قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

قرنطینہ ڈائری

دوسرا دن: 25 مارچ 2020

ڈیئر ڈائری،

زباں پہ بارِ خدا یہ کس کا نام آیا یاد ہے کل مونگروں کے ساتھ میں نے کسی سبزی کا نام لیا تھا اور جنت کی سبزی کہہ کر یاد کیا تھا؟ میتھی کا ۔ تو آج، اللہ خوش رکھے ساتھ والی آنٹی کو، ہری بھری تازہ میتھی ایک ہرے بھر ے برکت والے باغ سے ہمارے گھر وارد ہوئی۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، زندگی کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، معصوم خواہشیں، بے ضرر دعاﺅں کی قبولیت ہی ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔ یہ نہ ہو تو بڑی بڑی خوشیوں کے انتظارمیں انسان جینا بھول جائے۔ 

کل ماسی کی چھٹی کر دی گئی تھی۔ آج سے گھر کا کام ہے اور ہم ہیں دوستو۔ ڈیڑھ سال پہلے جب مجھ پر شیاٹکا نے حملہ کیا تو میں اپنی ٹوٹی کمر لیے پورے تین مہینے بستر سے بندھ کر رہ گئی۔ نہ کروٹ بدل سکتی تھی، نہ اٹھ کر بیٹھ سکتی تھی۔ تین لوگ اٹھا کر واش روم لے جاتے تھے۔ کھانا بھی لیٹے لیٹے، نماز بھی لیٹے لیٹے اور علاج بھی لیٹے لیٹے۔ آسمان کو دیکھنا خواب ہو گیا، ہوا کے جھونکے چہرے پر کیسے لگتے تھے بھول گئی، بیٹھ کر پانی پینے کو ترس گئی۔ تب میں سوچا کرتی تھی صبح آنکھ کھلنے پر اٹھ بیٹھنا، اپنے پیروں پر چل کر دن کا آغاز کرنا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور جب یہ نعمت مجھے میسر تھی، میں نے کبھی اس پر غور ہی نہ کیا۔ کیوں نہ کیا؟ بس اسے ایک معمول کی بات سمجھتی رہی۔ پھر اللہ نے مجھ پر کرم کیا اور مجھے شفا بخشی۔ تب سے ہر نیا دن ایک نعمتِ عظیم ہے۔ صبح اٹھنا، اپنے پیروں پر کھڑے ہونا اور ایک دن کا صحت کے ساتھ آغاز کرنا ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کی طرح اس عبادت کے لیے بھی ایک وضو ضروری ہے۔ ہر دن کے آغاز پر میری روح شکرگزاری کا وضو کرتی ہے۔ ہر صبح کے طلوع ہونے پر میں کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچتی ہوں جو عام ہونے کے باوجود خاص الخاص ہے، نعمت عظیم ہے، خدا کا حسین تحفہ ہے۔ تو آج ڈیئر ڈائری میں آسائش کے بعد آنے والی مشکل کے لیے شکرگزار ہوں۔ ملازم کا ہونا آسائش تھی، نہ ہونا مشکل۔ اس مشکل میں کام کا بوجھ ہے اور تھکن بھی۔ لیکن اس کے ساتھ اس میں مصروفیت ہے اور اپنے بچوں کے کام کرنے کی طمانیت اور سکون کی نیند۔ یہ وہ مشکل ہے جو مجھے میری اوقات میں رکھتی ہے۔ کل بیٹھ کر حکم چلاتی تھی، آج کام میں جتی ہوں۔ نہ کل میری بڑائی تھی، نہ آج میری تحقیر۔ کل گزر گیا، آج بھی گزر جائے گا اور اس مشکل کے بعد جو آسائش آئے گی اس کی قدرومنزلت میرے دل میں کئی گنا بڑھ کر ہو گی۔ اور اس آسائش کے لیے اور اس ادراک کے لیے اے زندگی، میں ابھی سے شکرگزار ہوں۔

لاک ڈاﺅن میں زندگی کو جامد ہونے سے بچانے کے لیے میں نے ارادہ کیا ہے کہ ہر روز ایک نئی چیز سیکھوں گی۔ اس ہفتے دو کتابیں ہاتھ لگی تھیں۔ پہلی کتاب اردو کی تھی اور کسی خاتون کی لکھی ہوئی تھی جس میں انہوں نے ایک ایسے گلوکار کی کہانی بیان کی تھی جو دین کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ مذہب کی طرف مائل ہونے سے پہلے وہ اچھا بیٹا، بہترین شوہر اور شفیق باپ ہوتا ہے اور جونہی اس کی دینی غیرت جاگتی ہے وہ ایک عجیب و غریب قسم کی چیز بن جاتا ہے۔ بیوی سے لڑنے لگتا ہے، لوگوں پر حد جاری ہونے کے فتوے دینے لگتا ہے، دادا سے بدتمیزی کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ ننھی بیٹی کے سامنے ذراسے اختلاف پربیوی کو مار مارکر حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔ 

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

پتھر کے صنم

Read Next

بلّی اور پرندہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!