الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۵

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۵

(سارہ قیوم)

رات: ۲۶

جانا حسن سوداگر بچے کا چِین:

چھبیسویں رات کو شہریارِ جم اقتدار، فخرِ سلاطینِ دیار نے محل میں قدم رنجہ فرمایا اور بادشاہ کو باقی قصے کے سننے کا شوق چرایا توشہر زاد بادشاہ کے حضور میں بہ صد نیاز عرض پر داز ہوئی کہ اے سلطانِ عالم، حسن بدرالدین نے معشوقہ کی بے وفائی سے بہت دکھ اٹھایا تھا، بڑا صدمہ پایا تھا۔ لیکن آخر فلک کج رفتار نے کرم کیا اور زندگی نے ایسے ایسے رنگ دکھائے کہ حسن کو معلوم ہوگیا کہ دنیائے دوں کا یہی کارخانہ ہے، کہیں غم کی داستان، کہیں خوشی کا ترانہ ہے۔ کل کچھ اور آج کچھ اور ہے، سرائے فانی کا یہی طور ہے۔ یہ دنیا دارِ فانی ہے، موت ایک نہ ایک روز ضرور آنی ہے۔ پس رونا دھونا بے کار ہے۔ فضول یہ سب انتشار ہے۔ یوں حسن سوداگر بچے نے غمِ عشق سے چھٹکارا پایا، جنابِ باری کا شکر بجا لایا۔
باری تعالیٰ کی ذات ہے کہ شرمیں سے خیر پیدا کرتا ہے جیسے نسیمہ آپا نے بنّے بھائی سے طلاق پائی تو بہت بلبلائی لیکن اس شرمیں سے یہ خیر نکلا کہ نسیمہ آپا اور ماموں کے نکاح کی نوبت آئی، دونوں نے راحت پائی۔
ادھر ممانی کو سوتیاہ ڈاہ نے اس قدر ستایا اور آتشِ غضب نے وہ رنگِ اثر جمایا کہ مزاج جو پہلے ہی شعلہ جوالا تھا، بالکل ہی آتش فشاں ہوگیا۔ ماموں کے جرم کی سزا زلیخا نے پائی، بے چاری کی بہت ہی شامت آئی۔ قہرِ ممانی بر جانِ زلیخا۔ ممانی کا سارا غصہ زلیخا پر نکلنے لگا اور اس بے چاری نے بھاگ کر کتابوں میں پناہ لی۔ شام گئے تک کالج کے کتب خانے میں بیٹھی پڑھتی رہتی اور گھر آتے ہی کتابوں میں منہ دے کر بیٹھ جاتی۔ اسے ممانی کے عتاب سے بچانے کی خاطر حسن ممانی کے ساتھ باورچی خانے میں کام کرتا، برتن دھوتا، پیاز چھیلتا، جھاڑو دیتا اور ممانی کی گھرُ کی جھڑکی کان دبا کر سہتا۔
اِس شرمیں سے یہ خیر برآمد ہوئی کہ اتنی پڑھائی رنگ لائی اور زلیخا پہلے سال کے سالانہ امتحان میں اوّل آگئی۔ زلیخا خوشی سے پھولے نہ سمائی، بے حد خوشی منائی، ممانی کے چہرے پر بھی عرصے بعد مسکراہٹ آئی۔
زلیخا نے پوچھا:”ماما،میں اس خوشی کو اپنے پیاروں کے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتی ہوں۔ آج شام کو دادی اماں کو چائے پر بلا لوں؟“
ممانی نے منہ پھیر کر کہا:”بلالو۔“
حسن نے کہا:”میں جا کر لے آتا ہوں نانی کو۔“
ممانی نے ڈانٹ کر کہا:”توُ جا کر مٹھائی لے کے آ۔ آتی رہیں گی وہ خود ہی۔“
یہ تو حسن کو بعد میں خیال آیا کہ نانی نے بھلا خود کیسے آنا تھا؟ انہیں تو ماموں نے لانا تھا۔ شام کو ممانی نے نہا دھوکر نیا جوڑا پہنا، سرمہ لگایا اور عطر لگا کر نانی کے انتظار میں بیٹھ گئی۔ نانی آئیں، ساتھ ماموں بھی آئے، ممانی کے لیے ایک گرم شال لائے۔ حسن کا خیال تھا ممانی بہت برا منائے گی۔ تحفہ ماموں کے منہ پر دے مارے گی، لیکن ممانی نے صرف برا منہ بنانے پر اکتفا کیا اور تحفہ لے کر ہونہہ کہہ کر ایک طرف ڈال دیا اور جب نانی نے کہا:”جا زاہد، ذرا پروین کو گھما لا، سارا دن گھر میں بند رہتی ہے۔“ تو حسن نے گھبرا کر ممانی کی طرف دیکھا کہ اب شامت آئی کہ آئی، لیکن ممانی نے بے حد نخرے سے برا سا منہ بنایا، ناک چڑھایا اور اٹھ کھڑی ہوئی اور ماموں کے اٹھنے سے پہلے ہی باہر کو چلی اور ان کے سکوٹر کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی۔
حسن نے جو دلبری کا یہ انداز دیکھا تو لجہئ حیرت میں غرق ہوا کہ یا العجب یہ کیا بو العجبی ہے؟ یہ کیا ہورہا ہے؟ نانی کو دیکھا تو چپکے چپکے مسکراتی تھی، بہت حظ اٹھاتی تھی۔
حسن کو ہکا بکا دیکھا تو نانی نے چپکے سے کہا:”اب دیکھناکیا ہوتا ہے، زاہد تو نسیمہ کے ساتھ رہ کے بالکل بدل گیا ہے۔ بڑا شرارتی ہوگیا ہے۔“
حسن نے گھبرا کر کہا:”یا اللہ خیر، ابھی ایک شرارت سے تو ممانی سنبھلی نہیں، کوئی اور شرارت ماموں کر بیٹھے تو ہم سب کی جان جائے گی، ممانی سب کو کچا چبائے گی۔“
نانی ہنسی اور کہا:”فکر نہ کر، اب جو شرارتیں زاہد کرتا ہے، وہ بڑی پسند آئیں گی پروین کو۔“
گھنٹے بعد جب ماموں ممانی واپس آئے توممانی اندر آئیں اور بڑے اخلاق سے نانی کو سلام کیا۔ ممانی کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور سارا سرمہ بہہ گیا تھا، لیکن کلائیوں میں گجرے تھے اور چال میں عجب لوچ اور ادا۔ ترچھی نظر سے ماموں کو دیکھا اور اپنے کمرے کو سدھاری۔
 ماموں کچھ شرمائے، کچھ مسکرائے اور نانی کے پاس بیٹھ گئے۔ گدی پر ہاتھ پھیر کر نانی سے بولے:”میں سوچ رہا ہوں ہفتے میں ایک دن یہاں رہ جایا کروں۔ آخر منّے کو میری ضرورت ہے۔“
نانی مسکرائیں اور یوں سر ہلایا جیسے کہتی ہوں، میں خوب جانتی ہوں کس کو تیری ضرورت ہے۔
زلیخا نے حسن کو دیکھا اور مسکراہٹ دبا کر شرارت سے بولی:”حسن! منہ بند کرلو مکھی چلی جائے گی۔“
نانی اور زلیخا ہنسنے لگیں۔ ماموں مزید شرما گئے اور حسن یونہی ہکا بکا اس بوالعجبی پر غور کرتا رہ گیا۔

٭……٭……٭

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۴

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۶ ۔ آخری قسط

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے