قرنطینہ ڈائری ۔ پہلا دن

قرنطینہ ڈائری ۔ پہلا دن

قرنطینہ ڈائری
پہلا دن: 24 مارچ 2020

ڈیئر ڈائری!
لاک ڈاﺅن کا پہلا دن کیسا گزرا؟ ویسا ہی جیسے باقی دن گزرتے ہیں۔ وہی گھر کے کام، وہی بچوں کی چہکار اور وہی ملازموں کے نخرے۔ وہی دوستوں سے فون پر باتیں، وہی لکھنا پڑھنا اور وہی موسم کی رنگینیاں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ یہ زندگی آج ہے، کل ہو گی یا نہیں۔
آج سارا دن موسم بہت سہانا رہا۔ رات میں بوندا باندی ہوئی تھی۔ صبح بادل کھل کر برسے اور ہوا یوں نکھر گئی جیسے کسی ننھے شرارتی بچے کو ماں نے زبردستی پکڑ کر نہلا دیا ہو اور وہ چمکتا دمکتا خوشبوﺅں میں بسا یوں لگے کہ جیسے کبھی میلا ہوا ہی نہ تھا۔ ایسی بہاروں کی خوشبو سے ہوا اور موسم میں ہماری سوسائٹی کی سڑکیں بڑی پررونق ہو جاتی ہیں۔ بچے سڑکوں پر کرکٹ کھیلتے ہیں۔ بڑے سڑکوں اور پارک میں چہل قدمی کرتے ہیں اور گھروں سے پکوانوں کی خوشبوئیں اور باتوں کی چہکاریں اٹھتی ہیں۔ آج لیکن ہو کا عالم تھا۔ چہار سو سناٹا، نہ آدم نہ حیوان۔ نہ بوڑھا نہ جوان۔
اس ساری تمہید کا کیا مقصد ڈیئر ڈائری؟ مقصد کہ یوں تو زندگی گزارنے کا کوئی مسلمہ اصول نہیں لیکن کچھ اصول ایسے ہیں کہ اپنا لیے جائیں تو زندگی سہل گزر جاتی ہے۔ ان میں سے ایک اصول نوے دس کا ہے۔ نوے دس کا اصول یہ ہے کہ زندگی میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوتا ہے اس کا صرف دس فیصد زندگی یا قسمت ہمارے ساتھ کرتی ہے۔ باقی نوے فیصد اس دس فیصد پر ہمارا ردعمل ہوتا ہے۔ اب دیکھیے کرونا آیا، وبا پھیلی، یہ کہانی کا دس فیصد ہے جس پر ہمارا اختیار نہیں۔ باقی نوے فیصد ہمارے اختیار میں ہے۔ ہاتھ دھونا، گھر میں رہنا، ماسک پہننا، ہائی جین کا خیال رکھنا، قوتِ مدافعت کو فعال رکھنا، لیکن سب سے بڑھ کر ڈیئر ڈائری خوش رہنا۔ زندگی نعت، صحت اس سے بڑی نعمت، رزق نعمت، چھت نعمت، اولاد نعمت جب تک ہیں تب تک خوش رہیں ہر حال میں خوش رہیں۔ ارے خوش رہنے کے بڑے فائدے ہیں۔ صحت بہتر ہوتی ہے۔ امیونٹی بڑھ جاتی ہے۔ دوست شاد ہوتے ہیں اور دشمن ناشاد، نہ بھی ہوں تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم تو پہلے ہی خوش ہیں۔
تو بھئی جونہی کل دوپہر لاک ڈاﺅن کا اعلان ہوا، ہم نے پہلا کام یہ کیا کہ بھاگم بھاگم جا کر بچوں کی جناتی سائز ٹیبل ٹینس کی میز اٹھوا لائے جو میاں صاحب کے کلینک کے سٹور میں پڑی تھی۔ چار بچوں کو گھر میں بند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے کھیل میں لگایا جائے جس سے ان کی ورزش ہوتی رہے۔ بچے میز دیکھ کر بہت پرجوش ہوئے اور آناً فاناً اوپر کے لاﺅنج میں میز سیٹ کی اور دے میچ پر میچ شروع ہو گئے۔ گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ دھڑام کی ایک ایسی دلخراش آواز آئی جس سے دل بند ہوتے ہوتے بچا۔ میں نیچے بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ بھاگتی دوڑتی اوپر پہنچی تو دیکھا کہ میز چاروں شانے چِت پڑی ہے کیوں کہ ایک سال سٹور میں بند رہنے کی وجہ سے اس کے سارے قبضوں پر زنگ لگ گیا تھا اور ہمارے بچوں کی پرجوش دھکم پیل کی تاب نہ لا کر محترمہ شہید ہو چکی ہیں۔ اب نہ جانے کب لاک ڈاﺅن ختم ہو گا اور اس مضروبہ کو ویلڈر کے پاس لے جا کر مرہم پٹی کروائی جائے گی۔
آج صبح ماسی کو مع تنخواہ چھٹی دے دی تھی۔ آپس کی بات ہے، ماسی کو فارغ کرنے کے ارمان تو کب سے میر دل میں تھے۔ ماسی کو دیکھ کر عصمت چغتائی کی ننھی کی نانی یاد آتی تھی جو نہ صرف لُتری تھی بلکہ چور بھی۔ چوں کہ سارے کام میں ساتھ ساتھ کرواتی ہوں اس لیے ماسی کو کبھی کھل کھیلنے کا موقع نہ ملا۔ لیکن دنیا میں اگر کبھی ہاتھ کی صفائی کا مقابلہ ہو تو ہماری ماسی ضرور اول آئے گی۔ پکتے سالن میں سے بوٹیاں نکال لینا، چوری چھپے پرفیوم لگا لینا، ایک مالٹا دکھا کر درجنوں لے جانا، ہاٹ پاٹ میں سے رات کی بچی روٹیاں غائب کر دینا ہماری ماسی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر درگزر کیا کہ غریب عورت ہے، اس کی لگی ہوئی روزی نہ چھینی جائے۔ ماسی چمچیاں گلاس لے گئی، سرف پہ ہاتھ صاف کیا، عماد کے فائنل ایئر کے تھیسس کے کاغذ ردی میں بیچ دیے۔ اور تو اور 14 اگست کا جھنڈا تک اتار لے گئی، میں نے درگزر کیا۔ لیکن کل محترمہ نے میز پر پڑے ملائی کے پیالے پر ہاتھ صاف کیا اور تقریباً سارا پیالہ کھا گئی۔ اب بھئی کھانے کو جھوٹا کرنا تو مجھے برداشت نہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ جو چیز آنکھوں سے نہ دیکھی، اس کا الزام کیوں کر لگایا جائے۔ کبھی پوچھا بھی تو اس نے رونا دھونا ڈال دیا کہ مجھ غریب پر ظلم کرتے ہو اور الزام لگاتے ہو۔ ماسی وہ چھچھوندر بن چکی تھی جو نہ اگلی جاتی تھی نہ نگلی جاتی تھی۔ اب جو لاک ڈاﺅن لگا تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ ماسی کو بقیہ ہفتے کی تنخواہ دے کر چھٹی بھیج دیا کہ بھئی گھر بیٹھو حکومت کا حکم ہے۔ ماسی خوشی، ہم خوش، ہمارا خدا خوش۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
ابھی میں ماسی سے جان چھٹنے کی خوشی منا ہی رہی تھی کہ ایک دوسری خوشخبری وصول ہوئی۔ ہمارے ہمسائے میں رہنے والی آنٹی نے اپنے باغ سے تازہ تازہ سبزی بھیجی۔ سبزی بھی وہ جو میری پسندیدہ ہے یعنی مونگرے۔ واہ! آلومونگرے کی چٹپٹی بھاجی ہو اور ساتھ ماش کی دال اور مرچوں کا اچار۔ زندگی کی نعمتوں کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ اچار سے یاد آیا، آج دیسی لہسن کا دو طرح کا اچار ڈالا۔ ایک سرکے میں، ایک سرسوں کے تیل میں۔ دیسی لہسن قوتِ مدافعت کے لیے اکسیر ہے اور کرونا کے خلاف ایک ہتھیار۔ تو آج ہم نے یہ ہتھیار تیار کر لیا۔ جب مونگرے اور دال پکنے کی خوشخبری میں نے بچوں کو سنائی تو انہوں نے اس دکھی دل اور تاسف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں۔ ”ہائے سٹھیا گئی ہماری ماں۔“ سب نے ایک ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ادھر اُدھر کھسک گئے۔
دوپہر میں گرم گرم روٹی پر رکھ کر آلومونگرے کا سالن کھایا (مونگرے اور میتھی، ان دونوں کو روٹی پر رکھ کر کھانا چاہیے۔ علیحدہ کھانا ان جنت کی سبزیوں کی توہین ہے۔) اور کھانا کھا کر اتنی خوشی ہوئی اور اتنا سکون ملا کہ زوروں کی نیند آئی اور میں وہیں صوفے پر سو گئی۔ بھئی میاں صاحب کا حکم ہے کہ نیند پوری کرو، امیونٹی کے لیے اچھا ہے۔ چوں کہ نہ واک پر جانا تھا اور نہ کسی کے آنے کا امکان تھا۔ لہٰذا لمبی تان کر سو رہی۔ سو کر اٹھی تو معلوم ہوا عمر نے جو ہمارے تیسرے نمبر کے صاحبزادے ہیں اور کھانا پکانے کے بے حد شوقین بھی، فریزر سے قیمہ اور چیز نکال کر اپنے اور بھائیوں کے لیے برگر بنائے تھے اور مونگروں اور دال کو ہری جھنڈی دکھا دی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ لاک ڈاﺅن یونہی جاری رہا تو میرے مہینے بھر کے راشن کو یہ بچہ دس دن میں ختم کر دے گا۔
رات کے دس بجے تو اردگرد کی مسجدوں اور چھتوں سے اذان کی آوازیں آنے لگیں۔ آج پورے ملک میں اجتماعی اذان اور دعا ہوئی۔ ہم سب بھی گھر کی چھت پر اکٹھے ہوئے۔ بہت دیر ہم خاموش کھڑے اذان کی آوازیں سنتے رہے۔ سناٹا، خاموشی، ویرانی، چاندنی رات، بادل، خنک ہوا اور یکے بعد دیگرے چھتوں سے بلند ہوتی اذان کی آواز۔ پھر عماد نے ہاتھ باندھے اور اذان دی۔ ایسے کام ہمیشہ عماد ہی کرتا ہے جس عمر میں بچے نرسری رائمز گاتے ہیں، وہ اذان دیا کرتا تھا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو مسجدوں میں جا کر اذان دینے لگا۔ اب گھر میں بھی کبھی اذان ہو، جماعت ہو، امامت کرنی ہو، عماد ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اذان ادھر شروع ہوئی، ادھر ختم بھی ہو گئی۔ بہت دیر ہم سب چپ چاپ کھڑے رہے۔ زندگی بھی تو ایسی ہی ہے۔ ادھر شروع ہوئی، ادھر ختم ہو جائے گی اور پھر سناٹا اور خاموشی۔ اے اللہ! تیری امانت ہے۔ تو نے دی، تیرا شکر، واپس لے گا تو بڑی عاجزی اور شکرگزاری سے تجھے تیری چیز لوٹا دیں گے۔ اے سترماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے، تو نے جو دیا اس کا شکر، جو نہیں دیا اس کا بھی شکر، جو دے کر لے لیا اس کا ہزار ہا شکر اور جو وہاں دوسرے جہان میں دے گا اس کا کروڑ ہا شکر۔ بس تو ہمارا نام بھی راضی برضا رہنے والوں میں، شکرگزاروں میں اور محبت کرنے والوں میں لکھ لے۔ اے دونوں جہانوں کے مالک! اس وبا کو ہم پر سے ٹال دے اور ہم پر رحم کر، وہ رحم جو تیری تمام صفات میں سے خود تیری پسندیدہ صفت ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
سارہ قیوم
٭….٭….٭

 

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

بے زار ۔ حدیث کہانی

Read Next

فیض احمد فیض

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!