سکرپٹ کیسے لکھا جائے ۔ سکرپٹ رائٹنگ ۔ کمرشل رائٹنگ

 

سکرپٹ کیسے لکھا جائے

سارہ قیوم

 

پچھلے آرٹیکل میں ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ آپ کس طرح ایک نئے آئیڈیا کو بہ طور ڈرامہ پیش کر سکتے ہیں۔ ہم نے ون لائنر کی اہمیت کا ذکر کیا، ڈرامہ کی مختلف اصناف کی بات کی، کرداروں کی تشکیل کا طریقہ واضح کیا اور آپ کو بتایا کہ کہانی کا بنیادی خاکہ کس طرح بنایا جائے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کہانی کے بنیادی خاکے کو سکرپٹ میں کیسے ڈھالا جائے۔

 

کہانی

ہر کہانی کے تین بنیادی حصے ہوتے ہیں۔ ابتدا، درمیان اور انجام۔ یہ تین حصے مزید چھے حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں:

ماحول

کہانی کی سیٹنگ کیا ہے؟ کردار کسی زمانے، وقت یا ماحول میں رہتے ہیں۔ کیا یہ تاریخی کہانی ہے یا غربت کی داستان ہے۔ امیروں کا قصہ ہے، جنگ کی کہانی ہے یا مستقبل کا نقشہ کھینچتی ہے۔

پلاٹ

کہانی کی جُذیات کو پلاٹ کہتے ہیں۔ واقعات میں جذبات کی آمیزش سے پلاٹ وجود میں آتا ہے۔ کہانی اور پلاٹ کا فرق یوں واضح کیا جا سکتا ہے:۔

کہانی: ہیروئن فسادات میں گُم ہو گئی۔ ہیرو نے دوسری ہیروئن رابعہ سے منگنی کر لی۔

پلاٹ: ہیروئن فسادات میں گُم ہو گئی۔ رابعہ نے ہیرو کے تنہا، مایوس اور اداس دل پر ہمدردی اور محبت کا پھاہا رکھا اور یوں ان دونوں کی منگنی ہو گئی۔

مسئلہ:

کہانی میں جب تک مسئلہ نہیں پیدا ہو گا، وہ کہانی نہیں بنے گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ میں گھر سے نکلا، باغ میں سیر کی اور واپس آگیا، تو یہ کہانی نہیں ہے۔ کہانی یہ ہے کہ میں گھر سے نکلا، باغ میں سیر کے دوران مجھ پر شہد کی مکّھیوں نے حملہ کر دیا یہ کہانی ہے۔ کہانی کو کہانی اس کا مسئلہ بناتا ہے۔

بحران: کہانی میں مزید دلچسپی پیدا کرنے کے لیے چھوٹے مسئلہ کو ایک بڑا بحران بنا دیجئے۔

مطابقت: بحران کہانی کا کلائمکس ہے۔ یہاں سے کہانی اپنے انجام کی طرف بڑھنا شروع ہو گی۔ کردار مسئلہ یا بحران کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے۔ یہ کہانی کا اہم ترین حصہ ہے۔

حل: آخر میں آپ کو یہ دکھانا ہے کہ کردار اپنے مسائل کو کیسے حل کریں گے یا اگر حل نہیں کر پائیں گے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔

 

کہانی کو سکرپٹ میں بدلنا

پہلے سین سے ہی کہانی کا ماحول واضح کر دیجئے۔ کردار جن گھروں میں رہتے ہیں ان کے بارے میں واضح طور پر لکھیے۔

 

پلاٹ کو تیزی سے آگے بڑھایئے

یہ تیز رفتاری کا زمانہ ہے اب لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ آدھا گھنٹہ بیٹھ کر ہیروئن کو باغ میں ٹہلتا اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتا دیکھیں۔ کرداروں کے جذبات واضح طور پر لکھیں۔ ضروری نہیں کہ اداکار آپ کے لکھے ڈائیلاگ کو اسی طرح محسوس کرے جس طرح آپ نے کیا تھا۔ مثال کے طور پر ایک کردار کہتا ہے۔ ’چپ کرو۔‘ اب ذر ا تصور کیجئے کہ یہ چھوٹا سا جملہ غصے سے کہا جائے تو اس کا کیا مطلب ہے اور پیار سے کہا جائے تو کیا معنی رکھتا ہے۔ یہی جملہ ہنس کر، چیخ کر، رو کر اور سرگوشی میں کہا جائے تو ہر ایک کے معنی مختلف ہوں گے۔

 

مسئلہ پیدا کیجئے

جی نہیں زندگی میں نہیں، سکرپٹ میں۔ ایک قسط کو چار حصوں میں تقسیم کیجئے۔ ایک قسط میں ایک بڑا مسئلہ جسے ہم بینگ کہتے ہیں ہونا چاہیے اگر آپ اپنے سکرپٹ کو مزید دلچسپ بنانا چاہتے ہیں تو ایک قسط کے چار حصّوں میں چار بینگ دکھا سکتے ہیں۔

پورے ڈرامے میں کم از کم ایک بڑا بحران ضرور ہو گا۔ اس بحران کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہوں گے اور دلچسپی کا عنصر بڑھ جائے۔ لیکن ایک بات یاد رکھیے ہر مسئلہ مربوط ہونا چاہیے۔ کہیں کی اینٹ کو کہیں کے روڑے کے ساتھ مت جوڑیئے۔

 

مطابقت

کردار اپنے مسائل کے ساتھ ایڈجسٹ کیسے ہوں گے، کہانی اپنے کلائمکس کی طرف کیسے بڑھے گی، یہی وہ چیز ہے جو آپ کے ڈرامے کو ناظرین کے لیے ایک بہترین تفریح بنائے گی۔

آخری قسط میں بحران پھر اُس بحران اور مسائل کا حل دکھایئے۔ ضروری نہیں کہ آپ سب کچھ کھول کر رکھ دیں۔ کچھ چیزوں کو آپ ناظرین کے تصور پر بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ لیکن کبھی بھی چیزوں کو ادھورا مت چھوڑیں۔ اگر دیکھنے والوں کو حل کی منزل تک نہیں پہنچا سکتے تو کم از کم راستہ ضرور دکھا دیجئے۔ بیچ میں لٹکتا نہ چھوڑیئے۔

امید ہے آج کا مضمون آپ کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ اگلے مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کہانی اور سکرپٹ میں جذبات کو کیسے بہتر انداز میں پیش کیا جائے۔

admin

Read Previous

پُراثر اور جاندار مکالمے لکھنے کا بُنیادی اصول ۔ سکرپٹ رائٹنگ

Read Next

سکرپٹ لکھئے ۔ سکرپٹ رائٹنگ ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!