الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۳

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۳

(سارہ قیوم)

چوبیسویں رات:

چوبیسویں روز جب رات کی سواری مثلِ باد بہاری آئی توبادشاہ شہریار نے محل میں قدم رنجہ فرمایا اور شہرزاد کو بلایا۔ کہا ، اے خاتونِ شیریں بیاں وفصاحت زباں، ہمیں کل سے بہت بے قراری ہے، عقل عاری ہے، انگشتِ حیرت بہ دنداں،سخت پریشاں ہیں کہ حسن کی معشوقہ ء حسینہ لاجواب کیونکر عاصم کے عقدِ نکاح میں آئی، یہ وارداتِ حیرت انگیز کیسے پیش آئی؟ اور جب حسن سوداگر بچے کے دوستوں نے یہ راز اس پر فاش کیا، اس کے دل کو پاش پاش کیا تو اس غریب پر کیاگزری؟ یہ سب باتیں وضاحت سے بیان فرماؤ، رازِ نہانی ذرانہ چھپاؤ۔
بادشاہ کی فہمائش و فرمائش سے وہ خاتونِ بلقیس مرتبت والانژاد ملکہ شہرزادیوں عرض پیراہوئی، مثلِ بلبل نغمہ سرا ہوئی کہ جہاں پناہ میں ضرور حسن سوداگر بچے کی بدنصیبی کا حال سناؤں گی لیکن اس سے پہلے اس کی محبوبہ کا حال معرضِ بیان میں لاؤں گی۔
تو گوش ِ ہوش سے سنیئے کہ وہ پری پیکر، گل روُ ، قوس ابروُ حسن و جمال میں لاجواب تھی لیکن ویسے بہت چست و چالاک تھی۔ ایک طرف حسن بدر الدین کے حسن و جمال پر فداتھی، دوسری طرف مال و دولت کی خواہش سوا تھی۔ حسن کے ساتھ پینگیں اس نے خوب دو جمع دو چار کرکے بڑھائی تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ ایک دن یہ بہت مقبول و مشہور ہوگا، مالدار ضرورہوگا۔ دولت تو حسن نے نہ پائی، ہاں شامت البتہ ضرور آئی۔ ڈرامہ فلاپ ہوگیا، دکان چلنے سے پہلے نقصان میں جاتی رہی۔ ممانی نے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا اور بندہ درگاہ دربدر ہوگئے، عاصم کے گھر پناہ لینی پڑی۔
عاصم سے کرن کی پہلی ملاقات گلی میں ہوئی تھی جب وہ اپنی عظیم الشان گاڑی سے اترا تھا اور چار قوی ہیکل گارڈ اس کی حفاظت میں تن کر کھڑے تھے۔ تب کر ن کو یہ گمان ہوا تھا کہ ‘‘یہ بھی اداکار ہے، بڑا فسوں کار ہے۔ حسن کے ساتھ ڈرامے میں کام کرے گا، شہرت میں نام کرے گا’’۔
یہی سوچ کر اس نے کاغذ قلم نکالا تھا اور بصد اصرار عاصم سے دستخط لئے تھے۔ بعد میں اسے نانی کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ اداکار نہیں بس حسن کا دوست ہے تو اسے ازبس غصہ آیا کہ خوامخواہ میں آٹوگراف لیا، کتنی ہیٹی ہوئی۔
اس وقت تو اس نے غور نہ کیا لیکن نانی نے چلتے چلتے اسے یہ بھی بتایا کہ یہ لڑکا بہت بڑے زمیندار گھرانے کا اکلوتا چشم و چراغ ہے،ماں باپ کا دل اس سے باغ باغ ہے۔ باپ شاہی دربار میں امیر ہے، بادشاہ کا وزیر ہے۔ دولت مانندِ انبار گھر میں پڑی ہے، جاہ وحشمت ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔
عاصم سے تیسری ملاقات لبرٹی مارکیٹ میں سنار کی دکان میں ہوئی جہاں وہ اور حسن ہیرے بیچنے گئے تھے اور کرن نے گزرتے گزرتے انہیں دیکھ لیاتھا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ حسن نے تو اسے محض ایک گلے کی زنجیر خرید کر دی جبکہ عاصم نے کھڑے کھڑے تیرہ لاکھ کا ہیرا اپنی ماں کے لئے خرید لیا۔ وہاں سے گھر واپسی پر عاصم کی عظیم الشان، خوبصورت گاڑی میں بیٹھے ہوئے اسے باہر کی دنیا حقیر نظر آتی تھی، گاڑی کی خنکی جنت کی یاد دلاتی تھی۔ وہ سوچتی تھی اگر گاڑی ایسی ہے تو گھر کیسا ہوگا؟ سہولیات کا کیا عالم ہوگا؟ ان سوالات کا جواب اسے کیونکر ملا؟ عاصم سے تعلق کیسے بڑھا؟ یہ حال میں آگے بیان کروں گی اور اب جہاں پناہ اس زنکہ ٔ زاہد فریب کو تو یہیں چھوڑیئے اور ذرا حسن بدر الدین کی خبر لیجیے۔
حسن کو جب بندو نے کرن اور عاصم کے نکاح کی خبر سنائی تو پہلے تو حسن کو باور نہ آئی۔ مگر جب بندو نے یقین دلایا تو حسن پر بجلی گرپڑی، آنکھوں تلے اندھیرا چھایا۔ بیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش، دین و دنیا فراموش۔ یہ حال دیکھ کر یاروں نے کسی طرح اٹھایا، تتو تھمبو بائیک پر بٹھایا اور گھر کو لائے۔ گو اس وقت حسن ہوش میں تھا لیکن بعد میں سوچتا تو کچھ یاد نہ آتاتھا کہ راستے میں کیا ہوا تھا اور گھر پہنچنے پر کیا بات پیش آئی تھی۔ بس اتنا یاد تھا کہ وہ اپنے کمرے میں بستر پر پڑا تھا اور رات کا وقت تھا اور زلیخا پاس بیٹھی تشویش سے اسے دیکھتی تھی۔
صبح حسن کی آنکھ کھلی تو کچھ دیر تو کچھ سمجھ ہی میں نہ آیا کہ کہاں ہے اور کیونکر ہے اور دل پر یہ ناقابلِ برداشت سا بوجھ کیوں ہے۔ پھر رات کی بات یاد آئی، گویا اجل نے صورت دکھائی۔ اپنی محبوبہ گلعذار کا خیال آیا، تیر ِفرقت کا زخم کاری کھایا۔ جوش ِجنوں میں جھپٹ کر اٹھا اور تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
دیکھا تو نانی برآمدے میں تخت پر بیٹھی نظر آئی۔ نانی نے حسن کو دیکھا تو ایک آہِ سرد بھری اور سرجھکالیا۔ حسن بھاگ کر نانی کے پاس پہنچا اور بے قراری سے بولا: ‘‘نانی جان، میں نے بڑی بُری خبر سنی ہے۔ کیا یہ سچ ہے کہ…… کہ……’’ اس سے آگے حسن سے کچھ کہا نہ گیا، تذکرۂ رقیب سہا نہ گیا۔

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۲

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۴

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!