الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

(سارہ قیوم)

پندھرویں شب کا قصہ: 

پندرھویں شب کو جب بادشاہِ فیروز بخت سکندر صولت نے تسنیم و تنسیقِ سلطنت سے فراغت پا کر محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا اور اس کو رشکِ باغ نعیم بنایا تو کہانی یاد کر کے شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا کہ کل کی کہانی اور اس بدبخت حجام کا بقیہ حال سناؤ اور ہمارا دل بہلاؤ۔ تمہاری سحربیانی گدگداتی ہے، کہانی سنے بغیر نیند نہیں آتی ہے۔ شہرزاد دل ہی دل میں خوش ہوئی کہ خدانے بڑے موذی سے جان بچائی، الحمدللہ کہ یہاں تک تو نوبت آئی کہ اب بادشاہ کو داستان کی سماعت کا شوق چراتاہے اور قصۂ دلگداز ان کو لبھاتا ہے۔ عرض کیا کہ شہنشاہِ عالم، پشت و پناہِ سلاطینِ جہاں کو خدائے تعالیٰ قیامت تک سلامت رکھے، بااقبال و باکرامت رکھے۔ دوست شادو دشمن پائمال ہوں، رفقا و وابستگانِ دامنِ دولت سیم و زر سے مالا مال ہوں۔

رہیں جب تک الٰہی مہرو ماہ و کوکب و اختر
رہے جب تک الٰہی اس زمین پر چرخِ زنگاری
میسسرخیرخواہوں کو تو عیشِ جاودانی ہو
ترے بدخواہ کو حاصل ہمیشہ ذلت و خواری

اے شہریارِ والاتبار، جب حجام نے حسن بدر الدین کو کرسی پر بٹھایا تو یکایک ایک تیز دھار استرا اس کے حلق پر جمایا اور یوں چلایا۔ ‘‘ایسے ہوتا ہے قتل۔’’
حسن بدرالدین کا کلیجہ منہ کو آیا، بڑا صدمہ اٹھایا۔ خوف سے گھبرایا، گھبرا کر چلایا۔ ‘‘یاالٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ نائی ہے یا اجل حجام کا بھیس بدل کر آئی ہے؟’’
یہ سن کر حجام نے استرا اٹھایا اور دانت نکوس کر بولا: ‘‘ڈر گئے؟ ہاہاہا!’’
حسن کو اس قدر غصہ آیا کہ قریب تھا کہ مارے غصے کے اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور سخت ست سنائے کہ حجام نے اطمینان سے استرا بند کر کے میز پر رکھا اور کہا: ‘‘وہ جو نئی فلم آئی ہے نا ‘‘مرڈر؟’’ اس میں ایک بندے کو ایسے قتل کرتا دکھاتے ہیں ۔مجھے بڑا شوق ہے ایکٹنگ کا۔ دن کی دو فلمیں ضرور دیکھتا ہوں۔ ایک انڈیا کی اور ایک انگلش۔ پھر جو سین سب سے زیادہ پسند آتا ہے اس کی پریکٹس کرتا ہوں۔ آپ کی فیورٹ ایکٹریس کون ہے سر؟’’
حسن نے بگڑ کر کہا: ‘‘تم اپنا کام کرو، تمہیں مجھ سے کیا سروکار ہے؟ تم نے اتنی دیر میں میرا کلیجہ پکا دیا اور سر پھرا دیا۔’’
حجام نے کہا: ‘‘بہت جلدی میں لگتے ہیں سر، خیریت تو ہے؟’’ پھر معنی خیزی سے سرگوشی میں بولا: ‘‘گرل فرینڈ سے ملنے جا رہے ہیں؟’’
حسن نے کہا: ‘‘اے بومِ شوم! یہ استرا اٹھا اور میرے حلق پر چلا۔ بندہ درگاہ اس حجامت سے باز آئے، تیری صحبت سے بہتر ہے کہ موت آئے۔’’
حجام نے اطمینان سے کہا: ‘‘استرے سے کون بال کاٹتا ہے سر؟ یہ تو میں نے بس لوگوں کو ڈرانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ہیئرکٹ کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ بھی مل جاتی ہے کسٹمر کو اور جب لوگ ڈرتے ہیں نا سر تو ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کو کٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بس اس لیے یہ استرا رکھ چھوڑا ہے۔ ورنہ میں ٹیکنالوجی کو کام میں لانا پسند کرتا ہوں۔ الیکٹرک شیور ہوتا ہے نا سر؟ اس سے کام لیتا ہوں، ہیئرکٹ کے لیے بھی اور داڑھی کے لیے بھی۔ ہر سٹائل کے لیے میرے پاس علیحدہ نمبر کی مشین ہے۔ بتائیے آپ کیا سٹائل بنوانا پسند کریں گے؟ رونالڈو کٹ، ڈیوڈ بیکہم کٹ، پیالہ کٹ، آرمی کٹ۔ آپ کی داڑھی میں جوئیں تو نہیں ہیں سر؟’’
اس اول جلول تقریر سے حسن اس قدر پریشان ہوا کہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص اس کے دماغ کے کیڑے تک چاٹ جائے گا اور قصہ ختم نہ ہونے پائے گا۔
حسن نے جیب سے پیسے نکالے اور کہا: ‘‘یہ پیسے رکھو اور میری گردن سے یہ کپڑا اتارو۔ اب میرا حجامت بنوانے کو جی نہیں چاہتا۔’’
حجام نے یہ سنا تو دکھی ہوکر کہا ۔ ‘‘کیا بات کرتے ہیں سر! ناراض کیوں ہوتے ہیں؟ آپ مجھے بے شک ایک پیسہ نہ دیں لیکن بغیر ہیئر کٹ کے میں آپ کو جانے نہ دوں گا۔ بلکہ میری طرف سے آفر ہے کہ ہمارا فیشل اور پیڈی کیور مینی کیور پروموشل آفر میں ٹرائی کریں۔ ففٹی پرسٹ آف۔ جو ایک مرتبہ میرے پاس آتا ہے، پھر کہیں نہیں جاتا۔ بڑے بڑے آرٹسٹ اور امیر وزیر میرے پاس آتے ہیں اور انعام دے کر جاتے ہیں۔ آپ کے اپنے فادر میرے فادر کے پاس آیا کرتے تھے۔ کہتے تھے فضل الٰہی میں ساری دنیا پھرا ہوں لیکن جیسی چمپی تم کرتے ہو، ویسی اور کوئی نہیں کرسکتا ۔آپ چمپی کرائیں گے سر؟’’
تنگ آکر حسن نے کہا۔ ‘‘تم بس صرف حجامت بناؤ اور اپنا راستہ لو۔ میرا سر نہ پھراؤ۔ معاف فرماؤ۔’’
حجام کمبخت نے اطمینان سے کہا۔ ‘‘اتنی جلدی میں کیوں ہیں سر؟ جلدی میں کبھی کام اچھا نہیں ہوتا۔ میں آپ کے لئے کولڈ ڈرنک منگواتا ہوں۔ تسلی سے بیٹھیں، گپ شپ کریں۔’’
حسن نے جھلا کر کہا۔ ‘‘بس بس تم اپنی گپ اور من ترانس رہنے دو۔ وقت ہاتھ سے جاتا ہے، نمازِ جمعہ کا زمانہ قریب آتا ہے۔ جس قدر جلد ممکن ہو حجامت بناؤ، دیر نہ لگاؤ۔ بعد از نمازِ جمعہ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ خبردار اب قصد لا یعنی سے با آ اور جلد خط بنا۔’’
یہ ڈانٹ سن کر حجام نے اپنی بیہودہ سرائی موقوف کی۔ ژاژخائی منسوخ کی اور قینچی اٹھا کر کچھ اٹکل پچو ہاتھ چلائے،کھٹ کھٹ کچھ بال کاٹے اور پھر ایک عجیب وضع کی چیز نکالی، اس کا کوئی پرزہ دبایا اور دم کے دم میں اس چیز کو حسن کی گدی پر جمایا۔ معاً اس میں سے گھُر گھُر کی صدائے کریہہ بلند ہو ئی اور حسن کی گدی پر پے درپے چرکے سے لگنے لگے۔
حسن گھبرا کر چلایا۔ ‘‘او بدبخت ناہنجار، بداعمال بدکردار، تو نائی ہے یا جلاد ہے؟یا چنگیز خان کا داماد ہے؟ حماقت کی آندھی ہے، میرے قتل پر کمر باندھی ہے؟’’
یہ کہہ کر چاہا کہ اس حجام لعین کو ٹالے، کسی طرح خود کو وہاں سے نکالے مگر وہ خرانٹ ، گرگ باراں دیدہ تاڑ گیا کہ کپڑا گلے سے نکال کر بھاگا جاتا ہے، پھر ہاتھ نہیں آتا ہے۔ جھپٹ کر حسن کی گردن میں ہاتھ ڈالا اور پہلوانوں کی طرح گردن بازو کے شکنجے میں کس لی۔
پچکار کر کہا۔ ‘‘پریشان کیوں ہوتے ہیں سر؟ لگتا ہے کبھی الیکٹرک شیو ر یوز نہیں کیا۔ اس لئے تو اتنا براہیر کٹ رکھا ہوا تھا۔ اب ذرا میرا کمال دیکھیں کہ کیا لک دیتا ہوں آپ کو۔ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں، سر کی شیپ بھی کتنی اچھی ہے۔ ایسے ویسے ہیر ڈریسر ز کے پاس جاجا کر آپ نے ستیاناس کرلیا ہے اپنی لکس کا۔’’
حسن صاحب نے جو دیکھا کہ اس پاجی کمینے کے پھندے سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں تو دم سادھ کر بیٹھ رہے۔ دل میں موقع کی تلاش میں تھے کہ یہ ذرا چو کے تو اس سے اپنے کو بچاؤں اور اس کی صحبت سے نجات پاؤں،مگر وہ بلا کی طرح چمٹا ہی رہا۔
بارے حجامت سے فراغت پائی تو حسن نے نظر اٹھائی۔ اب جو آئینے میں نظر پڑی تو آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس کے بال جو ہمیشہ خیالاتِ پریشاں کی طرح بے قابو رہتے تھے، اب اس سلیقے سے سرپر جمے تھے کہ کیا ہی کسی شاعر کامل فن کے مصرعے جمتے ہوں گے ۔
پہلے تو بالوں کی یہ صورت تھی کہ ہمہ وقت ماتھے پر گرے ہیں، کبھی گردن سے چمٹے ہیں تو کبھی داڑھی سے لپٹے ہیں۔ اور اب یہ صورت کہ سامنے کے بال لہریئے کی صورت میں پیچھے کو جاتے تھے۔ روشن پیشانی سے پردہ اٹھاتے تھے۔ داڑھی جو پہلے مانند ِجھاڑ جھنکاڑ تھی۔ اب مثل گلِ رخسار تھی۔ داڑھی کی لمبائی دو انگشت کے برابر، مونچھیں گویا دو سنکھ اول تا آخر ۔
اپنی صورت جو دیکھی تو حسن بدر الدین بے اختیار پکار اٹھا۔ ‘‘یہ میں ہوں؟ حسن بد ر الدین سوداگرزادہ؟ یا  کوئی  شہزادہ بلند ارادہ؟ سروقامت سہی بالا، ابروئے پیوستہ دیوان خوبی، مجسم رعنائی و خوش اسلوبی ، خندہ پیشانی، صاحب طبع نورانی۔ اے حجام، تیرے ہنر سے میں نے وہ صورت پائی ہے کہ خدا نے اپنی قدر ت ِکاملہ دکھائی ہے۔ تیری کاریگری پر مجھے بے حد استعجاب ہے، واللہ تیرا فن لاجواب ہے۔’’
جونہی یہ تقریر ختم ہوئی، پیچھے سے تالیاں بجنے کی آواز آئی۔ مڑ کر جو دیکھا تو ایک مردِ شریف کو کھڑا پایا جو آئینے میں حسن کو دیکھتا تھا اور بے اختیار تالیاں بجاتا تھا۔

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۳

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!