الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

(سارہ قیوم)

سولہویں رات

رات آئی تو شہرزادِ شیریں بیاں و طلیق اللساں نے کہانی یوں سنائی کہ اے شہنشاہِ عالم پناہ، حسن بدر الدین مع اپنے دوستوں کے ایک جلسہ فریدوں بزم میں آیا (جسے یہ لوگ پارٹی کہتے تھے) اور اسے رشکِ طبقاتِ جناں پایا۔ باغ کیا تھا، باغ ِ ارم تھا، اسباب اور روشنیوں اور موسیقی کا عجب عالم تھا۔ وہاں جاکر بیٹھے تو دیکھا کئی حسینانِ پری جمال ، خوش تمثال ، بادۂ حسن کے سرور میں چور ، جوانی کے نشے میں مست و مخمور ناچتی ہیں اور ان کی انواع و اقسام کی پوشا کیں بدن ڈھانپنے سے قاصر ہیں، چاندی سے جسم لباس سے باہر ہیں۔
حسن بدر الدین کے لئے یہ محافل نئی نہ تھیں، سمجھ گیا کہ محفل بادۂ و سرور ہے اور شہر کی نامی گرامی طوائفوں کو بلایا گیا ہے کہ امرا ء و شرفا کا دل بہلائیں اور رقص و موسیقی کا رنگ جمائیں۔ اس کے اپنے زمانے میں بھی راگ رنگ کی ایسی محفلیں آئے روز جمتی تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پرانے زمانے کی طوائفیں پورا لباس پہنتی تھیں اور نئے زمانے میں ادھورا۔ اُس زمانے میں صرف طوائفیں ناچتی تھیں ، اس زمانے میں تماش بین بھی ساتھ ناچ رہے تھے۔ یعنی مرد آپے سے باہر تھے، عورتیں جامے سے۔ عجب بوا لعجبی تھی۔
ابھی وہاں بیٹھے نیرنگئی دوراں دیکھ رہے تھے کہ غفران آتا دکھائی دیا۔ دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔
‘‘ویلکم ۔ ویلکم۔’’ اس نے بازو پھیلا کر کہا۔ ‘‘Enjoying the Party?’’
بندو نے منہ بناکر کہا۔ ‘‘پارٹی تو بعد میں انجوائے کریں گے، پہلے تو تیرے گارڈز نے جیب خالی کرادی ہماری۔ یار تین ہزار کی ایک Ecstasy Pill؟ تو خود بتا کتنا ظلم ہے۔’’
غفران ہنسا اور بولا۔ ‘‘یہ تو ڈسکاؤنٹ پرائس ہے۔ اور انٹری فیس یا Pill خریدنا تو پارٹی رولز ہیں۔ آج کل ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔’’
لیکن بندو کو تسلی نہ ہوئی، وہ منہ بناتا رہا۔
آخر غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا مراکیوں جارہا ہے، کتنی Pills ہیں تیرے پاس؟’’
بندو نے کہا۔ ‘‘دو۔’’
‘‘غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘بس؟ دو پہ ہی جان جارہی ہے؟ اچھا یہ بتا خود کھانی ہیں؟’’
بندو نے ہاتھ اٹھائے ، قطعیت سے بولا۔ ‘‘نہ…… میری صحت کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔ چرس ہی ہینڈل کرلوں تو بڑا ہے۔ Ecstasyکھا کے تو اللہ کو پیارا ہوجاؤں گا۔’’
غفران نے ہنس کر کہا۔ ‘اچھا تو حسن کو دے دے، یہ بڑا انجوائے کرتا ہے ایسی چیزوں کو۔’’
بندو نے نظر بھر کے حسن کو دیکھا اور کہا۔ ‘‘حسن کو رہنے دے یار۔ معصوم ہے بے چارہ۔’’
غفران پھر ہنسا اوربولا۔ ‘‘اچھا۔ چل تیری مشکل حل کرتا ہوں۔ آ تجھے ایک لڑکی سے ملواؤں۔ بڑی نوٹ والی ہے۔ اسے بیچ دے۔ کچھ پیسے اوپر سے بھی لے لے گا تو اسے پتا نہیں چلنا۔ نشے میں ہوتی ہے تو بڑی generous ہوجاتی ہے۔’’
یہ کہہ کر بندو کا بازو پکڑا اور ایک طرف کو لے چلا۔ تجسس کے مارے حسن بھی ساتھ چلا کہ دیکھوں کیا کرتا ہے اور کس سے ملواتا ہے۔ شاید کوئی بنارس کی نامی گرامی طوائف ہو یا لکھنؤ کی کوئی حسین، مجرا کرنے والی۔
تھوڑا آگے بڑھے تو حسن نے دیکھا کہ ناچنے والوں کے گروہ سے ایک حسین و جمیل لڑکی علیحدہ ہوئی اور ایک طرف لگی میز کی طرف چلی۔ وہاں جاکر شراب ِناب کا پیمانہ بھر اور غٹاغٹ چڑھا گئی۔
‘‘اوہ نو۔’’ غفران نے پریشان ہوکرکہا۔ ‘‘پی پی کے مرجائے گی کسی دن۔ میں اس کو گھسیٹ کے ڈانس کی طرف لے جاتا ہوں، یہ پھر بار میں پہنچ جاتی ہے۔ آؤ تمہیں ملواؤں۔’’
اس کے قریب پہنچے تو حسن نے دیکھا کہ نشے کی زیادتی سے اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور کھڑے کھڑے لڑکھڑا رہی تھی۔ غفران کو قریب آتے دیکھا تو یوں آنکھیں پھاڑکے گھورنے لگی جیسے کسی اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کررہی ہو۔ دو قدم پیچھے ہٹی تو گرتے گرتے بچی۔
غفران نے ا سے بازو سے تھام کر سیدھا کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘ہیلو ڈارلنگ۔پھر سے بھول گئیں مجھے؟ آج تین مرتبہ اپنا تعارف کروا چکا ہوں۔ میں غفران۔ میرے دوستوں سے ملو۔ یہ بندو ہے اور یہ حسن۔’’
لڑکی نے منہ پھا ڑ کر قہقہہ لگایا اور مصنوعی نزاکت سے بولی۔ ‘‘ہاں ہاں تم غفران ہو۔ تمہارے دوست ہیں، میرے بھی دوست ہیں۔’’
غفران نے کہا۔ ‘‘بندو ، حسن ان سے ملو ۔ یہ تانیہ ہے۔ وہ جو فلاں پارٹی کے وزیر ہیں نا ں؟ ان کی بیگم۔’’ پھر سرگوشی میں بولا۔ ‘‘دوسری بیگم۔’’
تانیہ نے ٹھنک کر کہا۔ ‘‘Oh please dont call me begum.…… خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگتی ہوں میں۔’’
‘‘چلو وہاں بیٹھیں۔’’ غفران نے کہا اور اس کو لے کر اسی جگہ آبیٹھے جہاں نعیم اور عاصم بیٹھے تھے۔ محسن موجود نہیں تھا۔ معلوم ہوا پچھلی طرف تکہ کباب بنانے والوں اور نان سینکنے والوں کو دیکھنے گیا ہے۔
تعارف کے بعد غفران نے تانیہ سے پوچھا۔ ‘‘اور سناؤ تانیہ۔ واٹس اپ؟’’
تانیہ نے کہا۔ ‘‘ابھی دبئی سے واپس آئی ہوں۔ ورساچی کی سپرنگ کلیکشن آئی تھی، سوچا چلی ہی جاؤں۔ کچھ رہ ہی نہیں گیا پہننے کے لئے میری وارڈروب میں۔’’
غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا کیا۔ کھاؤ پیو موج اڑاؤ۔ ورساچی پہنو اور شوہر کی کمائی حلال کرو۔’’
تانیہ بولی۔ ‘‘آف کورس۔ آخرسوسائٹی میں عزت بھی کوئی چیز ہے۔’’
غفران نے کہا۔ ‘‘کھانے پینے سے مجھے یاد آیا۔ کچھ کھا یا بھی ہے یا پیئے چلی جارہی ہو؟’’
یہ سن کر تانیہ ہنسی اور بولی۔ ‘‘کھانے کے لئے کون آتا ہے پارٹی میں؟ پارٹی تو پینے کے لئے ہوتی ہے۔’’
غفران نے کہا۔ ‘‘ارے یار تم کہو تو سہی۔ تمہارے مطلب کی کھانے کی چیز بھی حاضر کردیتے ہیں ہم۔’’
یہ کہہ کر بندو کو اشارہ کیا۔ بندو نے دو گولیاں نکال کر میز پر رکھ دیں۔
تانیہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ گولیوں کو اٹھا کر غور سے دیکھا اور بولی۔ ‘‘Esctasy ۔ کتنے کی ہے؟ مجھے دونوں دے دو۔’’
یہ کہہ کر بغیر جواب کا انتظار کئے اپنا بٹوہ کھولا اور پندرہ ہزار روپے گن کر میز پر رکھ دیئے۔ بندو نے اس میں سے بارہ ہزار گن کر جیب میں ڈالے اور تین ہزار واپس کردیئے۔
‘‘رکھ لے یار۔’’ غفران نے دبی آواز میں ڈانٹا۔
‘‘نہیں یار۔ تجارت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ دو گنا سے زیادہ منافع جائز نہیں۔ وہ نشے میں ہے تو میں اس کا فائدہ اٹھالوں؟ نہیں یار۔’’ بندو نے جواب دیا۔
تانیہ نے پاس گزرتے ملازم کے ہاتھ سے شراب کا جام لیا اور ایک ہی گھونٹ میں گولی اور شراب دونوں چڑھا گئی۔ غفران فکر مند نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
تھوڑی ہی دیر میں تانیہ کی آنکھیں چڑھنے لگیں۔ میز کو یوں چٹکیاں کاٹنے لگی گویا کوئی اس پر پڑی کوئی چیز اٹھانا چاہتی ہے۔ پھر ہنسنے لگی اور گنگنانے لگی۔ گانا ختم کرچکی تو رونے لگی۔
‘‘روتی کیوں ہو ڈارلنگ؟’’ غفران نے ہمدردی سے پوچھا۔
‘‘میری زندگی خالی ہے۔ بالکل خالی۔ ’’ اس نے روتے ہوئے کہا۔ ‘‘میں نے اپنی زندگی میں کیا دیکھا؟ کچھ نہیں۔ کیا پایا؟کچھ نہیں۔’’
غفران نے تسلی دے کرکہا۔ ‘‘تم نشے میں ہوتی ہو تو تمہیں یونہی لگنے لگتا ہے۔ سب کچھ تو ہے تمہارے پاس۔’’
اس نے روکر کہا۔ ‘‘نشے میں نہ بھی ہوں تو بھی یوں ہی لگتا ہے۔ ڈپریشن کی گولیاں کھاتی ہوں۔ پھر اس ڈپریشن کو بھلانے کے لئے بازاروں میں نکل جاتی ہوں۔ اندھا دھند شاپنگ کرتی ہوں۔ لاکھوں روپے اڑاتی ہوں۔ صرف ایک دن …… میں تمہیں بتاؤں صرف ایک دن کی خوشی دیتی ہے شاپنگ۔ اس کے بعد پھر وہی ڈپریشن۔’’
یہ کہہ کر ناک پونچھا اور پاس بیٹھے حسن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ‘‘تم نے کبھی دکھ دیکھے ہیں؟تمہیں پتا بھی ہے دکھ ہوتا کیا ہے؟ نہیں تمہیں کیا پتا۔’’
حسن چپ چاپ اسے دیکھے گیا۔
وہ کہتی رہی۔ ‘‘دکھ دیکھنے ہوں تومجھے دیکھو۔ ارب پتی باپ کی بیٹی ہوں میں۔ سولہ سال کی عمر میں میرے باپ کے دوست نے مجھے ریپ کیا۔ میں نے باپ کو بتایا تو اس نے کہا، خاموش رہو۔ وہ بڑا آدمی ہے۔ اس سے تعلقات بگڑگئے تو میرے بزنس کو نقصان ہوگا۔ اس کے بعد وہ آدمی برابر آتا رہا، ہمارے ڈرائنگ روم میں بیٹھا میرے باپ کے ساتھ قہقہے لگاتا رہا۔ میں ڈپریشن میں چلی گئی۔ سائیکالوجسٹ کے چکر کاٹنے لگی۔ پھر میں نے سوچا واٹ دا ہیل۔ جب میرے باپ کو پرواہ نہیں تو مجھے اس کی عزت یا اس کے پیسے کی کیوں پرواہ ہو؟ میں نے باپ کا پیسہ اڑانا شروع کیا اور پے در پے بوائے فرینڈ بدلنے لگی۔ لوگوں میں میرے چرچے ہونے لگے۔ اپنے باپ کو جلانے کے لئے میں نے عمر میں اپنے سے تین گنا بڑے مرد سے شادی کرلی اور اس کی دوسری بیوی بن گئی۔ میرا شوہر میرے باپ کی مخالف پارٹی کا وزیر تھا اور کرپشن میں بدنام۔ میرا خیال تھا میرا باپ مجھے عاق کردے گا۔ لیکن ہوا پتا ہے کیا؟ میرا باپ بہت خوش ہو ااور کہا۔ ‘‘یہ بڑے کام کا آدمی ہے۔ اسے بڑا کیش کراسکتے ہیں ہم۔’’ اب تم مجھے بتاؤ ، اس سارے کھیل میں میں نے کیا پایا؟ ایک بوڑھا شوہر جو مجھے گھر ڈال کر بھول چکا ہے اور اپنے سے بڑے سوتیلے بچے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں لیمبورگینی میں پھرتی ہوں، لاکھوں کا جوتا پہنتی ہوں، لاکھوں کا پرس پکڑتی ہوں، کروڑوں کے ڈائمنڈز ہیں میرے پاس تو میں خوش ہوں۔ کوئی مجھ سے پوچھے یہ چیزیں مجھے کتنی خوشی دیتی ہیں۔ زیرو، بالکل زیرو۔ اپنے غم بھلانے کے لئے retail therapyکا سہارا لیتی ہوں لیکن مجھے اس سے وہی خوشی ملتی ہے جو کسی غریب عورت کو آلو پیاز خریدنے سے ملتی ہو گی۔ بلکہ شاید اس سے بھی کم۔ اپنے دکھ بھلانے کے لئے نشہ کرتی ہوں، لیکن اس سے بھی کیا ہوتا ہے۔ کچھ ہوتا ہے؟’’
اس کی یہ کہانی سن کر حسن بدر الدین ، کہ انتہا درجے کا رحمدل اور رفیق القلب نوجوان تھا، آب دیدہ ہوا۔ بصد ہمد ری کہا۔ ‘‘نہیں نشے سے کیاہوتا ہے، الٹا درد غم بڑھ جاتا ہے۔’’
‘‘Exactly۔’’ تانیہ نے آنسو پونچھ کرکہا۔ ‘‘مجھے لوگوں نے کہا نمازیں پڑھو، سکون مل جائے گا۔ لیکن اب میں الکوحل کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ گھر میں اپنا بار ہے۔ اب جب ہر وقت ایک چیز سامنے ہو تو انسان کیسے نہ پیئے؟ اور الکوحل کے ساتھ نماز نہیں ہوتی۔ میری قسمت دیکھو، لوگوں نے تو مجھے دکھ دیئے ہی دیئے، مجھے تو خدا نے بھی نہیں اپنایا۔’’
یہ کہہ کر آنسو پوچھے، پھر قہقہہ لگا کر ہنسی اور بولی۔ ‘‘خیر چھوڑو۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے۔ انجوائے کرکے گزارنی چاہیے۔’’
پھر اونچی آواز میں پکاری۔ ‘‘اے ڈی جے یہ کیا بکواس سونگ لگا رکھا ہے۔ کوئی ڈھنگ کا میوزک لگاؤ۔ کیوں غفران ، لگتا ہے اسے بھی چڑھ گئی ہے۔ فری کی شراب دیکھ کر لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔’’
یہ کہہ کر پھر منہ پھاڑ کر قہقہہ لگایا۔ اس کے قریب بیٹھے حسن کو اس کی کالی داڑھیں نظر آئیں، بے اختیار کراہت آئی۔ اب تانیہ کو تیز نشہ چڑھنے لگا تھا۔ زبان لڑکھڑا رہی تھی اور وہ اول فول باتیں کرنے لگی تھی۔ سگریٹ سلگانے لگی تو انگلیاں کانپنے لگیں۔ حسن نے مدد کی ، ماچس جلا کر دی۔ وہ کش پہ کش لینے لگی۔ اس کی آنکھیں بار بار چڑھ جاتی تھیں اور کچھ بڑبڑانے لگتی تھی۔
اتنے میں وہاں سے ایک نوجوان گزرا۔ تانیہ کو دیکھ کر قریب آیا اور کہا۔ ‘‘اے بے بی۔ کیسی ہو؟ کیا کررہی ہو؟…… Want to have fun?’’
تانیہ نے اس کی گردن میں بازو ڈالے اور کہا۔ ‘‘Yes yes I want to have fun.’’
نوجوان نے اسے اسی طرح لپٹائے ہوئے اٹھا کر کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘تو چلو پھر۔’’
غفران نے دبی آواز میں کہا۔ ‘‘چھوڑو یار ۔ نشے میں ہے۔’’
نوجوان ہنس کر بولا۔ ‘‘یہ کب نشے میں نہیں ہوتی؟ویسے بھی اس کی مرضی سے لے جارہا ہوں۔ کیوں بے بی ،چلو گی؟’’
‘‘یس بے بی، یس۔’’ تانیہ نے لڑکھڑا کر کہا۔
یہ کہہ کر ا سکی بانہوں میں جھولتی ، لڑکھڑاتی اس کے ساتھ چلی۔ وہ اسے لے کر سیدھے اس میز پر گیا جسے غفران نے بار کہا تھا۔ وہاں موجود شخص کو جیب سے چند نوٹ نکال کر دیئے۔ اس شخص نے اسے ایک چابی تھمائی۔ چابی پکڑکر وہ شخص تانیہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے ایک طرف کو غائب ہوگیا۔
حسن یہ سب دیکھتا تھا اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اس نے غفران سے پوچھا۔
‘‘خدارا اس راز سے پردہ اٹھاؤ کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ یہ طوائفیں کہاں سے بلوائی ہیں اور یہ کیسا مجرا ہے جس میں سب لوگ ناچتے ہیں؟ یہ شخص تانیہ کو کہاں لے گیا ؟’’
غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘طوائفیں ؟ خدا کا خوف کرو یار۔ یہ سب بڑے اچھے گھروں کی لڑکیاں ہیں۔ وزیروں، سفیروں، بزنس مینوں کی بیٹیاں۔ لگتا ہے تم نے پہلی مرتبہ کوئی پارٹی اٹینڈ کی ہے۔ ڈانس پارٹی میں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ تم لوگ بھی ڈانس کرو، ناچو، شراب پیو۔ بار مین کے پاس اوپر کے کمروں کی چابیاں ہیں۔ کوئی لڑکی پسند آئے ، اور اسے تم پسند آؤ تو بار مین کو دو ہزار روپے دو، چابی لو اور لڑکی کو لے جاؤ اوپر۔ آؤ تمہیں ملواتا ہوں چند لڑکیوں سے۔’’
یہ سب سن کر حسن کا حیرت اور اچنبھے سے یہ حال ہواکہ حیطۂ تحریر سے خارج ہے۔ یہ سب کچھ تو زمانوں سے ہوتا آیا تھا لیکن یہ کام وہ عورتیں کرتی تھیں جو طوائفوں کے گھرانوں میں پیدا ہوتی تھیں اور کاروبار کے طور پر خود کو بیچتی تھیں۔ یہ سوچ کر حسن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ شریف اور اعلیٰ گھرانوں کی لڑکیاں نشے میں دھت ناچتی ہیں اور نشے کے عالم میں کوئی بھی ہاتھ پکڑ کر لے جائے، انہیں پرواہ نہیں۔ وہ مرد جو ابھی تانیہ کو لے کر گیا، جانتا تھا کہ وہ کسی کی بیوی ہے، اس وقت اپنے آپ میں نہیں ہے، پھر بھی اسے پھسلا کر لے گیا۔ یہ سوچ کر حسن کو یکدم متلی محسوس ہوئی۔ وہ اندھا دھند اٹھا اور جھاڑیوں میں جاکر قے کردی۔ انسانیت کی اور عورت کی اس سے بڑی تذلیل اس نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
واپسی آکر بیٹھا تو غفران نے پوچھا۔
‘‘کیا ہوا؟ طبیعت خراب ہے؟ کچھ پینے کو منگواؤں؟’’

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

Read Next

امجد صابری انہیں ہم یاد کرتے ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!