انہیں ہم یاد کرتے ہیں

 

رومان اور انقلاب کا امتزاج....فیض احمد فیض

5/5


”مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا، تو میں بے تکلف یہ تین نام لوں گا؛غالب،اردو اور تاج محل۔“راقم الحروف کے خیال میں عین اسی طرح خطہ ¿ سیال کوٹ نے پاکستان پر تین احسان کیے ہیں، کھیلوں کا سامان، اقبال اور فیض۔
فیض احمد فیض ۳۱ فروری ۱۱۹۱ءکو ایک نام ور سیالکوٹی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد ،سلطان محمد خان،ایک علم دوست شخصیت تھے۔پیشے کے لحاظ سے سلطان محمد خان وکیل تھے مگر وہ امارات افغانستان کے امیر عبدالرحمان خان کے دورِ حکومت میں چیف سیکرٹری بھی رہے۔
ایف اے تک فیض صاحب نے اپنی تعلیم سیال کوٹ میں مکمل کی۔ مرے کالج میں پڑھے۔ ان کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق بھی شامل تھے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ استاد علامہ اقبال کے بھی استاد تھے، گویا حالات اورقسمت فیض احمد فیض کے تاب ناک مستقبل کے لیے کوشاں تھی۔
بی اے کے لیے برصغیر کی منفرد درس گاہ ،گورنمنٹ کالج لاہور میں آ گئے اور وہیں سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ ازیں بعد اورئینٹل کالج لاہور سے عربی میں ایم اے کی سند بھی حاصل کر لی۔
فیض کی نوعمری کا زمانہ خاصا ہنگامہ خیز تھا کہ اقوام عالم میں جا بجا تغیرات رونما ہو رہے تھے۔ ۷۱۹۱ءمیں روس کا انقلاب برپا ہوا جس کے اثرات پوری دنیا سمیت ہندوستان میں بھی محسوس کیے گئے۔ فیض صاحب، شاعر اور ادیب ٹالسٹائی سے متاثر ہونے کے بہ جائے لینن اور کارل مارکس کو ہیرو سمجھنے لگے۔ ۰۳۹۱ءکی دہائی میں عالمی کساد بازاری، اسی دہائی میں سعادت حسن منٹو کی پہلے افسانے کے ذریعے دنیائے ادب میں آمد اور ۴۳۹۱ءمیں پریم چند کا مشہورِ زمانہ افسانہ ’کفن‘ کہ جس کی کوکھ سے ترقی پسند تحریک نے جنم لیا۔ترقی پسند تحریک کی داغ بیل سجاد ظہیر نے رکھی،فیض اس تحریک کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور یوں نوجوانی میں ہی ان کا دبستانِ فکر اپنے ہم عصروں پر واضح ہو گیا اور وہ عمر بھر اسی کا دم بھرتے رہے۔
۱۴۹۱ءمیں فیض نے لبنانی نژاد برطانوی شہریت کی حامل ایلس جارج سے شادی کی۔پنجاب کے دیہات میں یہ بات آج بھی ناقابلِ قبول ہے کہ شریک ِ حیات کے طور پر ایک غیر ملکی خاتون کو ترجیح دی جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں فیض کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔
۲۴۹۱ءمیں فیض نے فوج میں بہ طور کیپٹن شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں محکمہ ¿ تعلقاتِ عامہ میں چلے گئے۔۷۴۹۱ءمیں پہلی کشمیر جنگ کے موقع پر جب انہوں نے فوج سے ریٹائرمنٹ لی، اس وقت وہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔
تقسیم ِ ہند کے بعد فیض معروف انگریزی اخبار ”پاکستان ٹائمز“ کے مدیر بن گئے۔مزاج میں مروّجہ نظریات اور روایات کے خلاف بغاو ت کے جراثیم ان کے اندر سرد نہیں پڑے تھے، لہٰذا ترقی پسند تحریک کے ساتھیوں سے مل کر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بنیاد رکھی۔
۳۲ فروری ۱۵۹۱ءکو چیف آف جنرل سٹاف ،میجر جنرل اکبر خان کی رہائش گاہ پر ایک خفیہ ملاقات کا اہتمام ہوا۔اس ملاقات میں دیگر فوجی افسران سمیت سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض بھی شامل تھے۔کہا جاتا ہے کہ اس خفیہ ملاقات کا مقصد لیاقت حکومت گرانا تھا۔یہ ملاقات بعد ازاں ’راولپنڈی سازش کیس‘ کے طور پر معروف ہو ئی اور ۹ مارچ ۱۵۹۱ءکو فیض صاحب کو اس سازش میں معاونت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ فیض چار سال تک پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید رہے اور آخرکار ۲ اپریل ۵۵۹۱ کو ”زنداں نامہ“ کا خالق رہائی پا کر باہر نکلا۔ رہائی کے بعد فیض احمد فیض نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی، لیکن وطن سے دور ہونے کی تڑپ اس شعر میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
 فیض نہ ہم یو سف، نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے
اپنا کیا،کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
۸۵۹۱ءمیں سفر تاشقند کیا،اِسی سال دسمبر میںدوسری دفعہ انہیں سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیاگیا ۔
۲۶۹۱ءمیں فیض روس گئے، وہاں انہیں روس کا سب سے بڑا ”لینن امن ایوارڈ“ دیا گیا۔ ۴۶۹۱ءمیں لندن سے واپس آئے تو عبداللہ ہارون کالج،کراچی میں پرنسپل کا عہدہ سنبھالا۔
فیض احمد فیض کے سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ بھٹو جب ایوب دورِ حکومت میں وزیر خارجہ تھے، تب سے فیض کو اپنے قریب رکھتے۔سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر فیض خاصے متوحش و مضطرب تھے۔ ۴۷۹۱ میں جب وہ ڈھاکہ گئے تو واپسی پر ایک نظم بہ عنوان ”ڈھاکہ سے واپسی پر “ لکھی جس کے اشعار میں ان کا کرب محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں ،مہرباں راتوں کے بعد
 بھٹو دورِ حکومت میں فیض مختلف ذمے داریاں نبھاتے رہے۔ ۷۷۹۱ءکے مارشل لاءنے فیض کو شدید مایوس کیا ۔ضیاحکومت نے ان کی نگرانی جاری رکھی اور بھٹو کی پھانسی کے بعد فیض نے مایوسی کے عالم میں ایک دفعہ پھر بیروت کی جانب رختِ سفر باندھ لیا۔
میر ے دل میرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یار ِ نامہ بر کا
ہر ایک اجنبی سے پوچھیں
جو پتہ تھا اپنے گھر کا
۲۸۹۱ءمیں فیض شدید علالت کی حالت میں پاکستان واپس آئے اور لاہور میںہی ۰۲ نومبر ۴۸۹۱ءکو آخری سانس لیا۔ فیض احمد فیض ،ماڈل ٹاﺅن جی بلاک کے قبرستان میں آسودئہ خاک ہیں۔ مارچ ۳۰۰۲ءمیں ان کے پہلو میں ایلس فیض بھی آگئیں۔
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم،جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم،تجھے یاد گار بنا دیا

ختم شد

اس پوسٹ کو شیئر کریں