الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۴

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۴

(سارہ قیوم)

رات ۲۵

جب سلطانِ دِن نے آرام فرمایا اور خاتونِ شب نے منظرِ فلک سے جلوہ دکھایا تو بادشاہ آرام گاہ میں آیا اور شہرزاد کو بلا کر ارشاد فرمایا کہ بقیہ داستان کہہ سناؤ۔ ہمارا دل بہلاؤ۔ شہرزاد نے فرمان کی تعمیل کی، داستان گوئی میں تعجیل کی اور کہا کہ اے شاہِ فلک بارگاہ، حسن بدرالدین کے ساتھ جو قصۂ افسوسناک پیش آیا تھا، اس نے اسے صیدِ رنج و محن سنایا تھا۔ یوں تو اس نے عاصم اور کنیزِ بے تمیز کو معاف کردیا تھا لیکن کرن کی ہر بات اب تک یاد تھی، طبیعت ناشاد تھی۔ عشقِ نارسا کے ساتھ ساتھ ذلت کا بھی بے حد صدمہ تھا۔ اس صدمۂ جاں گزا سے اس کا حال زار ہوگیا، مارے قلق کے بیمار ہوگیا۔ دن کو کھاتا نہ رات کو سوتا تھا، سوچ سوچ کے جان کھوتا تھا۔ دن بھر چپ چاپ اپنے کمرے میں پڑا رہتا اور دل جلاتا رہتا، جب زلیخا یا نانی میں سے کوئی پوچھنے آتا تو سوتا بن جاتا۔
آخر ایک دن زلیخا اس کے کمرے میں آئی اور حسبِ معمول حسن کو سوتا پایا تو واپس جانے کے بجائے وہیں بیٹھ گئی اور تحکم سے بولی:‘‘حسن بدرالدین میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم جاگ رہے ہو۔ اس لیے اب میرے سامنے یہ ڈرامہ مت کرو اور اٹھ کر کھانا کھاؤ۔’’
حسن نے پھر بھی آنکھیں نہ کھولیں تو زلیخا نے اطمینان سے کہا: ‘‘ٹھیک ہے، مت کھولو آنکھیں۔ میں بھی تب تک یہاں بیٹھی رہوں گی جب تک تم اٹھ نہیں جاتے، چاہے تم دو دن تک نہ اٹھو نہ کالج جاؤں گی، نہ کچھ پڑھوں گی، فیل ہوگئی تو گناہ تمہارے سر۔’’
یہ دھمکی کام کرگئی اور حسن نے آنکھیں کھول دیں۔ دیکھا تو زلیخا کو بستر کے پاس کرسی پر بیٹھا پایا۔ سامنے ایک میز دھری تھی جس پر ایک قاب پڑی تھی۔ اس قاب میں انواع و اقسام کے اطمۂ لذیذ و حلوائے نفیس سجے تھے۔ حسن نے ایک نظر ان پر ڈالی اور بے بسی سے زلیخا کو دیکھا۔ زلیخا نے جب اس جوانِ رعنا کی آنکھوں میں دیکھا تو انہیں اس قدر ملول و افسردہ، غمگین و پژمردہ پایا کہ جگر خراش ہوا، دل پاش ہوا۔
بصد ہمدردی و شفقت زلیخا نے کہا:‘‘میں جانتی ہوں تم بہت اپ سیٹ ہو۔ بہت دکھ ہوا ہے تمہیں کرن کی بے وفائی کا لیکن اتنے خاموش کیوں ہو؟ ہمیشہ تو مجھ سے ہر بات کہہ دیا کرتے تھے۔ اب بھی کہہ دو جو دل میں ہے، دل ہلکا ہو جائے گا۔’’
حسن کی آنکھیں ڈبڈا آئیں۔ وہ زلیخا سے دل کا حال کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہ پاتا تھا۔ صرف محبوبہ کی بے وفائی کا دکھ ہوتا تو سہہ لیتا، حالِ دلِ زار کہہ لیتا، لیکن یہاں تو انا پر چوٹ پڑی تھی، عزت کا جنازہ نکلا تھا، شرافت پر انگلی اٹھی تھی۔ کرن کی باتیں رہ رہ کر کانوں میں گونجتی تھیں اور پھر اس کا یہ کہنا: ‘‘اس کے لیے آپ ہیں نا۔’’ یاد آتا تھا، حسن کو مار جاتا تھا۔ اپنی محبت، عزت اور شرافت کی یہ بے عزتی حسن سے سہی نہ جاتی تھی۔ ذلت کی یہ داستان منہ سے کہی نہ جاتی تھی۔ بس چپ چاپ انواع و اقسام کے صدمے سہتا تھا، سرد دھنتا تھا تنکے چنتا تھا۔ خود پر شرم آتی تھی کہ عشق میں اس قدر اندھا ہوگیا کہ آنکھوں دیکھی جھٹلاتا رہا۔ نانی، زلیخا اور کنیز نے کئی مرتبہ بتایا اور باور کرایا کہ یہ بی صاحب خاص بے باک ہیں، بڑی چربانک ہیں، لیکن میں ایسا کاٹھ کا الو بنا رہا کہ ہر دم والہ و شیفتہ رہا۔ یہی سمجھتا رہا کہ بڑی عفیفہ و پاکباز ہے، ہائے یہ نہ جان سکا کہ ساحرۂ فسوں ساز ہے۔ اس زنِ بد نے شیشۂ عفت کو سنگِ بے آبروئی سے توڑا، سپوتِ قومِ لوط تک نہ چھوڑا؟ اور جب مجھ سے سامنا ہوا تو تب بھی بے حیا کو ذرا شرم نہ آئی، مطلق نہ شرمائی، کس دیدہ دلیری سے کہا:‘‘اس کے لیے آپ ہیں نا۔’’ اور اب یہ عالم ہے کہ بندۂ درگاہ کفِ افسوس ملتا ہے، تمام جسم شعلۂ غم سے جلتا ہے۔ ادھر حسن اپنے پچھتاووں میں گم تھا، ادھر زلیخا اس کا منہ تکتی تھی۔
آخر محبت سے بولی: ‘‘اچھا چلو کچھ نہیں کہنا چاہتے نہ سہی۔ چلو اٹھو، منہ ہاتھ دھوؤ اور کھانا کھاؤ۔ کل سے تم نے کچھ نہیں کھایا۔ بھلا کھانے سے کیا ناراضگی؟’’
حسن نے ایک آہِ سرد، بددل پردر بھری اور کہا:‘‘کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا، زلیخا۔’’
زلیخا نے اطمینان سے کہا:‘‘ٹھیک ہے نہ کھاؤ، تمہیں اس حال میں دیکھ کے مجھے بڑی ٹینشن ہورہی ہے اور تمہیں تو پتا ہی ہے جب مجھے ٹینشن ہوتی ہے تو مجھے کتنی بھوک لگتی ہے۔ اب اس ٹینشن میں میں یہ سارا کھانا کھا جاؤں گی اور پھر باہر جا کر اتنا ہی اور کھاؤں گی اور جب موٹی ہو جاؤں گی تو ماما مجھے جو باتیں سنائیں گی ان کا گناہ تمہارے سر۔’’
یہ سن کر حسن گھبرا کر اٹھا، جلدی سے جا کر منہ ہاتھ دھویا اور آکر زلیخا کے ساتھ شریکِ طعام ہوا۔ کھانا کھاتے ہوئے زلیخا اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی اور چھوٹے موٹے سوال پوچھتی رہی کہ کسی طرح خاموشی کا قفل ٹوٹے اور حسن کچھ بات چیت شروع کرے، لیکن حسن نے ہوں ہاں کے سوا کسی بات کا کچھ جواب نہ دیا اور تھوڑا سا کھا پی کر پھر سے بستر پر پڑ رہا۔
زلیخا نے جو حسن کو ازسرنو ملول و محزون دیکھا تو کہا:‘‘دیکھو حسن، میں جانتی ہوں تمہیں کرن کی اس حرکت کا بڑا افسوس ہے، لیکن میں تمہیں ایک سچی بات بتاؤں؟ جو ہوا وہ اچھا ہی ہوا۔ وہ تمہارے قابل نہیں تھی۔ تمہاری شادی اس سے ہو بھی جاتی تو تم کبھی خوش نہ رہتے۔ ساری زندگی کی ناخوشی سہنے سے بہتر ہے کہ تم نے یہ وقتی دکھ اٹھا لیا۔’’

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۳

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۵

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!