الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۹

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۹

(سارہ قیوم)

بیسویں رات:

رات آئی تو شہرزاد بہ حضورِ شاہ یوں عرض پرداز ہوئی کہ جب بنے بھائی دکان کو آئے اور وہاں رنگ و روغن ہوتے پایا تو دل بداندیش اس بغاوتِ تازہ کی تاب نہ لایا۔ ازبس غضب ناک ہوئے، تیور خطرناک ہوئے۔
بددماغ ہو کر حسن سے کہا: ‘‘کیوں بے، یہ کیا ہو رہا ہے؟’’
حسن بدرالدین خوفزدہ، سہما ہوا، ابھی کوئی جواب نہ دینے پایا تھا کہ پیچھے سے دھم کی آواز آئی۔ مڑ کر جو دیکھا تو ماموں کرسی میں ڈھے گئے تھے۔ بنے بھائی کو دیکھ کر مارے خوف کے رنگ زرد ہوا تھا، دل سرد ہوا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماموں نے نڈھال ہو کر سر ایک طرف کو پھینک دیا اور آنکھیں موند لیں۔
جب حسن نے دیکھا کہ ماموں کی حالت عبرت خیز و حیرت انگیز ہے اور ان سے کسی مدد کی توقع نہیں تو بے حد گھبرایا، فرار کا کوئی راستہ نہ پایا۔ دل میں سوچا، اے حسن بدرالدین، یہ تجھے کیا سوجھی کہ ہاتھیوں سے گنے کھاتا ہے؟ مفت میں جان گنواتا ہے۔
بنے بھائی نے ڈپٹ کر کہا: ‘‘بولتا کیوں نہیں؟ کیا پوچھ رہا ہوں میں۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟’’
حسن نے تھوک نگلا اور مری مری آواز میں کہا: ‘‘رنگ و روغن ہو رہا ہے بنے بھائی۔’’
بنے بھائی طیش میں آکر چلائے: ‘‘کس سے پوچھ کر؟’’
حسن کا دل چاہا ماموں کی طرف اشارہ کر دے مگر وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر پڑے تھے اور آہِ سردِو پر درد بھرتے تھے۔ چنانچہ لاحول پڑھ کر دل کو ڈھارس بندھائی، نامِ خدا سے تقویت پائی اور یوں گویا ہوا۔ ‘‘اجازت کی کیا ضرورت ہے؟ تو کل کی صورت ہے۔’’
یہ سنا تو بنے بھائی مارے غصے کے کانپنے لگے۔ آنکھیں فرطِ غیظ سے شعلہ فشاں اور شرربار، بشرے سے غضب آشکار۔
جھپٹ کر حسن کا گلا دبوچ لیا اور چلا کر کہا: ‘‘اچھا! تو اب تجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں؟ اتنے پر نکل آئے ہیں تیرے؟’’
حسن نے بصد مشکل اپنا گلا چھڑایا، ڈر کر زور سے چلایا: ‘‘لوگو، مسلمانو! دوڑو بچاؤ !بنے بھائی مارے ڈالتے ہیں۔’’
ادھر اُدھر سے لوگ بھاگے آئے اور حسن کو بنے بھائی کے پنجہ استبداد سے بچایا، نشیب و فرازِ زمانہ دکھایا۔ کہا: ‘‘یہ کیا کر رہے ہو بھائی، زاہد صاحب کی دکان ہے، انہوں نے رنگ کروا لیا تو کیا برا کیا؟ اس بچے کو کیوں مارتے ہو؟’’
بنے بھائی نے حاضرین کی جانب بڑے قہر سے نظر ڈالی اور کہا: ‘‘یہ بچہ نہیں ہے، گدھے کا بچہ ہے، دکان خسارے میں جا رہی ہے اور یہ دکان میں پینٹ کرا رہا ہے؟ ابا تو بھولے ہیں۔ انہیں کیا پتا۔ دکان کا سارا خرچ، حساب کتاب میں کرتا ہوں۔ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے اس نے یہ حرکت کی؟ اور میں تو ایک آنہ نہیں دوں گا اس کام کے لیے۔ اس کی ایسی کی تیسی۔”

حسن نے جو اپنے لیے گدھے کا بچہ کی اصطلاح سنی تو خون میں ابال آیا، بڑا جلال آیا۔ رہ نہ پایا، باپ کی گالی سہہ نہ پایا۔ سینہ تان کر کہا: “اب اس دکان سے آپ کا کچھ لینا دینا نہیں۔ آج سے ماموں کی دکان میں سنبھالوں گا، بطریقِ تدبیر خسارے کو ٹالوں گا۔ آئندہ سے آپ دکان پر آنے کی تکلیف نہ کیجیے گا، مطلق زحمت نہ کیجیے گا۔”

بنے بھائی نے یہ سنا تو پہلے تو یقین نہ آیا۔ پھر وہاں موجود دکانداروں میں سے ایک نے کہا: “ہاں ٹھیک ہے۔ ہم نے سنا ہے تم دکان میں بہت ہیرا پھیری کر رہے تھے؟”

دوسرے نے کہا: “زاہد صاحب کو چاہیے تھا تمیں بہت پہلے بے دخل کر دیتے۔ اب بھی اچھا کیا کہ وقت پر فیصلہ کر لیا۔ کتابوں کی دکان ختم کی اور کپڑے کی شروع کی۔ اللہ نے چاہا تو بہت چلے گی۔”

بنے بھائی کے چہرے پر ایک رنگ آتا تھا ایک جاتا تھا۔ یقین نہ آتا تھا کہ جو سن رہے ہیں وہ سچ ہے۔ بھلا انہیں کب توقع تھی کہ ماموں جیسا ڈرپوک آدمی ان کے سامنے یہ جرات کر سکتا ہے۔ یہ کب سوچا تھا کہ جس یتیم و یسیر حسن کا چہرہ وہ ساری زندگی طمانچوں سے لال کرتے آئے ہیں، آج یوں سر اٹھا کر سامنے آ کھڑا ہو گا۔ بنے بھائی نے دانت پیس کر حسن کی جانب قدم بڑھایا کہ اس بدتمیزی کا مزہ چکھائیں اور ایسی سزا دیں کہ تا زندگی یاد رکھے، مگر آس پاس کھڑے لوگوں نے راستہ روک دیا۔ کسی نے بازو سے پکڑا، کسی نے گریبان سے۔ بنے بھائی سمجھ گئے کہ یہاں ان دال نہ گلے گی، کچھ پیش نہ چلے گی۔ ایک قہر بھری نظر حسن پر ڈالی اور دانت پیس کر کہا: “تو گھر آ۔ پھر بتاتا ہوں۔” یہ کہہ کر غصے سے بے دم پڑے ماموں کی طرف دیکھا اور کہا: “آج آپ کی خیر نہیں۔”

اتنا کہہ کر غیض و غضب کے عالم میں پاوْں پٹختے وہاں سے چل دیے۔ حسن کی جان میں جان آئی، گویا جانِ تازہ پائی۔ جا کر ماموں کا حال احوال دریافت کیا۔ پانی پلایا، پنکھا جھلایا۔ دیکھا تو ماموں تھر تھر کانپتے تھے۔ 

حسن نے پوچھا: “ماموں جان کیا حال ہے؟”

ماموں نے روہانسے ہو کر کہا: “بنا دھمکی دے کر گیا ہے۔ اب گھر جا کر تمہاری ممانی کو ایک کی سو لگائے گا۔ ہائے یہ کیا ہو گیا۔  یہ میں کیا کر بیٹھا۔’’

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۸

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۰

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!