پوپو کا عزم – ڈاکٹر بلّو بلونگڑا کا کلینک

ڈاکٹر بلّو بلونگڑا کا کلینک
پوپو کا عزم
نوید احمد خان

الف نگر میں آج بہت خوش گوار صبح تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا اپنا ٹریک سوٹ پہنے واک کررہے تھے۔ جب کافی دیر انہوں نے واک کرلی تو ایک بنچ پر بیٹھ گئے جہاں بچے کھیل رہے تھے۔
ڈاکٹر بلّو مسکراتے ہوئے انہیں دیکھنے لگے۔ وہ ”پکڑم پکڑائی“ کھیل رہے تھے۔ پوپو پانڈا بھاگ بھاگ کر سب کو پکڑنے کی کوشش کررہا تھا لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد اُس کا سانس پھول جاتا اور وہ رک کر ہانپنے لگتا۔ باقی بچے پوپو کا مذاق اُڑاتے۔
”پوپو بھائی! تم کوئی اور کام کرو، یہ تم سے نہیں ہوگا۔“ ببلو بندر نے کہا تو سب بچے ہنسنے لگے۔
”جب پوپو بھائی بھاگتے ہیں تو اِن کا پیٹ کیسے ہلتا ہے۔“ للّو لومڑ کی آواز پر سب نے قہقہہ لگایا۔ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا یہ سب سن رہے تھے۔ وہ اُٹھ کر بچوں کے پاس آگئے۔ بچوں نے انہیں سلام کیا۔ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا نے سلام کا جواب دیا اور پوپو پانڈا سے باتیں کرنے لگے۔
”دیکھیں نا ڈاکٹر انکل! یہ سب میرا مذاق اُڑا رہے ہیں۔“ پوپو نے منہ لٹکا کر کہا۔
”بھئی یہ تمہارا نہیں بلکہ تمہارے اس تھیلے کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔“ ڈاکٹر بلّو نے اُس کے پیٹ پر انگلی مارتے ہوئے کہا تو سب بچے کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
”ڈاکٹر انکل! آپ بھی میرا مذاق اُڑا رہے ہیں؟“ پوپو پانڈا اب واقعی رونے والا ہوگیا تھا۔
”بھئی کسی نے تمہارا مذاق نہیں اُڑایا بلکہ یہ تو تم خود ہو جس کی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔“ ڈاکٹر بلّو نے پیار سے کہا۔
”میں نے کیا کِیا ڈاکٹر انکل؟“ پوپو پانڈا اُترے ہوئے منہ سے بولا۔
”دیکھو بھئی! جب تم خود نہیں اپنا خیال رکھو گے تو دوسرے تمہارا خیال کیوں کریں گے؟ یہ جو تم خود اتنے موٹے ہوگئے ہو تو دوسرے تو کہیں گے نا۔“ ڈاکٹر بلّو نے بات شروع کی تو پوپو انہیں غور سے دیکھنے لگا۔
”ابھی تم چھوٹے ہو، چھوٹے بچے بہت Activeہونے چاہئیں۔ اگر اتنی سی عمر میں ہی تم اتنے موٹے ہو جاﺅ گے تو تمہیں اور بھی بہت سی بیماریاں لگ سکتی ہیں۔“ ڈاکٹر بلّوبلونگڑا نے اسے سمجھایا۔
”کون سی بیماریاں انکل؟“ پوپو نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے پوچھا۔
”ابھی تم بچے ہو لیکن یہی حالت رہی تو تمہیں بلڈ پریشر، شوگر اور ہائی کو لیسٹرول کی بیماریاں لگ سکتی ہیں۔“
”انکل! میں نے تو یہ بیماریاں کبھی نہیں سنیں۔“ پوپو معصومیت سے بولا۔
”بیٹا! یہ بہت خطرناک ہوتی ہیں۔ ان سے پھر دوسری بڑی بڑی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔“ ڈاکٹر بلّو بلونگڑا نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
”اوہ! بڑی بڑی بیماریاں! ڈاکٹر انکل میں اپنا یہ موٹاپا کیسے کم کرسکتا ہوں؟“ پوپو نے پریشان ہوتے ہوئے کہا تو ڈاکٹر بلّو بھی مسکرا دیے۔
”پوپو! یہ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ بس اگر تم یہ برگر، شوارمے، پیزا، سموسے اور بوتلیں وغیرہ چھوڑ دو، وقت پہ کھانا کھاﺅ، رات سونے سے پہلے کچھ نہ کھاﺅ، کھانے کے بعد پانی نہ پیو بلکہ کھانے سے پندرہ منٹ پہلے پی لو تو تم کامیاب ہوسکتے ہو۔“ ڈاکٹر بلّو نے اسے سمجھایا۔
”ڈاکٹر انکل! مجھے اتنا کچھ چھوڑنا پڑے گا؟“ پوپو اُداسی سے بولا۔
”پوپو بیٹا! یہ چیزیں نقصان دہ ہیں۔ اِن کے بجائے آپ پھل اور جوسز استعمال کرو۔ اس سے نہ صرف آپ ٹھیک ہو جاﺅ گے بلکہ آپ خود کو activeبھی محسوس کرو گے۔“ ڈاکٹر بلّو نے اسے نہایت تفصیل سے چیزوں کے فائدے اور نقصان بتائے۔
”اور ہاں! اگر دن میں تھوڑی دیر تم پارک میں واک کرلیا کرو تو تم اور بھی جلدی ٹھیک ہو جاﺅ گے۔“ ڈاکٹر انکل کی یہ بات سن کر وہاں موجود تمام بچے مسکرا دیے۔
”اور بچو! تم بھی خیال کرو۔ کسی کا دل نہیں دکھانا، چاہے وہ مذاق ہی میں ہو، یہ نہایت بری بات ہے۔“ ڈاکٹر انکل نے باقی بچوں کو بھی پیار سے سمجھایا۔
”سوری انکل! ہم آئندہ اس بات پر عمل کریں گے۔“ سب بچے ایک آواز میں بولے۔
”بلکہ میں اپنا وزن کم کرکے تم لوگوں کو بولنے کا موقع ہی نہیں دوں گا۔“
پوپو نے خوش ہوکر کہا تو وہاں کھڑے سبھی لوگ ہنس پڑے۔
٭….٭….٭

نوید خان

Read Previous

سوئ بار

Read Next

بال کی کھال

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!