑ کہ کروٹ لینا تو دور کی بات میں ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس بے بسی کے عالم میں بہت دیر لیٹی رہی اور آنکھیں جھپکتی رہی۔ بڑی دیر بعد آخر کچن میں کچھ کھٹر پٹر کی آواز آئی۔ یہ عمر تھے۔ ان صاحب کو آدھی رات کو بھوک ستاتی ہے اور یہ اٹھ کر پکانے ریندھنے کی فکر میں کچن میں جا دھمکتے ہیں۔

کچن میں آوازیں سن کر میں نے سوچا کہ عمر کو بلا کر کہوں کہ لاﺅنج میں لگا مچھر مار لیمپ میرے کمرے میں لاکر لگا دے۔ میں نے عمر کو آواز دی۔ تھوڑی دیر بعد عمر اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتا میرے کمرے میںآ موجود ہوا۔ عمر کی عادت ہے کہ جب میرے کمرے میں آتا ہے (اور اگر میں اسے لیٹی ہوئی ملتی ہوں) تو میری ٹانگیں یا پاﺅں ضرور دباتا ہے۔ اب بھی اس نے آکر یہی کیا۔ ٹٹول کر اندازے سے میری ٹانگ پر ہاتھ رکھا اور جو زور سے دبایا تو ٹانگ ہلی اور اٹھ کر چل پڑی۔

”یہ کیا ہے؟ یہ کون ہے؟“ عمر اندھیرے میں گھبرا کر چلایا۔

”عمر سے دوردوردور۔“ ٹانگ جواباً چلائی۔

ابراہیم کی آواز پہچان کر عمر نے اسے بازو سے پکڑا اور مارچ کراتا اپنے کمرے تک لے گیا۔ گھر میں سب کو معلوم ہے کہ اس عالم میں سختی یا کھینچا تانی یا جگانے کی کوشش نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ہر کوئی SOP (Standard Operating Procedure) پر عمل کرتا ہے۔

بارے کہیں جا کر کمرے میں لیمپ لاکر لگایا گیا، ابراہیم بحفاظت اپنے کمرے میں پہنچائے گئے اور مجھے نیند کی وادی میں قدم رکھنا نصیب ہوا۔ اب خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ ایک ویران بیابان میں ایک بہت بڑے پنجرے کے سامنے کھڑی ہوں اور عین میرے سامنے پنجرے کے اندر ایک دیوہیکل شیر چنگھاڑ رہا ہے۔ اس ہیبت ناک شیر کے دو سر ہیں اور ان دو سروں کی چنگھاڑوں سے کل عالم لرز رہا ہے۔ میں اس عفریت کو خاموش کرانے کے لاکھ جتن کرتی ہوں لیکن وہ سر پٹک پٹک کر دھاڑے جاتا ہے۔ یکایک ایک چنگھاڑ اس نے ایسی ماری کہ دہل کر میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ اندھیرا ہے، میرا کمرا ہے، میں اپنے بستر پر ہوں اور شیر ہے کہ دھاڑے جا رہا ہے۔ اب جو نظر پھیر کر اس چنگھاڑ کے منبع کی طرف دیکھا تو اپنا ہی میاں نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ جس چنگھاڑ کو میں خواب میں دو مونہوں والے شیر کی دھاڑ دیکھ رہی تھی وہ میرے میاں صاحب کے خراٹے تھے۔ عام طور پر وہ خراٹے نہیں لیتے لیکن آج لے رہے تھے اور اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ رہے تھے۔ شاید یہ صبح میں کھائی حلوہ پوریوں کا اثر تھا یا شاید آج قدرت کو مچھروں، نیند میں چلتے بچوں اور خراٹوں سے میرا امتحان لینا مقصود تھا۔ واللہ اعلم۔

ساری رات اس غل غپاڑے سے جھوجھنے کے بعد کہیں تیسرے پہر میری آنکھ لگی اور صبح اپنے وقت پر کھل گئی۔ اٹھ کر آئینے میں اپنا چہرا دیکھا تو آنکھوں کے نیچے حلقے پڑے تھے۔

        اک میری اکھ کاشنی

       دوجا رات دے اُنیندرے نے ماریا

        وے اک میری اکھ کاشنی

لیکن چہرے پر کاشنی آنکھ کے علاوہ بھی کچھ تھا۔ مچھروں کے کاٹے کے نشانات ، اور وہ بھی ایک دو نہیں پورے دس۔

میرے میاں صاحب نے یہ نشان دیکھے تو گھبرا کر پوچھا۔ ”تمہیں اتنے مچھر کیسے کاٹ گئے؟“

”اصل میں میں بہت سوئیٹ ہوں۔“ میں نے انکسار سے کہا۔ ”میرا خون میٹھا ہے، مچھر resist نہیں کرسکتے۔“

لیکن یہ خوشخبری سن کر بھی ان کی تسلی نہ ہوئی اور وہ دوپہر تک مجھے وٹامن سی کی گولیاں کھلاتے رہے۔

شام کو میری ایک نند کا فون آیا۔ کہنے لگیں: ”بیٹا پالک بنائی ہے۔ رائیڈر کے ہاتھ بچوں کے لیے بھیج رہی ہوں۔“ جی میں آئی کہ منع کر دوں کہ یہ تکلیف نہ کریں۔ کیوں کہ معلوم تھا کہ گھر میں میرے علاوہ کوئی نہ کھائے گا۔ لیکن کہہ نہ سکی اور شکریہ ادا کر کے فون بند کر دیا۔ ویسے بھی ان کا پالک پنیر مجھے پسند ہے۔ واک پر نکلنے سے پہلے بچوں کو بتایا کہ پھپھو پالک بھیج رہی ہیں، ریسیو کر لینا۔ بچوں نے پالک کا نام سن کر ناک بھوں چڑھائی اور بے دلی سے ریسیو کرنے کا وعدہ کیا۔ میں واک سے واپس آئی تو مصطفی کو سامنے کھڑا پایا۔ اس نے خوشی سے مجھے بتایا: ”پالک پنیر نہیں ہے پالک گوشت ہے۔ ساتھ میں کباب، رول اور سموسے بھی ہیں۔“

رات کو ان نعمتوں کو اپنے دستر خوان پر سجے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اچھا ہوا منع نہیں کیا۔ میں نے خود ہی سے اخذ کر لیا تھا کہ یہ پالک پنیر ہو گا جب کہ وہ مجھے دعوتِ شیراز بھیج رہی تھیں۔

اے میرے مہربان رب! ہم تیری نعمتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔ انہیں حقیر جانتے ہیں، نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے ساتھ کس قدر خیر اور کتنا انعام لائی ہیں۔ ہم وہ مانگتے ہیں جسے ہم اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں، اس پر راضی نہیں ہوتے جو تو دینا چاہتا ہے۔ 

ہم اپنے لیے ایک پھول مانگتے ہیں اور اسی کی ضد پر اڑے رہتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ تُو تو ہمیں پھولوں کا پورا ٹوکرا دینا چاہتا ہے۔ اے رزق دینے والے، اے نعمت دینے والے ہم نہیں جانتے اور تو جانتا ہے، ہم نہیں سمجھتے اور تو سمجھتا ہے۔ لے ہم تیری رضا میں راضی ہیں، تجھ سے ملنے والی چھوٹی سی چھوٹی نعمت کو بھی آنکھوں سے لگاتے ہیں اور سر پر بٹھاتے ہیں۔ ہمیں ہر وہ نعمت دے جو تیرے خزانوں میں اعلیٰ و ارفع ہے اور اسے ہمارے دلوں کی خوشی اور تسکین کا باعث بنا۔ آمین یا رب العالمین۔

٭….٭….٭

 

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

قرنطینہ ڈ ائری . بارہواں دن

Read Next

قرنطینہ ڈائری ۔ پندرہواں دن

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!