شریکِ حیات أ قسط ۱

باب اوّل

خواب دیکھنے کی عمر کچی ہوتی ہے۔

سندھیا تو کتنی پیاری ہے!

جو کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے کبوتروں کے پر گنتی ہے، پنجرہ کھول دیتی ہے، کبوتر اڑ جاتے ہیں ایک آواز کے ساتھ۔

مرغیوں کا ڈربہ کھول دیتی ہے، وہ صحن بھر میں پھرتی ہیں، ٹاں ٹاں کرتی ہوئی، تم سے پیار کرتی ہیں، تمہیں اپنی ماں سمجھتی ہیں۔

ہائے تم کتنی اچھی ہو۔ پریوں کی کہانیاں پڑھتی ہو اور پیارے پیارے خواب دیکھتی ہو۔

کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہو۔سندھیا تم تو سچ میں رانی ہو۔

تیرے لیے شہزادہ آئے گا دور سے۔

”پیاری سندھیا !تم کتنی اچھی ہو۔” کھڑکی میں بیٹھی چڑیا کہتی ہے اور پیاری سندھیا کے چہرے پر گلابیاں بکھر جاتی ہیں ۔ 

٭…٭…٭

سدرت المنتہی جیلانی

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

Read Next

شریکِ حیات – قسط ۲

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!