الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۷

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۷

( سارہ قیوم)

اٹھارویں شب

اٹھارویں رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ سوداگر بچہ بدر الدین یوں تو ہر کام میں جلد باز تھا، بہت فسوں ساز تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ کام اس کثرت سے آن پڑے تھے کہ سمجھ نہ آتا تھاکہ کسے چھوڑے کسے پکڑے، اور ان جھنجھٹوں سے کیونکر نبٹے۔ ایک طرف تو ڈرامے کی شوٹنگ شروع ہوا چاہتی تھی تو دوسری طرف ماموں کی دکان کا دلدر وادبار تھا۔ تیسری طرف عشقِ نامراد تھا جس کا بیڑا پار نہ ہوچکتا تھا اور چوتھی طرف نسیمہ آپا تھیں جن کا سوائے حسن کے دنیا میں کوئی اور نہ تھا اور جن کے افلاس و الم کی حالت دیکھ کر حسن بے حد ملول و افسردہ ہوتا تھا۔
دل میں سوچتا تھا کہ اس ہمشیرۂ دردمند کے لئے کیا کر پاؤں گا اور کیونکر کام آؤں گا۔ کوڑی پاس نہیں، کوئی سہارا غیر پاس نہیں۔ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ دوسری طرف ماموں کی دکان کے معاملے میں بھی بعینہ یہی حال تھا کہ کچھ کرتے دھرتے بن نہیں آتی تھی، عقل بے کار ہوتی جاتی تھی۔ جب زلیخا کو مغموم ویژمردہ دیکھتا تھا تو دل چاہتا تھا ابھی اسی وقت جائے اور بنے بھائی کو ایسی سخت سزا دے کہ اوروں کے لیے عبرت کا باعث ہو، لیکن پھر خود کو سمجھاتا کہ شیخ سعدی کہہ گئے ہیں کہ تعجیل ِ کارِشبا طین بود۔ کارِ شیطانی چھوڑو، اس جلد بازی سے منہ موڑو، ٹھنڈی کرکے کھانا چاہیے، ذرا عقل کو کام میں لانا چاہیے۔ کچھ یہ بھی کہ ٹانگ ابھی پوری طرح ٹھیک نہ ہوئی تھی اور بنے بھائی کے ساتھ ہاتھا پائی کی صورت میں اگر بھاگنے کی ضرورت پڑتی تو بندہ درگاہ مصیبت میں پڑتے۔ مفت میں لینے کے دینے پڑتے۔ چنانچہ یہ سب سوچ کر خاموش ہورہتا تھا اور محبوبہ نازنین کرن کو فون کرکے دن مسرور کرتا تھا، فکر دور کرتا تھا۔
یوں تو حسن اپنی زندگی سے خوش تھا کہ ہمیشہ صابر و شاکر رہتا تھا اور زندگی میں خوشی و مسرت پانے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ بھی نہیں، لیکن کبھی کبھی ماں باپ کی یاد آتی تھی، دل پہ برچھی سی چل جاتی تھی۔ دل میں سوچتا تھا جس طرح سحر کے زور سے اس زمانے میں آگرا ہوں۔ شاید کبھی تقدیر یاوری کرے اور کوئی ایسا ساحر بے بدل ملے جو مجھے دوبارہ وقت کی گردش کا پردہ چاک کرکے اپنے زمانے میں پہنچائے اور خدا سے اس احسان کا اجر پائے۔ اگر یوں ہو تو ماں باپ کی خوب خدمت کروں گا۔ ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کروں گا۔ لیکن اگرچہ سحر کے کرشمے جا بجا پاتا تھا، ایسا کوئی ساحر دیکھنے میں نہ آتا تھا۔

٭……٭……٭

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۶

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۸

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے