قرنطینہ ڈائری – چوتھا دن

قرنطینہ ڈائری

سارہ قیوم

چوتھا دن: جمعہ 27 مارچ 2020

ڈیئر ڈائری!

کل کھوئے جانے (اور پھر پائے جانے) کے تجربے نے ہمیں کچھ نڈر سا کر دیا اور آج واک کے لئے نکلتے ہوئے دل کو یہ تسلی تھی کہ اس سوسائٹی میں ہم مثل خورشید رہتے ہیں، ادھر نکلے ادھر ڈوبے ،ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ یعنی جب تک سوسائٹی کے اندر ہیں کھوئے جانے کا ڈر نہیں۔ جہاں بھی چلے جائیں گے ،آخر کو پہنچیں گے اپنی گلی میں ہم ۔ چنانچہ آج بھی ماسک چڑھایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ باہر نکلتے ہی ایسی خنک ہوا نے استقبال کیا کہ جھرجھری آگئی۔ آج صبح سے بارش ہوتی رہی تھی اور سردی جاتے جاتے ایک بار پھر لوٹ آئی تھی۔ ارادہ کیا کہ واپس آتے ہی کمبل ،جو پیک کر دیا گیا تھا، واپس نکالوں گی کیوں کہ مجھے سردی زیادہ لگتی ہے اور اس ٹھنڈ میں کمبل کے بغیر نیند نہ آئے گی۔ خنک موسم میں نرم گرم کمبل میں دبک کر سونے کے خیال سے دل کو بڑی مسرت ہوئی۔

کل چوں کہ پارک کی طرف گئی تھی اور گم گئی تھی لہٰذا آج دوسری طرف کا راستہ اختیار کیا۔ فریدہ آنٹی کے گھر کے سامنے سے گزری جنہوں نے اپنے گھر کے ساتھ والے خالی پلاٹ میں کچن گارڈن بنا رکھا ہے اور جہاں سے مونگرے اور میتھی جیسی نعمتیں وہ وقتاً فوقتاً ہمیں بھیجتی رہتی ہیں۔ کچھ دیر کھڑے ہو کر میں ان کے باغ کو دیکھتی رہی۔ مونگرے کے پودوں پر سفید پھول آنے لگے تھے۔ سلاد کے پتوں کے گٹھے بارش میں نکھرے یوں لگ رہے تھے جیسے ہرے طوطے اپنے پَرپھیلائے بیٹھے ہوں۔ ان کے ساتھ دھنیے کی کیاری تھی اور اس سے ذرا آگے ایک پودے پر ننھی منی بھنڈیاں لگی تھیں۔ بھنڈیاں ارے واہ! بھنڈیوں کو دیکھنے ہی یوں لگا جیسے کسی نے گرمی کے موسم کی آمد کا نقارہ بجا دیا ہو۔ پلک جھپکتے میں گرما کی نعمتیں میری آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ وہ آموں کے ٹوکرے، وہ فالسے کا شربت، وہ میٹھے تربوز، آڑو، آلو بخارے، چٹپٹی بھنڈیاں، میٹھی لسی، وہ گرم دوپہر میں لمبی تان کے سونا، وہ فجر کا سہانا سماں۔ فبای الا ربکما تکذبانِ ۔ میں نے پیچھے مڑ کے اپنے گھر کو دیکھا جس کی ایک الماری میں میرا وہ نرم گرم کمبل پڑا تھا جسے میں گھر واپس آکر نکالنے والی تھی اور میں نے اپنے سامنے اس باغ کو دیکھا جس میں گرمی کی سبزیاں پھل پھول رہی تھیں۔ مجھے یونانی دیو مالا کا دیوتا جونوس یاد آیا جس کے دوسر تھے۔ ایک ماضی کو دیکھتا تھا، دوسرا مستقبل کو ۔ اسی وجہ سے سال کے پہلے مہینے جنوری کا نام اس کے نام پر رکھا گیا۔ یعنی اسے وہ مہینہ اور وقت قرار دیا گیا جو گزرے سال اور آنے والے سال کو جوڑتا ہے اور دونوں کے درمیان ایک رابطہ ہے۔ فریدہ آنٹی کے باغ کے سامنے کھڑے میں بھی وقت کے اسی پل میں کھڑی تھی جس میں بیک وقت ماضی سے لوٹ آنے والی مسرت کا ایک لمحہ تھا اور مستقبل کی نعمتوں کی نوید تھی۔ تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں وقت کے اس میزان کی جو گزری اور آنے والی نعمتیں اپنے پلڑوں میں سجائے ساکت اور برابر قائم ہے اور میں شکرگزار ہوں اس موقع کی کہ میں ہاتھ بڑھا کر دونوں پلڑوں کی نعمتیں اٹھا سکتی ہوں۔

کِن مِن بوندیں پڑنے لگی تھیں۔ میں نے جلدی سے قدم بڑھائے اور تیز قدموں سے چل پڑی۔ بوندیں اتنی ہلکی تھیں کہ چند قدم چلنے کے بعد کہیں ایک پھوار سی چہرے پر محسوس ہوتی تھی۔ اگر میں تیز چلوں تو دو کلومیٹر تو کر ہی سکتی ہوں۔ سڑکیں سنسان تھیں۔ نہ آدم نہ آدم ذاد۔ میں گرین بیلٹ کے ساتھ چلتی گئی۔ سوسائٹی کی عقبی دیوار تک پہنچتے پہنچتے گرین بیلٹ اتنی چوڑی ہو جاتی ہے کہ باقاعدہ ایک میدان بن جاتا ہے۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ابراہیم یہاں فٹ بال کھیلنے آیا کرتا تھا۔ تب یہاں بے حد رونق ہوتی تھی۔ لوگ چہل قدمی کر رہے ہوتے تھے، مائیں چھوٹے بچوں کو پرام میں لے کر گھوم رہی ہوتی تھیں۔ ایک جگہ کرسیوں پر چند معمر حضرات کی محفل جمی ہوتی تھی جو وقفے وقفے سے فٹ بال کھیلنے والے پرجوش، پسینے میں بھیگے بچوں کو بلا کر پانی پلایا کرتے تھے۔ آج یہاں سناٹا تھا۔ اگر تھی تو بس فطرت کی آواز۔ وہ آواز جسے سننے کے لیے دل کو کان ہونا پڑتا ہے۔

       فطرت کا ساز بھی کیا ساز ہے

       بج رہا ہے اوربے آواز ہے

راستے میں ایک گھر کے باہر اتنے بڑے گلاب لگے نظر آئے کہ میں ٹھٹک کر رک گئی۔ خون کے رنگ کے سرخ گلاب سائز میں چھوٹی پلیٹ کے برابر تھے۔ کمال ہے فطرت کی صناعی بھی۔ چلتے چلتے ایک گلی میں پھولوں سے لدی بیل نظر آئی اور میں غڑاپ سے اس گلی میں گھس گئی۔ ارے آج ہم نڈر ہیں، کل کی طرح تھوڑی کہ ”پھرتے ہیں میرخوار کوئی پوچھتا نہیں۔“ بس ناک کی سیدھ میں چلتے جائیں گے اور کسی نہ کسی ایسے جانے پہچانے رستے پر جا نکلیں گے جو ہمارے گھر کو جاتا ہو گا۔

گھر آئی تو اندر کمرے میں سے ابراہیم کی آواز آرہی تھی۔ وہ سمبا سے باتیں کر رہا تھا۔ میں باہر لاﺅنج میں کھڑے ہو کر سننے لگی۔

”عقل کیا کرو سمبا۔“ ابراہیم نے تلقین کی۔

”میاﺅں۔“ سمبا نے جواب دیا۔

”نہ نہ باہر نہیں جانا۔“ ابراہیم نے سمجھایا۔ ”باہر کرونا پھر رہا ہے۔ چھوٹے بچوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اگر تمہیں کرونا ہو گیا تو تمہیں پولیس والے پکڑ کر لے جائیں گے اور کوارنٹین میں بند کر دیں گے۔ پھرہم کیا کریں گے؟“

”میاﺅں میاﺅں۔“ سمبا نے کہا۔

”میاﺅں میاﺅں کیا؟“ ابراہیم نے پوچھا۔ ”دیکھو سمبا اگر وہ تمہیں لے گئے تو ہم تو کوئی نئی بلی ڈھونڈ لیں گے اور اسے پال لیں گے۔ لیکن تم کیا کرو گے؟ تمہیں اور کون اتنا پیار کرے گا؟“

اے میرے رب! ہم بھی تیرے سامنے سمبا کی طرح ہیں۔ عاجز، بے پرواہ اور نالائق۔ اپنے اچھے برے سے اور اپنے انجام سے بے خبر۔ ہمیں اپنی پناہ میں رکھ، ہمیں ہمارے نفس کے اور شیطان کے حوالے نہ کر۔ تجھے تو پالنے کے لئے اور شفقت کرنے کے لئے بہت سی مخلوق مل جائے گی مگر ہمارا تو تیرے علاوہ اور کوئی رب نہیں۔ تو ہم سے بے نیاز ہو گیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ اے روزی دینے والے، گناہگاروں کی پردہ پوشی کرنے والے، عذاب سے ڈرنے والوں کو امن دینے والے اور اے بیماروں کو شفا دینے والے، اس بیمار انسانیت سے اس وبا کو ٹال دے۔ اے ستر ماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے، ہمیں اپنی آغوش محبت میںلے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

٭….٭….٭

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

Read Next

احساس ۔ افسانچہ

One Comment

  • بہترین

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!