الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

 

چھٹی رات قصہ چہار درویش: عروسِ پری چہرہ و پری رُو، نسرینِ تن و قوسِ اَبرُو ملکہء شہرزاد یوں داستاں سرا ہوئی کہ اے سلطانِ جم مرتبہ، قدرِ قدرت، سنجر منزلت، کہانی حسن بدرالدین کی نے یہ موڑ لیا تھا کہ شہرِ مینو سواد لاہور کے ایک مقام بنامِ ایف سی کالج میں حسن بدر الدین کو قسمت نے پہنچایا تھا اور وہاں اس نے ایک سنسنان باغ بنامِ بوٹینکل گارڈن میں خود کو چار قلندر درویشوں کی مجلس میں پایا تھا۔ وہاں انہوں نے کسی سفوف کی بھری نلکی سلگا کر حسن کے منہ سے لگائی تھی، آتشِ شوق بھڑکائی تھی۔ اس کے کش لگانے سے ایسا سرور ہوا کہ رنج و غم دور ہوا۔ حسن نے سوچا خدائی نعمت ملی، دن کیا ہے، روزِ عید ہے۔ یہ جگہ خانہء امید ہے۔ اس راح روح ، کیمیا ئے فتوح کی دو تین مزید نلکیاں مل جائیں تو دنیا باغِ ارم بن جائے گی۔ ان چار درویشوں کی محبت نے اس کے دل میں جگہ پائی اور حسن بدر الدین کی خوب بن آئی۔پوچھا ’’تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو؟ یہاں کیونکر آنا ہوا اور کہاں جاتے ہو؟ مجھ سے اپنا سب حال بیان کرو اورکُل راز عیاں کرو، کہ تم مجھے دل و جان سے زیادہ عزیز ہو۔ اتنی ہی دیر میں معلوم ہوگیا کہ خوش سلیقہ و باتمیز ہو۔‘‘ یہ محبت بھری تقریر سن کر پہلے درویش نے جو حسن کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا اور جس کی چگی داڑھی کے بال سوئیوں کی طرح کھڑے تھے، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا:’’ہم میں سے ہر ایک کی ایک ایک کہانی ہے ۔ایسی عجیب و غریب کہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔ تمہارا اصرار ہے تو سناتے ہیں۔ وقت اچھا کٹ جائے گا۔ ویسے بھی میرے موبائل کی بیٹری لو ہے۔ اب کرنے کو کچھ نہیں۔ تو لو سنو میری کہانی۔‘‘

درد بھری کہانی، پہلے درویش کی زبانی:

پہلے درویش نے اپنی داستان یوں سنائی کہ میں ایک کلرک کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی طرف سے آئے تو بندہ جھیل جائے، جو انسان خود اپنے اوپر مصیبت ڈالے تو ا س کا کیا علاج؟ اللہ کی طر ف سے سات پشتوں نے غربت کے علاوہ کسی چیز کا منہ نہ دیکھا تھا لیکن قسمت نے موقع دیا اور میرے ابو سرکاری محکمے میں کلرک لگ گئے۔ لیکن ابو کو ایمانداری کی لاعلاج بیماری لگ گئی۔ جس گھر میں ہن برسن سکتا تھا، وہاں برسات کے موسم میں چھت ٹپکنے کے علاوہ کچھ نہ برسا۔ سونے پر سہاگہ، میرے ماں باپ نے مجھے انجینئر بنانے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ میں اور میری بہن دو ہی اولادیں تھیں لہٰذا سب ارمانوں کا نشانہ میں ہی بنا۔ بہن کو سرکاری سکول میں ڈالا گیا اور مجھے انگریزی سکول میں۔ میرے خرچے پورے کرنے کے لئے میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ اٹھتے بیٹھتے مجھے یہ سننے کو ملتا تھا کہ یہ ساری محنت و مشقت ا س لیے کی جارہی ہے تاکہ میں انجینئر بنوں اور نہ صر ف خاندان کا نام روشن ہو بلکہ سارے دکھ دلدردور ہوں اور بہن کی اچھی سی جگہ شادی ہوسکے۔ اور میں ؟ اب آپ سے کیا چھپانا یارو، مجھے انجینئرنگ میں خاک دلچسپی نہیں۔ انٹرسٹ ہے تو صرف ایک چیز میں: کھانااور صرف کھانا۔۔۔پکانا، پیش کرنا، سجانا، کھانا۔۔۔ مجھے کھانے سے متعلق ہر چیز سے عشق ہے۔ اپنے باپ سے چھپ کر تین محلے چھوڑ کر ایک تندو پر نوکری کرلی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، میں مزے سے تندور جاتا ، روٹیاں لگاتا اور وہاں کھانا پکتے دیکھتاا ور سیکھتا۔ ایک دن میرے باپ نے مجھے دیکھ لیا۔ اس دن میرا باپ بہت رویا۔ ماں بھی روئی، بہن بھی روئی۔ صرف میں نہیں رویا۔ میں نے ماں باپ سے صاف کہہ دیا کہ مجھے کمپیوٹروں سے نفرت ہے اور کھانے سے عشق۔ میں کمپیوٹر انجینئر نہیں شیف بننا چاہتا ہوں۔ صدمے سے میرے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔ وہ دن اور آج کا دن میں ان کے سامنے کھانا پکانے کا نام نہیں لیتا۔ ویسے یوٹیوب پر میں نے بہت سے کوکنگ چینل سبسکرائب کررکھے ہیں۔لیکن انہیں دیکھ دیکھ کربس آہیں بھرتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔ زبردستی کی انجینئرنگ گلے پڑی ہے ، نہ رکھی جاتی ہے نہ چھوڑی جاتی ہے۔ مزے کی با ت یہ کہ میری بہن کمپیوٹروں کی دیوانی ہے لیکن اس کو زبردستی کھانے پکانے پر لگایا جاتا ہے کہ آگے کام آئے گا۔ وہ میری سب کتابیں پڑھتی ہے ، میری اسائنمنٹس وہی بناکر دیتی ہے۔ اسی کی وجہ سے میں اب تک پاس ہوتا آیا ہوں۔ لیکن میرا دل مر گیا ہے۔ جب یہ سوچتا ہوں کہ ساری زندگی کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر گزارنی پڑے گی تو خودکشی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ پھر اپنے بوڑھے باپ اور بیمار ماں کا خیال آتا ہے تو رک جاتا ہوں۔ بس دوستو! اس غم کو بھلانے کے لئے ڈرگزلیتا ہوں۔ پھر یہ غم ستاتا ہے کہ ان ڈرگز کا خرچہ میری ماں اپنی ہڈیاں توڑ کر دے رہی ہے تو خود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس دکھ کو بھلانے کے لئے مزید ڈرگز لیتا ہوں۔ اور یوں یہ شیطانی چکر چلتا رہتا ہے جس میں میں پھنس گیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مردِ درویش رونے لگا، طنابِ ضبط کھونے لگا۔ بصد دقت آنسو پونچھے، اپنی نلکی کا آخری کش لگایا اور کہا۔ ’’یار ایک سگریٹ اور دینا۔‘‘پھر دوسرے درویش کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ’’اب تم اپنی داستان سناؤ۔‘‘

سارہ قیوم

سارہ قیوم: سارہ قیوم نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ بطور مصنف اپنا کیرئیر الف کتاب کے ساتھ شروع کیا۔ اب تک کے کریڈٹ پر دو ڈرامہ سیریلز، ایک ٹیلی فلم اور ایک کتاب شامل ہیں۔ اسکے علاوہ کئی افسانے اور کالم الف کتاب پر شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ "قرنطینہ ڈائری" اور "رمضان ٹرانسمیشن" میں بھی الف کتاب پر ان کے مقبول سلسلے رہے ہیں۔

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۴

Read Next

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!