الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۸

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۸


(سارہ قیوم)

انیوسویں رات:

انیسویں رات کو ملک شہر یار نے محل میں قدم رنجہ فرمایا اور شہرزاد کو طلب کر کے کہا کہ اے طوطئ خوش بیاں تمہارا افسانہ ساری خدائی کی داستانوں سے جدا ہے، عجیب و غریب اور بہت ہی انوکھا ہے۔ حسن بدرالدین کی ماں کی سنگھار میز عجائب گھر میں کہاں سے آئی اور حسن نے کیونکر پائی؟ معلوم ہوتا ہے حسن نے کوئی خواب دیکھا ہو گا اور یہ سب خواب کی باتیں ہیں۔
یہ سن کر شہرزاد کھلکھلائی اور یوں چہچہائی کہ اے خلیفہء گیتی پناہ، حسن نے جو دیکھا عین بیداری کی حالت میں دیکھا۔ اس کی ماں کی سنگھار میز عرصہ دراز سے عجائب گھر میں پڑی تھی اور نادر و قیمتی اور تاریخی چیز سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اس کے خفیہ خانوں میں موجود اشرفیاں اور ہیرے جواہرات جو اس کی ماں نے سینکڑوں سال پہلے وہاں چھپا چھوڑے تھے، اب بھی وہیں موجود تھے کہ کسی کو اس میز کے خفیہ درازوں کے بارے میں مطلق علم نہ تھا۔ حسن بدرالدین پر فضل ِ خدائے غفورالرحیم ہوا کہ عجائب گھر کی سیر کو آیا، یہاں اپنی ماں کا خزانہ پایا۔ جو کہیں یہ میز کسی ایسے ویسے کے ہتھے چڑھتی کہ بے دردی سے استعمال میں لاتا یا کاٹ کر لکڑی جلاتا تو حسن کاہے کو اپنی ماں کے جواہر پاتا۔ اللہ نے بہت بچایا کہ میز کو سینکڑوں سال بعد بھی بحفاظت حسن سے ملایا، حسن نے اپنے صبروشکر کا یہ پھل پایا۔

اب سنیے کہ جب حسن بدرالدین نے سرخ مخمل کی پوٹلی کو اٹھایا اور اس میں اپنی ماں کے نادرونایاب جواہرات کو محفوظ و سالم پایا تو خدا کا شکر بجا لایا۔ بے حد محظوظ و مسرور ، سپاس گزارِ جناب باری و غفور ہوا۔ جلدی سے پوٹلی کو کُرتے کی جیب میں ڈالا اور عجلت سے کھلے ہوئے دراز بند کیے۔ اب جو مڑا اور زلیخا پر نظر پڑی تو دیکھا کہ سناٹے میں کھڑی ہے ،گویا بس بے ہوش ہوا چاہتی ہے، زبان گویائی نہ پائی ہے۔ بندۂ درگاہ نے جو اس کی یہ حالت دیکھی تو ہاتھ پاؤں پھولے، چوکڑی بھولے۔ زلیخا کو بعجلت ِتمام بازو سے پکڑا اور باہر کو لے چلا۔
باہر نکل کر اسے سایہء دیوار میں بٹھایا اور پانی پلایا۔ زلیخا سکتے کے عالم میں ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم، خود فراموش، خاموش پنبہ درگوش۔ چہرے پر ایک رنگ آتا تھا، ایک جاتا تھا۔ حسن بھاگ کر گیا اور ایک اخبار اٹھا لایا، زلیخا کو پنکھا جھلنے لگا۔ بصد دردمندی کہا: ‘‘اے خاتون ِمہربان یہ تمہارا کیا حال ہوا ہے؟ عجائب گھر جی کا جنجال ہوا ہے۔’’
پنکھا جھلنے اور پانی بہنے سے کہیں جا کر زلیخا کے حواس بحال ہوئے اور اضطراری انداز میں اس کے منہ سے نکلا۔ ‘‘او مائی گاڈ۔۔۔ او مائی گاڈ۔۔۔’’
حسن نے کہا: ‘‘خیر تو ہے زلیخا؟ یہ کیا کہتی ہو اور کسے پکارتی ہو؟’’
زلیخا اس کی بات نہیں سن رہی تھی، وہ سامنے ہوا میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھے جاتی تھی اور کہے جاتی تھی۔ ‘‘او مائی گاڈ۔۔۔ او مائی گاڈ۔۔۔’’
آخر اس نے پھٹی پھٹی نظروں کو حسن کی طرف متوجہ کیا اور دہشت زدہ لہجے میں بولی: ‘‘تم۔۔۔ تم۔۔۔ واقعی پرانے زمانے سے آئے ہو؟’’
پھر خودکلامی کے انداز میں بولی: ‘‘نہیں، نہیں۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟’’
حسن خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ زلیخانے ایک بار پھر نگاہیں حسن کے چہرے پر کیں اور اسی انداز میں بولی: ‘‘لیکن پھر تمہیں خفیہ خانوں کا کیسے پتا چلا؟ وہ دراز تم نے کیسے کھولے؟۔۔۔ تُکا لگا؟ ۔۔۔نہیں ،یہ میز تو سینکڑوں سال پرانی ہے، پھراب تک کسی اورکو پتا کیوں نہیں چلا؟’’
حسن نے خاموش لہجے میں کہا: ‘‘ یہ میری ماں کی سنگھار میز تھی۔ میں تمہیں بتاتا تھا نا کہ میری ماں نواب خاندان سے تھی اور جواہرات کی مالک تھی، اور فن ِ تجارت میں ید ِ طولیٰ رکھتی تھی۔ تین چوتھائی مال تجارت میں لگاتی تھی ، باقی گھر میں چھپا کر رکھتی تھی۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ وقت ِ انتقال جو وہ ‘‘دراز، دراز’’ کرتی تھی تو اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ میز کی دراز کھولو۔ جواہرات و اشرفیاں نکالو اور کام میں لاؤ۔اور میں یہ سمجھا کہ باہر جا کر قسمت آزمانے کو کہتی ہے اور سمجھاتی ہے کہ خدا کی زمیں دراز ہے، جاؤ اور جا کر رزق تلاش کرو۔ افسوس۔۔۔میں ماں کا کہا سمجھ جاتا تو اِس زمانے میں کیونکر آتا، اِس مصیبت میں کاہے کو پڑتا۔’’
یہ کہہ کر آبدیدہ ہوا، رنج و الم رسیدہ ہوا۔
زلیخا کے منہ سے سرگوشی میں نکلا: ‘‘تم واقعی پرانے زمانے سے آئے ہو۔۔۔ ’’
حسن نے حیران ہو کر کہا: ‘‘تمہیں اب بھی شک ہے؟’’
زلیخا کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ سرگوشی میں بولی: ‘‘آئی ایم سو سوری، حسن۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔” 
حسن اداسی سے مسکرایا۔ پوچھا: ‘‘کس بات کی معافی مانگتی ہو ، زلیخا؟’’
زلیخا نے نظریں نیچی کر کے کہا: ‘‘تم کہتے رہے، قسمیں کھاتے رہے، اور میں نے تمہاری بات نہ سنی۔’’
یہ کہہ کر کچھ خیال آیا، نظریں اٹھائیں،اور صفائی دیتے ہوئے بولی:‘‘لیکن میرا کیا قصور؟یہ بات ہی امپوسبل ہے۔’’
اتنی بات کہی تھی کہ پھر سے کوئی دورا پڑا، چلا اٹھی:‘‘!But this is impossible۔۔۔یہ ۔۔یہ ہو کیسے سکتا ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے حسن؟’’
حسن نے سادگی سے کہا: ‘‘سحر کے زور سے۔ اور کیسے؟’’

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۷

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۹

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے