قرنطینہ ڈائری ۔ اٹھارواں دن

قرنطینہ ڈائری

(سارہ قیوم)

اٹھارواں دن :جمعہ  10 اپریل 2020

ڈیئر ڈائری!

آج میرا ڈائری لکھنے کا آخری دن ہے۔ جب تک یہ صفحہ شائع ہو گا، شعبان کے آخری دن ہوں گے اور رمضان کی آمد آمد ہو گی۔ ڈائری لکھنے کے اس تین ہفتے کے سفر میں میں نے کیا کھویا کیا پایا؟ کھویا تو کچھ نہیں، پایا بہت کچھ۔ اپنے وقت کا بہترین مصرف پایا، زندگی کی کچھ یادوں کو کاغذ پر سمیٹ لینے کا موقع پایا، لکھنے کی نئی صنف کا ہنر پایا اور سب سے بڑھ کر دوستوں او رپڑھنے والوں کی توصیف و محبت پائی۔

تو دوستو! آج میں شکر گزار ہوں آپ کے لیے۔ آپ کی اس حوصلہ افزائی کے لیے جو آپ نے کمال مہربانی و شفقت سے مجھ پر نچھاور کی۔آپ کی اس محبت کے لیے جو آپ نے مجھے بخشی اور آپ کی ان دعائوں کے لیے جن سے آپ نے مجھے اور میرے بچوں کو نوازا۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا ۔

آج پھر جمعہ ہے۔ میں نے حسبِ معمول گھر کو چمکایا، الماری کھول کر بہترین جوڑا نکالا، آنکھوں میں سرمہ لگایا، میچنگ جوتی اور بُندے پہنے ۔خوش قسمتی سے دراز میں سے میچنگ کلپ بھی مل گیا وہ بھی لگا لیا۔ آپ پوچھیں گے اس تیاری کا کیا مقصد؟ کیا کہیں جانا تھا یا کسی کو آنا تھا؟ نہیں! بس جمعہ پڑھنا تھا اور اپنا دل خوش کرنا تھا۔ خود ہی اپنے کپڑے دیکھنے تھے اور خود ہی واہ واہ کرنی تھی۔ کوئی دیکھے نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا۔ تو بس ہم شبیر بنے اپنی تیاری دیکھا کیے اور واہ واہ کیا کیے۔

واہ واہ سے یاد آیا! بھلا بوجھو تو آج میں نے کیا دیکھا اور خوب واہ واہ کی۔ انارکلی۔ ارے نہیں بھئی! شہزادہ سلیم کی انارکلی نہیں۔ سچ مچ کی انارکلی۔ انار کے درخت پر لگنے والی، کیسری رنگ کی، نازک اندام انارکلی۔ انار کا درخت خود بھی نازک اندام ہوتا ہے لیکن اس کی کلیوں اور پھولوں کے تو کیا ہی کہنے۔ میں روز واک کرتے ہوئے اس سڑک سے گزرتی تھی، نہ جانے پہلے نظر کیوں نہ پڑی۔ آج پڑی تو بے اختیار دل چاہا چند پھول اور کلیاں توڑ کر لے جائوں ۔لیکن پھر وہی مجبوری آڑے آئی کہ ایک مرتبہ کسی چیز کو ہاتھ لگا لیا تو چہرے کو نہ لگا سکوں گی۔ پھر اس کے بعد کیا ہو گا، وہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔

ویسے شہنشاہ اکبر کے ذوقِ سلیم کی بھی داد دینی پڑے گی کہ کیا نام چنا حسین کنیز کے لیے۔ انارکلی۔ ویسے تو اس بے مثل کہانی کے مصنف سید امتیاز علی تاج اپنے ڈرامے کے دیباچے میں خود لکھتے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے یہ داستان بے بنیاد ہے اور میرے ڈرامے کا تعلق محض روایت سے ہے۔ ان کاکہنا بجا، لیکن اس کہانی میں، اس کردار میں اور اس نام ”انارکلی” میں اس قدر دلآویزی ہے کہ اس پر یقین کرنے اور اس سے پیار کرنے کو دل چاہتا ہے۔ سید امتیاز علی تاج کا یہ ڈرامہ کلاسیکی ادب کا شاہکار ہے اور اس کے ڈائیلاگ اس قدر خوبصورت ہیں کہ اگر اس میں سے کہانی کو نکال بھی دیا جائے تو اس کے کمال پر کوئی اثر نہ پڑے۔ چند نمونے ملاحظہ کیجئے۔

انارکلی:  ”(ملول نظروں سے ماں کو دیکھتے ہوئے) میری اماں تمہیں کیسے سمجھائوں کہ میں کیوں غمگین ہوں۔ اے کاش میں اپنا دل کسی طرح تمہارے سینے میں رکھ دیتی۔ پھر دیکھتی تم کیسے کہتی ہو، تو انارکلی ہے تو خوش کیوں نہیں ہوتی؟ میں کیسے بتائوں، میں انار کلی ہوں، میں اسی لیے خوش نہیں ہوتی۔”

 ایک اور موقع پر جب رانی اپنے بیٹے سلیم کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ ایک کنیز سے شادی کا خیال دل سے نکال دے ورنہ دنیا باتیں جائے گی، تو وہ ماں کو جواب یوں دیتا ہے۔

 سلیم: ”میں جانتا ہوں یہ دنیا کس طرح دیکھنے کی عادی ہے۔ (غصے سے مڑ کر) جائیے دنیا کی عظیم ترین سلطنت کی لختِ جگر کو میرے پہلو کی زینت بنا دیجئے اور میں پھر بھی دنیا کی یہ سرگوشیاں آپ کے کانوں تک پہنچائوں گا۔ ‘ اس احمق کو دیکھو جس نے سیاست کے پیچھے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔’ جائیے فردوس سے میرے لیے ایک حور مانگ لائیے۔ پھر بھی میں دنیا کی نظروں میں یہ طعنے لکھے ہوئے دکھا دوں گا۔ ‘یہ بدنصیب عورت کی دلفریبیوں کو کیا جانے۔’ (نفرت سے) دنیا اور اس کی نظریں! پھر اگر انارکلی کو اپنا بنا لینے پر دنیا یہ کہے کہ محبت اندھی ہے تو میں دل کھول کر ہنس سکتا ہوں۔”

اور جب انجام کار ایک حاسدانہ سازش کے ذریعے انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے اور شہزادہ تڑپ تڑپ کر دیوانہ وار انارکلی کا نام پکارتا ہے تو:

رانی: ”(سلیم کو لپٹا کر اور اپنا رخسار اس کے سر پر رکھ کر) میرے لال وہ زندہ رہے گی۔ وقت کی گود میں، زمانے کی آغوش میں۔ یہ لاہور اس کا نام زندہ رکھے گا۔ دنیا اس کی داستان سلامت رکھے گی۔ اور تو بھی، میں بھی اور دور دراز کی نسلیں بھی اس پر آنسو بہائیں گی۔”

اور آج صدیوں بعد لاہور کی ایک سڑک پر کھڑے میں انارکلی کو یاد کر رہی تھی، اس کی کہانی میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہی تھی، اور میرا دل اسکی یاد میں آنسو بن چکا تھا۔اس سڑک پر چلتے چلتے بے اختیار میرا دل چاہا کہ واپس مڑوں، انار کے درخت کے نیچے جا کھڑی ہوں اور اس کی ہر انارکلی کو تب تک تکتی رہوں جب تک وہ مرجھا کر گر نہ پڑے۔

لیکن مجھے واپس مڑنے کی ضرورت نہ پڑی۔ اچانک میری نگاہوں کے سامنے ایک کوندا سا لپکا اور ایک گھنے پیڑ کی شاخوں میں سے مجھے کیسری رنگ کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے جلدی سے قدم بڑھائے۔ گھنے درخت کے پیچھے انار کا ایک اور درخت سڑک کنارے کھڑا تھا اور اس پر بے شمار پھول اور کلیاں کھِلی تھیں۔

پائولو کوئیلواپنی کتاب دی ایلکمسٹ میں لکھتا ہے کہ جب انسان شدت سے کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو پوری کائنات اس خواہش کو پورا کرنے میں لگ جاتی ہے۔ (جی ہاں یہ قول شاہ رخ خان کا نہیں پائولو کوئیلو کا ہے۔ وہیں سے چرا کر شاہ رخ خان کی فلم میں ڈالا گیا ہے۔) ہم اسے قبولیت کی گھڑی کہتے ہیں۔ جیسے میں نے انارکی کلی ایک مرتبہ پھر دیکھنے کی خواہش کی اور انار کا درخت دوسری مرتبہ میرے سامنے آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مائنڈ سائنس علم کی ایک شاخ ہے اور اس پر بہت ریسرچ کی گئی ہے۔ لب لباب اس ریسرچ کی فائنڈنگ کا یہ ہے کہ انسانی دماغ انتہائی طاقتور Phenomen ہے، اپنے مستقبل کی تشکیل کر سکتا ہے، جو چاہتا ہے وہ پا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس تمام سائنس کی بنیاد اس عقیدے پر کھڑی ہے کہ اس کائنات میں کچھ پازیٹو اور کچھ نیگیٹو طاقتیں ہیں۔ ان میں ایک پازیٹو طاقت ایسی ہے کہ جو سپریم ہے، سب سے بڑھ کر طاقتور ہے اور جس کے قبضے میں اس کائنات کا نظام اور تمام مخلوقات کی زندگی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اس طاقت کو گاڈ کہہ لیجئے، کائنات کہہ لیجئے یا صرف طاقت کہہ لیجئے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ موجود ہے اور قادرِ مطلق ہے۔ اور جب ایک انسان اپنے دل و دماغ کو اس Omnipotent طاقت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتا ہے تو زندگی میں جو چاہتا ہے پا لیتا ہے۔

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

قرنطینہ ڈائری ۔ سترہواں دن

Read Next

ابتدائیہ بہتر بنانے کے راہ نما اصول ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!