سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے ۔ کمرشل رائٹنگ

سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے

سکرپٹ جو ناول سے مختلف انداز میں لکھا جاتا ہے

-1 ساخت یا ڈھانچہ

میں ابھی بچہ ہی تھا جب میرے انکل نے مجھے کاسابلانکا کا سکرپٹ دکھایا ۔ حتی کہ کچھ بڑا ہونے کے بعد میں مطالعہ کا شوقین ہو چکا تھا، تب میرا خیال ہے کہ میں نے کچھ غیر ملکی دستاویزات دیکھیں جو ان سب تحریروں سے مختلف تھیںجو اب تک میری نظر سے گزر چکی تھیں۔ وہ دستاویزات بھی میری سمجھ سے باہر تھیں۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا میں نے کئی سکرین پلے پڑھے۔ تب وہ کچھ کچھ میری سمجھ میں آنے لگے تھے یوں کہیں کہ یا اب مجھے تحریر کی اونچ نیچ سمجھ آنے لگی تھی۔

میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہمیں سکھایا گیا کہ سکرپٹ رائٹنگ کے دوران بہت سے کردار کھڑکی سے باہر چلے جاتے ہیں یعنی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ کرو، وہ نہ کرو اس چکر میں تقریباً سارے کردار گڈمڈ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان سب مشکلات سے بچنے کے کچھ گُر ہیں، جو آج آپ کی رہنمائی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

ایکشن لائنز سے متعلق تفصیلات زیادہ سے زیادہ تین سطروں پر مشتمل ہونی چاہئیں، تین سے کم ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ پورے سکرپٹ میں غیر ضروری تفصیلات سے قطعی اجتناب برتیں۔ بالکل اس طرح جیسے نظموں میں الفاظ محدود اور مطلب وسیع ہوتا ہے اسی اصول کے تحت کم سے کم الفاظ میں جامع تحریر لکھیں۔ تحریر کی وضاحت کے لیے ایکشن یا اس سین کی سیٹنگ میں وقت ضائع نہ کریں۔ کہانی کے کرداروں کو غیر واضح اور مبہم نہ چھوڑیں لیکن غیر ضروری تفصیلات سے پرہیز کریں۔ بیک سٹوری کے کردار اور فلم بینوں کو متوجہ کرنے کے لیے اضافی کوشش سود مند ثابت نہ ہو گی۔ کرداروں کے ایکشن اور مکالمے یہ کام بہتر طور پر کر سکیں گے۔

تحریر کا ہر جملہ فعل حال میں لکھیں، اس سے کہانی متحرک اور جان دار ہونے کا تاثر دیتی ہے۔ یہی گُر تحریر کی حقیقی رُوح ہے۔ بہترین سکرین رائٹر، ایکشن کی تفصیلات ایک پیرا گراف میں دو لائنوں سے زیادہ نہیں لکھتا۔ اسی مختصر نویسی میں بہت سی تفصیلات بصری انداز میں لکھئے مثلاً جنگ زوروں پر تھی۔ اس جملے میں جنگ کی پوری شدت خود بہ خود آپ کے تصور میں آجاتی ہے۔

یاد رکھئے کہ آپ صرف اُن اہم چیزوں کے بارے میں تفصیل سے لکھیں کہ جنہیں ہم اصل میں سکرین پر دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی غیر اہم چیزوں کو چھوڑ دیں اور انہیں کم سے کم الفاظ اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں ہی واضح کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی چیزوں کے لیے آپ تمثیلی الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں مختصر انداز میں ہی واضح کر سکتے ہیں۔

سکرین پلے کے ابتدائیہ کے حوالے سے کچھ مثالیں درج ذیل ہیں جن کی مدد سے آپ سیکھ سکیں گے کہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ تاثر کس طرح اُبھارا جا سکتا ہے:

”نیوی کے مضبوط اور پختہ بیراج سے زبردست گھن گرج کی آوازیں سنائی دیں۔ اتنی خوف ناک آوازیں تھیں کہ پورا جسم لرز کر رہ گیا اور کانوں کے پردے جیسے پھٹ گئے ہوں۔“

”جرمن تو پ خانہ کی طرف سے دھواں دھار بم باری تباہی مچا رہی ہے، سینکڑوں جرمن مشین گنیں شعلے اُگل رہی ہیں۔“

”درد اور بھوک کا مارا مفلوک الحال شخص، بھری پُری سڑک پر جا رہا تھا۔“

ان سب مثالوں میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح تمثیلی انداز میں پورا منظر واضح کیا گیا ہے۔

ان میں سے بہت سے فقرے گرائمر کے لحاظ سے اگرچہ نامکمل اور ادھورے محسوس ہوں گے مگر سکرین پلے کے لحاظ سے یہ مکمل ہوتے ہیں کیوں کہ ان جملوں کے بعد جو تصویر ہمارے ذہن میں بنتی ہے، وہی اصل نکتہ ہے۔

-2 مکالمہ

مکالمہ نگاری کے کچھ بنیادی اصول ہیں۔

طویل مکالمے

آپ کا سکرپٹ آپ کی تحریر ہے مکالمہ بازی کا مقابلہ نہیں۔ اس میں آپ بہت بڑے اور طویل مکالمے نہیں لکھ سکتے۔

طویل مکالمے گفت گو سے زیادہ خود کلامی کا تاثر دیتے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ آپ کے سکرپٹ کے 95 فی صد مکالمے تین سطروں سے کم ہی ہوں۔

ثانوی تحریر

ثانوی تحریر سے مراد وہ سب دکھانا یا بتانا مقصود ہے، جو مکالمے سے ہٹ کر ہو، مثلاً ہیرو جو ہیروئن کی بے وفائی پر دُکھی ہے اور سڑک پر بے اختیار اُس کے پیچھے چلنے لگتا ہے۔ 

کرداروں کے مختلف لہجے یاد رکھئے کہ کیوں کہ آپ کی تحریر کا ہر کردار ایک جیتا جاگتا بولتا ہوا انسان ہے۔ اس کا ایک اپنا مزاج اور پسند و نا پسند ہے۔ اپنی الگ شخصیت ہے۔ کرداروں کی اس رنگا رنگی کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان کا اندازِ گفت گو ۔ ہر کردار اپنے بات کرنے کے انداز اور لہجے سے پہچانا جائے گا۔

تاثرات سے اظہار

بعض اوقات کردار کے مکالمے اتنے اہم نہیں جتنا اُن کے تاثرات یا باڈی لینگوئج، جو اس کردار کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔

-3 White Space

اس سے مراد چھوٹے چھوٹے مکالمات میں اپنا مطلب بہتر انداز میں واضح کرنا۔ بھاری بھر کم تحریر نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھنے میں بھی بوجھل لگتی ہے۔ سکرین رائٹنگ کی یہ نئی تکنیک مقبول عام ہے جس میں مختصر انداز میں لکھا گیا سکرپٹ نہ صرف دیکھنے والوں پر اچھا تاثر ڈالتا ہے بلکہ پڑھنے والوں کے لیے بھی دل کشی کا حامل ہوتا ہے۔

-4 داخلے میں دیر، نکلنے میں جلدی (Enter late leave early)

ناول نگاری میں آپ تمہید باندھتے ہوئے قاری کو ماحول کی جزئیات سے روشناس کراتے کسی منظر میں داخل کرتے ہیں اور دیر تک اسی منظر میں رہتے ہیں لیکن فلم اور ٹی وی میں اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں آپ سین میں داخل ہونے میں دیر تو لگا سکتے ہیں لیکن سین سے جلد نکلنا بہت ضروری ہے کیوں کہ اس طرح آپ بہت سی غیر ضروری تفصیلات سے بچ جاتے ہیں اور فلم بین بھی لمبے مناظر سے اُکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ سین کا مختصر اور پاور فل ہونا بے حد ضروری ہے۔

-5 کہانی کو سادہ سے سادہ رکھئے

ناول نگاری میں آپ کے پاس خاصاوقت ہوتا ہے کہ پہلے آپ کہانی کو کرداروں سمیت خوب پھیلائیں اور پھر آخر میں الجھی ہوئی کہانی کو سمیٹ دیں۔ یہاں قاری اس بات کو خوش دلی سے قبول کرتا ہے جب کہ فلم یا ڈرامہ اس کے برعکس ہو گا۔

سکرپٹ میں بہت سارے کردار اور واقعات تخلیق نہیں کئے جا سکتے کیوں کہ سب سے انصاف کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے لہٰذا گنے چنے، چند بہت ضروری کردار ہی کہانی میں اس طرح رکھیں کہ آپ انہیں خوش اسلوبی سے ایک اچھا سا انجام دے سکیں۔ یوں جب آپ کی کہانی کلائمکس تک پہنچے تو دیکھنے والے اس میں پوری طرح شامل ہوں۔

-6 30,000 فٹ ویو (30,000 Footview)

ایک بات جو کسی بھی لکھاری کو قلم پکڑنے سے یا کی بورڈ پر انگلی رکھنے سے پہلے یاد رکھنی ہے وہ یہ کہ آپ زندگی کے کس طبقے کے لیے لکھ رہے ہیں؟

مثال کے طور پرآپ ایک گھریلو فلم بنا رہے ہیں تو اسے خواتین زیادہ پسند کریں گی۔ رومانی فلم نوجوان کی پسندیدہ، کھیل سے متعلق، کھیلوں کے دلدادہ لوگ دیکھنا پسند کریں گے۔

لیکن اگر یہ بھی بورنگ کا ٹائٹل پائیں گی تو ان موضوعات پر پسندیدگی کی نظر رکھنے والا مخصوص طبقہ بھی انہیں دیکھنے نہیں آئے گا۔ کسی بھی کہانی میں اس کے موضوع کے حوالے سے بھرپور اور دل چسپ مواد ہی اسے کامیاب بنا سکتا ہے۔

آپ جس طبقے کے لیے بھی لکھ رہے ہیں کہانی کو تھرلنگ اور جان دار ہونا چاہیے۔ دل چسپ کہانی دیکھنے والوں کو اپنی طرف خود متوجہ کرے گی۔

-7 مقصد (Aim Big)

اگرچہ ہم مووی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں لیکن سٹوڈیو موویز میں ایک اوربات اہم ہوتی ہے اور وہ ہے set pieces۔ اس سے مراد ہے مناظر کا تسلسل اور ربط۔ واقعاتی تسلسل فلم کی خوب صورتی اور کامیابی کی ایک اہم وجہ ہے۔کچھ لوگ اس اصطلاح کی جگہ ایک اور اصطلاح trailer moments بھی استعمال کرتے ہیں۔

سکرین پلے کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ سیٹ پیس خوب صورت اور جکڑ لینے والا ہو مگر اس میں جنگ و جدل، خونی مناظر کم سے کم ہوں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ سوشل موضوعات پر، مار دھاڑ کے بغیر بنی فلموں نے زیادہ بزنس کیا ہے۔

جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی اور CGi سے سیٹ پیسز زیادہ خوب صورت، واضح اور دل چسپ انداز میں آرہے ہیں۔ا س میں حقیقی اور ماورائی، دونوں طرح کے افی©کٹس استعمال ہو رہے ہیں۔

admin

Read Previous

سکرپٹ لکھئے ۔ سکرپٹ رائٹنگ ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

سکرپٹ نگاری کی تکنیک ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!