شریکِ حیات . قسط ۲

باب دوم

جتنا مشکل سوال تھا، اس سے کہیں زیادہ مشکل جواب لے کر آیا۔

کتنا مشکل ہوتاہے کسی کو یہ یقین دلاناکہ وہ سچ بول رہا ہے۔ کسی کو چھوڑنے سے پہلے یہ جھوٹ کہنا کہ چھوڑ کر نہیں جائوںگا ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا۔

اسے بھی یہی مشکل پیش آئی جب اس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”میں باہر جائوںگا مگر کچھ عرصے کے لیے ، صرف کام کے لیے جارہا ہوں ابا۔”

”چھوڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ ہی تو ہوتا ہے ۔تو یہاں رہ کر بھی کام کرسکتا ہے سارنگ، تجھے پتا ہے نا سب کو کس قدر تیرا انتظار تھا۔ سب تیرے لیے ترسے ہوئے تھے اور پھر گوٹھ کو تیری کتنی ضرورت ہے۔” وہ جو سوچ رہے تھے وہ سب کچھ سا رنگ سے کہنا چاہتے تھے مگر مجبور تھے۔ 

سارنگ کی ہلکی مسکراہٹ اب بھی تفکر میں نہ بدلتی تو کب بدلتی۔ ” فیصلوں سے پہلے سوچا جاتا ہے، تم نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچا نہیں ۔”

”میں نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے ابا سائیں اپنے اور آپ سب کے لیے۔”

”ہمارے مستقبل کے لیے ہم سب کے لیے۔جہاں اتنی ساری محنتیں کی ہیں، یہاں تک تو آگیا ہوں نا آپ کی دعا سے۔” 

”بہت لمبا انتظار سارنگ۔ بہت انتظار کیا ہے ہم سب نے پر اب نہیں۔ اب ڈسپنسری بسا،اپنے گوٹھ کی خدمت کر، اپنے لوگوں کو دیکھ۔ دیکھ کیسے سارے آس لگائے بیٹھے ہیں اور پھر ہم، ہم سب جوتارے گن گن کر راتیں کاٹتے ہیں تیرے لیے۔ ایک دفعہ پھر سے یہ انتظار بڑا اوکھا ہوجائے گا، اوّلاہوجائے گا۔”

سارنگ کی چپ کو چپ لگ گئی تھی، اک خاموشی روح کے ساتھ جڑ گئی۔ ابا کا لہجہ دیوار بن گیا تھا سخت دیوار!

اپنے لوگ، اُن کی محبتیں، ڈسپنسری، یہ سب اپنی جگہ، مگر ابا تھا، جس کا حکم ٹالنا دشوار تھا۔

چاچا نے سارنگ کے چہرے کو دیکھا اور چہرے پہ چھائی دھند کو دیکھا۔ 

دھند میں گم ہوتی ہوئی امید کو دیکھا، جب اس کی آنکھیں کچھ مرجھائیں تو وہ اپنی چارپائی سے اٹھا، چائے کی پیالی رکھ دی اور اس کے برابر آکھڑا ہوا۔

”سارنگ تو جائے گا،تو ضرور جائے گا۔ تو جو چاہتا ہے وہ کر، تجھے جو صحیح لگتا ہے، وہ ضروری ہی ہوگا۔”

حسن بخش نے خفگی اور احتجاجی انداز میں مولابخش کو دیکھا اور بولا۔ ”بغیر صلاح مشورے کے تونے کب سے فیصلوں پر مہر لگانا شروع کردی ہے؟” حسن بخش کے لہجے میں غصہ تھا۔

”اوبھا! او ادا!ٹھنڈا ہو،ادھر آ۔” کندھے پر بازو پھیلا کے اپنے ساتھ لگایا۔

”بہتے پانی کو روکا نہیں جاتا میاں۔ رستہ دیا جاتا ہے۔اسے روک نہیں، اسے رستہ دے۔وہ تیرے ہی کنارے آلگے گا۔” آہستہ سے اُکسایا۔

”او نہیں مولابخش۔ یار بڑا انتظار کیا ہے میں نے اب بہت مشکل ہے۔”

”اب کچھ مشکل نہیں ہے بھائو، مشکل تب تھا۔”

”اب تو آسان ہے،اب سارنگ ہمارے سامنے ڈاکٹر بن کر آیا ہے۔”

سارنگ نے سستی سے چائے اپنی ٹرے میں رکھ دی، ایک طرف ابا کی ضد اور دوسری طرف اس کا مستقبل تھا۔ سمجھ نہ آیا ابا کو مستقبل بنائے یا مستقبل کو ابا۔ ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ ابا مستقبل بن سکتا ہے یامستقبل ابا۔ دونوں کا اگر ٹکرائو ہو تو بڑا مشکل وقت آجائے گااور دونوں کا ٹکرائو ہونا ہی تھا۔

مولابخش حسن کو اپنے ساتھ لگاکر آگے بڑھ گیا۔ غالباً وہ خفا ہوکر کمرے کی طرف جانے لگا تھا۔ ”او دیکھ بھائو حسن۔ ہماری خوشی تھی اسے ڈاکٹر بنانا اور اس نے ہماری خوشی پر اپنی جان مٹا دی۔اب اس کی خوشی ہے باہر جانا، تو جان لگادے پر انکار نہ کر۔

سدرت المنتہی جیلانی

Read Previous

شریکِ حیات أ قسط ۱

Read Next

شریکِ حیات قسط ۳

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!